BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 July, 2006, 12:35 GMT 17:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی دھماکے اور حیدرآباد: دکن ڈائری

ممبئی کے بم دھماکوں کے بعد تلاشی کے سلسلے میں کئی افراد کو پکڑا گیا
ممبئی کے بم دھماکے اور حیدرآباد

دہشت گردوں نے دھماکے ممبئی میں کیئے لیکن حیدرآباد میں ردعمل کچھ ایسا تھا کہ جیسے خدانخواستہ یہی شہر نشانہ بنا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے شہر کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا اور ہر طرف تلاشی کی مہم شروع ہوگئی۔ جو بھی مشتبہ نظر آیا دھر لیا گیا اور ہر عوامی مقام پر اور خاص طور پر ریلوے سٹیشنوں پر سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی۔

حیدرآباد میں عسکری سرگرمیوں کی تاریخ پندرہ برس پرانی ہے جن کے لیئے پولیس، پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، لشکر طیبہ اور ایسی ہی دوسری تنظیموں کو ذمہ دار قرار دیتی رہتی ہے۔ کئی مرتبہ پاکستانی شہریوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ان میں سے ایک محمد سلیم جنید حیدرآباد کی جیل میں آٹھ برس گزارنے کے بعد حال ہی میں رہا ہوا اور اسے اس وقت وشاکھاپٹنم کے بیرونی شہریوں کے مرکز میں رکھا گیا ہے تاکہ کاغذی کارروائی کی تکمیل کے بعد اسے پاکستان واپس بھجوایا جاسکے۔

پاکستانی صوبے پنجاب میں کالا گجراں گاؤں سے تعلق رکھنے والا سلیم جنیدغیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوا تھا اور اس نے حیدرآباد میں 1995 میں ایک لڑکی سے شادی کرلی تھی اور یہیں بس گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ دو دوسرے پاکستانیوں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر دھماکے کی سازش کر رہا تھا۔

حیدر آباد
حیدرآباد میں عسکری سرگرمیوں کی تاریخ پندرہ برس پرانی ہے

حیدرآباد میں تازہ ترین حملہ گزشتہ اکتوبر میں ہوا تھا جبکہ ایک خودکش بمبار نے پولیس کے ٹاسک فورس آفس میں گھس کرخود کو اڑالیا تھا۔ اس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ پولیس نے اس واقعہ کے لیئے بنگلہ دیش سے سرگرم عسکری تنظیموں کو ذمہ دار قرار دیا تھا کیونکہ مرنے والا ایک بنگلہ دیشی شہری تھا۔

ممبئی کے بم دھماکوں کے بعد تلاشی کا جو سلسلہ شروع ہوا تو اس میں کئی افراد کو پکڑا گیا۔ پوچھ گچھ پر ان میں سے ایک تو چھوٹا موٹا چور نکلا جبکہ دوسرا مہاراشٹرا کے ایک ہوٹل کا ملازم جسے بعد میں رہا کردیا گیا۔ البتہ تلاشی کی اس مہم کا اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ تیرہ برس سے مطلوب ایک مبینہ دہشتگرد بھی گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شخص محمد جاوید عرف پرویز 1993 میں حیدرآباد میں چھوٹے چھوٹے دھماکوں کیلیئے ذمہ دار تھا اور اس وقت سے وہ بنگلہ دیش اور سعودی عرب میں قیام کے بعد حال ہی میں واپس آیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی کے دھماکوں کے بعد کئی وجوہات کی بنا پر خاص توجہ حیدرآباد کی سکیورٹی پر دے رہے ہیں۔

ایک تو یہ شہر کئی عسکری تنظیموں کے نشانے پر ہے دوسرے حیدرآباد اور آندھرا پردیش کے کئی نوجوانوں کو بھرتی کرکے پاکستان اور بنگلہ دیش میں تربیت دی گئی ہے اور ان میں سے کئی ابھی لاپتہ ہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ حیدرآباد میں معاشی اور دفاعی اہمیت کے حامل ایسے کئی مراکز ہیں جن پر دہشت گرد حملہ کرسکتے ہیں ۔

بنگلور کے سائنس انسٹیٹیوٹ پر حملہ کے لیئے نلگڈہ کے عبدالرحمٰن کو گرفتار کیا گیا

سیکورٹی ایجنسیوں کی نگاہ میں حیدرآباد کی حیثیت کافی مشتبہ ہوگئی ہے کیونکہ ملک کے کسی بھی حصے میں ہونے والے بڑے دہشت گرد حملے کے تار کسی نہ کسی طرح اس شہر یا ریاست سے آملتے ہیں چنانچہ بنگلور میں جب انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس پر حملہ ہوا تو اس کے لیئے نلگنڈہ کے ایک شہری عبدالرحمٰن کو گرفتار کیا گیا۔ گجرات کے سابق وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل کے سلسلے میں حیدرآباد کے آٹھ لوگ گجرات کی جیل میں قید ہیں۔ واراناسی میں بم دھماکے کے بعد حیدرآباد کا ہی غلام یزدانی دلی میں پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔

اس طرح کے واقعات کی فہرست کافی طویل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی اور مرکزی سکیورٹی ایجنسیاں ممبئی کے بم دھماکوں کی تحقیقات کے روابط حیدرآباد میں بھی ڈھونڈھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ قابل ذکر مسلم آبادی والے اس شہر کو سکیوریٹی ایجنسیوں نے حساس شہر قرار دے دیا ہے۔

ناکامی کے باوجود عزائم بلند

گزشتہ ہفتے سری ہری کوٹہ جزیرے سے داغے گئے جی ایس ایل وی راکٹ اور انسیٹ 4 سی مصنوعی سیارے کی تباہی سے ہندوستانی خلائی پروگرام کو دھچکہ ضرور لگا ہے لیکن سائنسدانوں نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ ابھی اس حادثے کی قطعی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے لیکن پھر بھی سائنسداں اگلی لانچنگ کی تیاری میں مصروف ہیں۔

انسیٹ 4
اگلی لانچنگ ستمبر کے مہینے میں ہوگی

تروننتاپورم میں واقع وکرم سارا بھائی سپیس سنٹر کے ڈائریکٹر بی این سریش کا کہنا ہے کہ پروگرام کے مطابق اگلی لانچنگ ستمبر کے مہینے میں ہوگی جبکہ ایک پولار سیٹلائٹ لانچ وہیکل یا راکٹ تین مصنوعی سیارے لے کر خلاء میں جاۓ گا۔ اس میں انڈونیشیا کا ایک سیٹلائٹ اور ہندوستان کے دو سیٹلائٹ شامل ہیں۔

سریش کا کہنا تھا کہ جی ایس ایل وی راکٹ کی ناکامی کا ایک بڑا سبب اس کی چار موٹروں میں سے ایک کی ناکامی تھی جبکہ پی ایس ایل وی میں اس طرح کی کوئی موٹر استعمال نہیں ہوتی اس لیئے مجوزہ لانچ میں کسی دشواری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ایجنسی 2008 میں چاند پر انسانی مشن بھیجنے کے مجوزہ منصوبے کے تحت اس میں بھی یہی پی ایس ایل وی راکٹ استعمال کیا جائے گا۔

پولیس والے کو تھوکنا مہنگا پڑا

ہندوستان میں عوامی مقامات پر تھوکنا ایک قومی مشغلے سے کم نہیں ہے۔ لوگ کسی بھی وقت کسی بھی مقام پر تھوک سکتے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ اس کا نشانہ کون بن رہا ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے، لیکن ایک پولیس کانسٹیبل کو یہی حرکت بہت مہنگی پڑی کیونکہ اس نے اپنے تھوک کو طلباء کے ایک مظاہرے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ انجینئرنگ کالجوں کی ٹیوشن فیس میں اضافے کے خلاف ریاست گیر مظاہروں کے ایک حصے کے طور پر جب ورنگل میں بھی طلباء نے مظاہرہ کیا تو پولیس والوں نے پہلے ان طلباء کو بے دردی سے مارپیٹ کی اور ان میں سے ایک کانسٹیبل کے ایس راؤ نے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے ایک طالب علم پر تھوک دیا۔

یہ منظر ٹیلی ویژن پر دیکھنے کے بعد ریاست کے ڈائرکٹر جنرل پولیس سورنجیت سین نے فورًا اس کانسٹیبل کو معطل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے اس حرکت کو انتہائی غیر مہذبانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پولیس کی بہت بدنامی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد