BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 September, 2006, 12:05 GMT 17:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دھماکے آئی ایس آئی کی سازش‘

ممبئی
’بم دھماکوں کے بعد کوئی سراغ نہیں تھا لیکن وہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے‘
ممبئی پولیس کمشنر اے این رائے نے کہا کہ گیارہ جولائی کے ٹرین بم دھماکے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، لشکر طیبہ اور ایک تنظیم سیمی کے کارکنان کی سازش کا نتیجہ ہیں۔

پاکستان نے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ انڈیا نے ان الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان کے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے کہا ہے کہ ’ہم ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر بھارت کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو ہمیں فراہم کریں‘۔

پولیس کمشنر انامی رائے نے بم دھماکوں کی سازش کو سلجھا لینے کا دعویٰ کرتے ہوئے سنیچر کو ایک پُرہجوم پریس کانفرنس میں کہا کہ اس سازش کا آغاز مارچ کے مہینے میں ہوا تھا۔ کمشنر کے مطابق پاکستان سے تین مختلف ٹیمیں علیحدہ راستوں سے ممبئی پہنچیں اور دو پاکستانیوں کو انڈیا کے کمال الدین انصاری نے نیپال کے راستے ممبئی پہنچایا۔

کمشنر کے مطابق پانچ پاکستانیوں پر مشتمل دوسرے گروپ کو کولکتہ سے عبدالماجد انڈیا لائے جبکہ تیسرا گروپ گجرات کے راستے آیا۔ اس طرح گیارہ پاکستانی ممبئی پہنچے۔

پولیس کمشنر کا کہنا تھا کہ اس گروپ کو ممبئی میں لشکر طیبہ کے اہم رکن فیصل شیخ نے ملاڈ، باندرہ، بوریولی اور ممبرا میں رکھا۔ کمشنر کے مطابق احسان اللہ پندرہ سے بیس کلو آر ڈی ایکس اپنے ساتھ لے کر آئے تھے اور بم بنانے کے لیئے امونیم نائیٹریٹ ممبئی سے خریدا گیا تھا۔

تربیتی کیمپ
 گرفتار شدہ پندرہ لوگوں میں سے کئی ملزمان پاکستان کے شہر بہاولپور میں اعظم چیمہ کے تربیتی کیمپ میں تین سے چار مرتبہ تربیت کے لیئے جا چکے ہیں
پولیس کمشنر
کمشنر نے بتایا کہ ممبئی میں گوونڈی کے شیواجی نگر جھوپڑ پٹی کے علاقے میں ایک گھر میں آٹھ نو اور دس جولائی کو بم بنائے گئے۔ دو الگ دکانوں سے پریشر ککر خریدے گئے۔ ہر پریشر کوکر میں ڈھائی کلو آر ڈی ایکس اور ساڑھے تین کلو امونیم نائیٹریٹ اور اس کے ساتھ ٹائمر لگا کر بم رکھا گیا۔

پولس کمشنر رائے نے بتایا کہ بم ٹرین میں رکھنے کے لیئے ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی رکن پر مشتمل ٹیم بنائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ چرچ گیٹ سٹیشن میں داخل ہوتے ہی پلیٹ فارم نمبر دو اور تین پر پہلا ڈبہ چونکہ فرسٹ کلاس کا آتا ہے اس لیئے انہوں نے بم کو اسی ڈبے میں رکھا۔

کمشنر کا کہنا تھا کہ بم رکھنے کے بعد سب اتر گئے لیکن ایک پاکستانی شخص کی لاش موجود ہے جو ٹرین سے اتر نہیں پایا اور اس دھماکہ میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس کمشنر کے مطابق اس شخص کا نام سلیم ہے جو لاہور کا رہنے والا ہے۔

کمشنر رائے کے مطابق جو گیارہ پاکستانی ممبئی پہنچے تھے ان میں ایک سلیم کی موت ٹرین دھمکوں میں ہوئی اور دوسرے محمد علی عرف ابو اسامہ ابو عمید کو پولس نے انٹاپ ہل میں خفیہ اطلاع کے بعد پولیس مڈ بھیڑ میں ہلاک کیا تھا۔

کمشنر کے مطابق بقیہ نو پاکستانی یا تو فرار ہو چکے ہیں یا پھر کہیں روپوش ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک گیارہ جولائی بم دھماکوں میں پندرہ افراد کو گرفتارکر لیا ہے لیکن مزید تین سے چار افراد کی تلاش جاری ہے۔ کمشنر کا کہنا تھا کہ اب تک گرفتار پندرہ میں سے تین افراد کو شاید رہا کر دیا جائے کیونکہ ان کا کردار ان دھماکوں میں ثابت نہیں ہوا ہے۔

پولیس کمشنر رائے نے انکشاف کیا کہ ممبئی میں لشکر طیبہ کے رکن فیصل شیخ، ڈاکٹر تنویر (سیمی کے رکن )، فیصل کے بھائی مزمل شیخ اور کمال الدین کے نارکو انیلیسیز ٹیسٹ کی وجہ سے ہی اس کیس کی گتھیاں سلجھی ہیں۔ کمشنر کے مطابق گرفتار شدہ پندرہ لوگوں میں سے کئی ملزمان پاکستان کے شہر بہاولپور میں اعظم چیمہ کے تربیتی کیمپ میں تین سے چار مرتبہ تربیت کے لیئے جا چکے ہیں۔ اعظم کے بارے میں ممبئی پولیس کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر ہیں۔

پولیس کمشنر نے یہ ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی نے لشکر طیبہ، سیمی اور جیش محمد کے اراکین کو ساتھ ملا کر ممبئی دھماکوں کی سازش بنائی تھی۔ ان کا مقصد تجارتی دارالحکومت میں انتشار پھیلانا تھا۔

ان دھماکوں کے لیئے فنڈ کے بارے میں کمشنر نے بتایا کہ پاکستان سے پیسے سعودی عرب میں رہنے والے رضوان ڈاورے کے پاس پہنچے تھے اور وہ سعودی ریال حوالہ کے ذریعہ فیصل شیخ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق چھبیس ہزار ریال فیصل کو مل چکے تھے اور بڑی رقم آنے والی تھی۔ کمشنر کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش فیصل نے بتایا کہ اب تک اسے ساٹھ لاکھ روپے مل چکے ہیں۔

پولیس کمشنر نے اس بات کی وضاحت کی کہ بم دھماکوں کے بعد کوئی سراغ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ وہ ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی فون کے ذریعہ پتہ چلا کہ کوئی نیپال کی سرحد پر بار بار فون کر رہا ہے اور اسی نمبر سے سراغ ملنے کے بعد ہی پولیس نے مدھو بنی سے کمال الدین انصاری کو گرفتار کیا۔

گرفتارشدہ تمام ملزمان کے خلاف مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ( مکوکا ) کے تحت کیس درج کیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل کا کہنا تھا کہ وہ ان دھماکوں کے مقدمہ کے لیئے تیز رفتار عدالت قائم کریں گے اور دیکھیں گے کہ دو سال کے اندر فیصلہ ہو جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد