BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 October, 2005, 01:03 GMT 06:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا
ارن گپتہ کہتے ہیں انہوں نے گلیوں میں خون میں لت پت لاشیں دیکھیں
دلی میں ہفتے کو تین مختلف دھماکوں میں پچاس سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ یہ دھماکے دلی کے مصروف ترین بازار میں ہوئے جب وہاں لوگوں کو ہجوم تھا۔ کچھ لوگوں نے دھماکوں کو انتہائی قریب سے ہوتے ہوئے دیکھا ان میں سے ایک ارن گپتہ تھے۔

ارن گپتا نے بی بی سی کو بتایا کے وہ دھماکوں کی جگہ سے محض پینتالیس میٹر کے فاصلے پر تھے۔

’اچانک مجھے کانوں کو بہرہ کر دینے والی آواز آئی۔ میں ایک دم سے نیچے جھکا۔ جب دھواں صاف ہوا تو میں نے بہت سے لوگوں کو ادھر ادھر بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ’میں اس طرف بڑھا جہاں سے آواز آئی تھی۔ اور سڑک پر خون میں لت پت لاشیں دیکھیں، ہرطرف پریشانی کا عالم تھا‘۔

عینی شاہدین نے کیا دیکھا
 ہر طرف لوگوں کی بھیڑ تھی۔ میں نے تین جلی ہوئی لاشیں دیکھیں جنہیں سٹریچر پر ڈال کر دھماکے کے مقام سے دور لے جایا جا رہا تھا
بی بی سی کے نامہ نگار

ارن گپتہ نے کہا کہ ’دھماکے بہت ہی برے وقت پر ہوئے ہیں۔ دیوالی تین دن بعد ہے اور اس کے بعد سیاحوں کا موسم شروع ہو جاتا۔‘

امیت گولانی سروجھنی نگر میں خریداری کر رہے تھے کہ اچانک دھماکے کی آواز آئی۔ وہ کہتے ہیں ’وہاں بہت رش تھا کیونکہ لوگ دیوالی کی شاپنگ کرنے آئے ہوئے تھے۔ دھماکہ ہوا اور لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ دھواں دائروں کی شکل میں آسمان کی طرف اٹھ رہا تھا۔ فوراً ہی وہاں آگ لگ گئی جس کے شعلے آسمان کو چھونے لگے۔ میرے ساتھ میری والدہ اور بہن تھیں اور میری پہلی کوشش یہ تھی کہ میں انہیں بچاؤں۔‘

دکاندار بنسی لال نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے کوشش کی کہ وہ اس دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی مدد کر سکیں مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔’میں نے دو غیر ملکیوں کو دیکھا جن کے جسم آگ کے شعلوں سے لپٹے ہوئے تھے اور وہ مجھ سے مدد کی بھیک مانگ رہے تھے۔ مگر میں حواس باختہ تھا میں ان کے لیے کچھ نہ کر سکا۔

لوگوں نے سمجھا کہ زلزلہ آگیا اور ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا

بابو لال خاندیلوال بھی ان دھماکے کے عینی شاہد ہیں۔ ان کی پہاڑ گنج میں دکان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دھماکے کی شدت سے وہ زمین پر گر گئے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انہون نے کہا کہ ’ہر طرف کالا دھواں تھا۔ جب دھواں چھٹا تومیں نے خون میں لت پت لوگوں کو دیکھا اور لوگ زمین پر گرے ہوئے تھے‘۔

اسرائیلی سیاح رائے سینگر نے بی بی سی کی ویب سائٹ کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کناٹ پیلس میں تھے جو یہاں سے پانچ میٹر دور ہے۔

’ہمیں دھماکوں کی آواز آئی اور ٹیکسی ڈرائیور نے ہمیں گلی کے باہر اتار دیا اور ہم اپنے گیسٹ ہاؤس تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگے‘۔

بی بی سی کے پال ڈینہر کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے بعد ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ ’ہر طرف لوگوں کی بھیڑ تھی۔ میں نے تین جلی ہوئی لاشیں دیکھیں جنہیں سٹریچر پر ڈال کر دھماکے کے مقام سے دور لے جایا جا رہا تھا۔‘

اسی بارے میں
دلی دھماکوں کی وڈیو
29 October, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد