ممبئی دھماکے، پولیس بھی مجرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے انیس ترانوے کے بم دھماکوں میں ملوث پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی مجرم قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں آٹھ پولیس اہلکاروں پر الزام تھا کہ انہوں نے دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار رائےگڑھ سے ممبئی پہنچانے میں مدد کی تھی، لیکن عدالت نے ناکافی ثبوت کی بناء پر تین پولیس والوں کو بری کردیا ہے۔ مارچ سنہ انیس سو ترانوے میں ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً سات سو لو گ زخمی ہوئے تھے۔ سب انسپکٹر وجے پاٹل کے ساتھ ساتھ انسپکٹروں اشوک ملوشیور، پی ایم مہدک، رمیش مالی اور ایس وائی پاشلکر کو عدالت نے قصور وار ٹھہرایا ہے۔ ان افسروں کو پہلے ہی معطل کیا جاچکا ہے۔ انہیں ٹاڈا کے تحت دہشت گردوں کی مدد کا قصوروار پایا گیا ہے۔ ان پولیس اہلکاروں پر الزام تھا کہ انہوں نے آر ڈی ایس اور ہتھیاروں سے بھری بس کو کسٹم سے نکلنے میں مدد کی تھی۔ عدالت نے انہیں دہشت گردی میں مدد کرنے کے الزام کے ساتھ ساتھ سات لاکھ روپے کی رشوت لینے کا بھی قصور وار پایا ہے۔ ان پولیس والوں نے ایک دوسرے ملزم اتم پودار سے ساتھ لاکھ روپے بطور رشوت وصول کیئے تھے۔ اس سلسلے میں سب انسپکٹر وجۓ پاٹل کو پانچ برس تک حراست میں رکھنے کے بعد ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ منگل کو تمام پولیس والے عدالت میں حاضر ہوئے تھے جس کے بعد مجرموں کو پھر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ٹاڈا کی خصوصی عدالت نےانیس سو ترانوے کے بم دھماکوں کا فیصلہ اس ماہ کی بارہ تاریخ کو سنانا شروع کیا تھا اور اب تک ایک درجن سے زائد لوگوں کو اس سلسلے میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے لیکن ابھی تک کسی بھی مجرم کی سزا طے نہیں کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ممبئی: 1993 کے دھماکوں پر فیصلے12 September, 2006 | انڈیا فرقہ وارانہ فسادات: متاثرین کو انصاف ملےگا؟ 21 September, 2006 | انڈیا بم دھماکے1993: مجرم نو ہو گئے21 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکہ : عبدالغنی قصوروار 19 September, 2006 | انڈیا ہمیں انصاف کب ملے گا ؟13 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||