BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 July, 2006, 08:37 GMT 13:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بمبئی دھماکے، فیصلہ دس اگست کو

1993 کے دھماکے
1993 کے بم دھماکوں سے پوری ممبئی دہل گئی تھی
ممبئی میں’ٹاڈا‘ کی ایک خصوصی عدالت کے جج پی ڈی کوڈے نے کہا ہے کہ ایک عشرے سے زیادہ چلنے والے انیس سو ترانوے کے بمبئی بم دھماکوں کے مقدمے کا فیصلہ دس اگست کو سنایا جائے گا۔

بارہ مارچ انیس سو ترانوے کو ممبئی (اس وقت کے بمبئی) میں تیرہ مقامات پر سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 257 افراد ہلاک اور 713 زخمی ہوئے تھے ۔ اس واقعے میں تقریباً تیس کروڑ روپے کی املاک تباہ ہوگئی تھیں۔

سرکاری وکیل اجول نگم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ تیرہ سال کی طویل مدت کے بعد یہ فیصلہ سنایا جائے گا لیکن اس فیصلے سے دہشت گردوں کو ایک سبق ضرور ملےگا۔ انہوں نے فیصلے میں تاخیر کی ذمہ داری وکلائے صفائی پر عائد کی۔

وکیلِ صفائی فرحانہ شاہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں کئی ایسے ملزم ہیں جو شاید مقررہ سزا سے بھی زیادہ وقت جیل میں گزار چکے ہیں اور وہ عرصے سے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ فرحانہ بم دھماکوں کے زیادہ تر ملزمان کا کیس لڑ رہی ہیں۔

1993 میں بمبئی سٹاک ایکسچینج میں دھماکے کے بعد کا منظر

1993 کے بم دھماکوں سے پوری ممبئی دہل گئی تھی اور اس کیس کی سماعت کے لیئے حکومت نے ایک خصوصی عدالت کی تشکیل کی تھی جس کے جج جے این پٹیل مقرر ہوئے تھے لیکن بعد میں جسٹس پی ڈی کوڈے کو اس عدالت کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ پولیس نے یہ کیس سی بی آئی کے سپرد کر دیا تھا اور اس معاملے میں ایک سو پینتیس ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا جن میں سے ایک سو تئیس ملزمان کے خلاف نو ہزار صفحات پر مشتمل فردِ جرم عائد کی گئی ہے ۔ تیرہ ہزار صفحات پرگواہیاں درج ہوئیں جن میں سے چھ ہزار صفحات کی گواہی کو کیس میں شامل کیا گیا۔

کیس کے اختتام کے قریب اٹھارہ ملزمان کا کیس لڑنے والے سینئر وکیلِ صفائی نتن پردھان نے خود کو کیس سے الگ کر لیا اور اب تمام ملزمان کی وکیل فرحانہ ہیں۔

ممبئی بم دھماکوں میں فلم سٹار سنجے دت بھی ایک ملزم ہیں۔ ان پر غیر قانونی طور پر اے کے 47 رائفل رکھنے کا الزام ہے جو انہیں مبینہ طور پر مافیہ سرغنہ ابو سالم نے دی تھی۔ ابو سالم بھی اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں اور ان پر بم دھماکے کا مقدمہ الگ سے چلایا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد