BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 August, 2006, 13:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ پتہ نہیں میرا مستقبل کیا ہوگا‘

عذیر
عذیر اپنے مستقبل کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہتا ہے
وہ اب مسکراتا نہیں ہے۔ جب وہ صرف چھ سال کا تھا اس نے دیکھا کہ ایک روز پولیس اس کے ابُا کو لے گئی تھی۔ اس کے بعد پولیس اکثر تلاشی کے نام پر دیر رات گئے گھر آتی ۔امُی سے پوچھ گچھ کرتی، سامان الٹ پلٹ کرتی ۔اس طرح تین برس گزر گئے اس کے ابُا گھر نہیں آئے اور حالات اس کے اس کے مخالف ہوتے چلے گئے۔

یہ سانحہ انیس سال کے عذیر شیخ کے ساتھ پیش آیا۔ اس کے والد عزیز شیخ کو ممبئی پولیس انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کر کے لے گئی تھی۔ شاید اسی کے ساتھ عذیر کا بچپن بھی۔

آج عذیر شہر کے نامور کالج میں پڑھتا ہے لیکن وہ عام بچوں جیسا نہیں ہے۔

عذیر کہتا ہےکہ ’ جب بھی پولیس گھر آتی میں سہم جاتا تھا۔ اس رات نیند نہیں آتی تھی۔ راستے میں پولیس کو دیکھ کر ڈر لگتا تھا ۔یہ خوف آج بھی کہیں اندر موجود ہے‘ ۔

اس حادثہ کے بعد عذیر کی دنیا بدل گئی۔ اس نے اپنی ماں کو چند روپیوں کے لیے ترستے دیکھا تھا ۔ وہ سکول سے جب بھی گھر آتا اس نے اپنی ماں کو دوسرے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے دیکھتا۔

 عذیر کہتا ہےکہ ’ جب بھی پولیس گھر آتی میں سہم جاتا تھا۔ اس رات نیند نہیں آتی تھی۔ راستے میں پولیس کو دیکھ کر ڈر لگتا تھا ۔یہ خوف آج بھی کہیں اندر موجود ہے‘ ۔

عذیر کہتا ہے کہ ’ میری ماں تین شفٹوں میں بچوں کو پڑھاتی تھیں کیونکہ ہمیں پیسوں کی ضرورت رہتی تھی ۔میری فیس ادا کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے‘۔

عذیر کا ایک مرتبہ سکول میں اپنے دوست عیسٰی سے جھگڑا ہو گیا۔ عیسٰی نے طنز کیا کہ اس کا باپ جیل میں ہے۔ پھر سب بچے ہنسنے لگے ۔عزیر نے
کہا کہ ’ مجھے بہت غصہ آیا۔ میں نے اسے بہت مارا اور اس کا منہ پھوڑ دیا ۔ بات پرنسپل تک پہنچی لیکن انہوں نے سزا نہیں دی۔ صرف مجھے اور عیسٰی کو ڈانٹا۔ آج عیسیٰ میرااچھا دوست ہے‘ ۔

عذیر کی امی کہتی ہیں کہ وہ پہلے پڑھائی میں بہت تیز تھا لیکن اب امتحان میں اس کے نمبر کم آتے ہیں۔ عذیر کہتا ہے وہ پڑھنا چاہتا ہے لیکن وہ جو کچھ پڑھتا ہے اکثر بھول جاتا ہے۔

عذیر نے بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد متسوبیشی کمپنی میں ملازمت کی درخواست دی تھی کیونکہ اس کے والد اب کام نہیں کر سکتے اور ماں آج بھی گھر میں بچوں کو ٹیوشن دیتی ہیں۔ عذیر کو اس وقت دکھ ہوا جب پتہ چلا کہ اسے یہ ملازمت نہیں مل سکتی کیونکہ اس کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔

عذیر نے ایک سال قبل پاسپورٹ کی درخواست دی تھی۔ لیکن اسے پاسپورٹ نہیں ملا۔ تفتیش کرنے پر پولیس نے بتایا کہ بم دھماکے کے ملزمین کے گھر والوں کو پاسپورٹ نہیں مل سکتا ۔ مجبوراً عذیر نے دوبارہ پڑھائی شروع کر دی ۔

عذیر کے والد عزیز ان دنوں ضمانت پر رہا ہیں۔ عزیز پولیس کے اس رویہ سے ناخوش ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’ اس طرح تو ہماری پوری نسل تباہ ہو جائے گی۔ بچوں نے آخر کیا بگاڑا ہے‘۔

عزیز پولیس کے اس فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کرنا چاہتےہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کے لیے انہیں کم سے کم بیس ہزار روپے چاہیئے۔ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں ۔

عذیر بہت کم گو ہے ۔وہ زیادہ کسی سے بات نہیں کرتا۔ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہے ۔ وہ اپنی ماں کے دکھ دور کرنا چاہتا ہے ۔ اپنے اباُ کے لیے دعا کرتا ہے کہ وہ اس مقدمہ سے با عزت بری ہو جائیں۔ وہ اپنے اباُ کی
ذمہ داریاں کم کرنا چاہتا ہے اور ان سب کے درمیان اس کا بچپن اور اس کی جوانی کی شوخیاں سب کچھ کہیں گم ہو گئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد