BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 September, 2006, 16:22 GMT 21:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی: گتھیاں جو سلجھی نہیں

ممبئی
پولیس نے دھماکوں کے بعد ’سیمی‘ کے خلاف کارروائی شروع کر دی تھی
ممبئی کے پولیس کمشنر اے این رائے نے گیارہ جولائی کے ٹرین بم دھماکوں کی سازش کا پردہ فاش کرنے کا دعوی سنیچر کے روز پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا۔ لیکن کئی ایسی گتھیاں ہیں جو ابھی سلجھی نہیں ہیں۔

گیارہ جولائی کو جب ٹرین دھماکے ہوئے تھے اس وقت پولیس کے پاس کوئی سراغ نہیں تھا کہ یہ دھماکے کس تنظیم نے کرائے یا اس کے پیچھے ملکی یا غیر ملکی کسی تنظیم کس ہاتھ ہے۔ خود پولیس کمشنر نے آج اس بات کا اعتراف کیا۔

ممبئی میں گیارہ جولائی کے بم دھماکوں کے لیئے چند منتخب اخبارات نے لشکرطیبہ کا نام لینا شروع کیا لیکن فوری طور پر نیوز ایجنسی میں ایسی خبریں آئیں کہ لشکر طیبہ نے ان دھماکوں میں اپنا ہاتھ ہونے سے انکار کیا ہے۔

جو افراد بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے ان میں صرف ایک لاش ایسی بچی تھی جسے کوئی لینے نہیں آیا۔ سائن ہسپتال میں آدھی لاش کا چہرہ بھی پوری طرح مسخ ہو چکا ہے۔ ہسپتال ذرائع کی مطابق چند لوگ اس لاش کو لینے آئے تھے لیکن جب ان سے ثبوت مانگا گیا تو وہ پھر پلٹ کر نہیں آئے۔

پولیس ابھی تک اس لاش کا معمہ حل نہیں کر سکی تھی اور اس نے شک ظاہر کیا تھا کہ شاید یہ کوئی دہشت گرد ہی ہوگا جس کی ان دھماکوں میں موت ہو گئی۔ سنیچر کو پولیس کمشنر نے کہا کہ مرنے والا شخص پاکستانی تھا اور اس کا نام سلیم تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ انٹاپ ہل پر پولس مڈبھیڑ میں جو شخص مارا گیا وہ پاکستان کا رہنے والا تھا اس کا نام محمد علی عرف ابو اسامہ تھا۔ پولیس نے اس وقت کہا تھا کہ وہ ایک شخص کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے لیکن وہ پاکستانی شہری اب کہاں ہے اس بابت پولیس نے اپنے لب سی لیئے ہیں۔

پولیس کمشنر نے آج کہا کہ فیصل اور ڈاکٹر تنویر سمیت چند افراد بہاولپور تربیت کے لیئے گئے تھے لیکن ڈاکٹر تنویر کی والدہ اور ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق وہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے کہیں نہیں گئے تھے۔

پولیس نے غیر قانونی تنظیم ’سیمی‘ کے سابقہ اراکین کو گرفتار کرنا شروع کیا تھا۔ اس دوران دھماکوں کی تفتیش کرنے والے انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے سربراہ کے پی رگھوونشی نے ذرائع ابلاغ سے خود کہا تھا کہ انہیں یہ پتہ نہیں دھماکے کس تنظیم نے کئے ہیں وہ صرف کڑیاں جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پولیس کمشنر نے آج دعویٰ کیا کہ انہیں شروع سے ہی پتہ تھا اور وہ ان کی تفتیش اسی ایک لائن پر چل رہی ہے۔

دھماکے کے بعد سیمی کے خلاف تفتیشی ایجنسیوں نے کارروائی کی تھی لیکن وہ کہتی تھیں کہ انہیں لشکر طیبہ پر شک تھا تاہم ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ لیکن آج اچانک پولیس کمشنر نے پاکستان کی خفیہ تفتیشی ایجنسی آئی ایس آئی کا نام لیا اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایجنسی کے خلاف ثبوت موجود ہے۔

اسی بارے میں
ہمیں انصاف کب ملے گا ؟
13 September, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد