BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 September, 2006, 10:03 GMT 15:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بم دھماکے1993: مجرم نو ہو گئے

فائل فوٹو
ترانوے کے دھماکوں میں 257 افراد ہلاک جبکہ 713 زخمی ہوئے تھے۔
ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے93 کے بم دھماکوں میں ایک اور ملزم پرویز نذیر احمد شیخ کو مجرم قرار دیاہے۔

جمعرات کو جب عدالت شروع ہوئی تو پرویز کو حاضر کیا گیا جو بیس مارچ انیس سو ترانوے سے اب تک جیل میں قید ہیں۔

عدالت اب تک نو ملزمان کو مجرم قرار دے چکی ہے لیکن ابھی سزا کا تعین نہیں کیا گیا۔

پرویز پر الزام تھا کہ انہوں نے انیس سو ترانوے میں تین اور سات فروری کے دوران اسلحہ اور دھماکہ خیز اشیاء کے حصول میں مدد کی اور سندھیری گاؤں اور بھورگھاٹ میں اسلحہ چلانے کی تربیت لی تھی۔

اس کے علاوہ پرویز پر ٹائیگر میمن کی الحسینی بلڈنگ میں کاروں اور سکوٹر میں آر ڈی ایکس رکھنے اور انہیں مختلف مقامات پر پہنچانے اور پھر ایک سکوٹر کو ممبئی کے مصروف بازار ’کاتھا مارکیٹ‘ میں کھڑا کرنے کا الزام تھا۔ سکوٹر میں لگایا گیا بم دوپہر دو بج کر پندرہ منٹ پر پھٹ گیا تھا جس میں سی بی آئی کے مطابق چار افراد ہلاک اور اکیس زخمی ہوئے تھے۔ پرویز پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے سوٹ کیس میں آر ڈی ایکس بھر باندرہ کے سی راک ہوٹل پہنچائے تھے۔

جسٹس پرمود دتاتریہ کوڈے نے پرویز کو سندھیری گاؤں میں تربیت لینے اور اسلحہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے الزام سے بری کردیا لیکن باقی تمام الزامات کا مرتکب قرار دیا۔

پرویز ایسے دوسرے ملزم ہیں جن پر بم دھماکہ کی سازش کا الزام ثابت ہوا ہے عدالت نے اس سے قبل مجرم شاہنواز قریشی کو سازش کا مجرم قرار دیا تھا۔

’یہ میرے بس میں نہیں‘
 ایک ملزم نے کہا: ’بم دھماکے بابری مسجد انہدام اور فرقہ وارانہ فسادات کا نتیجہ تھے۔ اب سب کچھ آپ کے سامنے ہے اصل گناہ گار بھاگے ہوئے ہیں۔ اگر ہم گناہ گار ہیں تو سرہ کرشنا کمیشن نے جنہیں گناہ گار قرار دیا ہے انہیں بھی لا کر سزا دو‘۔ اس پر جج نے کہا: ’یہ میرے اختیار میں نہیں ہے‘
ایک مالزم اور جج کی مکالمہ

جمعرات کر عدالت میں مجرم عبدالغنی ترک نے اپنی صفائی اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دہشت گرد نہیں ہیں، کوئی بھی مسلمان دہشت گرد نہیں ہے، میں اچھا انسان تھا اور ٹیکسی چلاتا تھا، میری زندگی اچھی طرح گزر رہی تھی کہ چھ دسمبر کو بابری مسجد شہید کر دی گئی۔ اس کے بعد فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ چاروں طرف مسلمانوں کو مارا گیا، کوئی ہماری بات سننے والا نہیں تھا۔ پولیس سٹیشن میں بھی ہماری رپورٹ درج نہیں کی جاتی تھی۔ مجبور ہو کر اس کے بدلے ممبئی میں یہ بم دھماکے ہوئے۔ اب چودہ سال گزر چکے ہیں اور آج بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے‘۔

عبدالغنی نے عدالت میں اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’سری کرشنا کمیشن رپورٹ (فسادات کی تحقیقاتی رپورٹ) میں بھی یہی جواز دیا گیا ہے کہ بم دھماکے بابری مسجد انہدام اور فرقہ وارانہ فسادات کا نتیجہ تھے۔ اب سب کچھ آپ کے سامنے ہے اصل گناہ گار بھاگے ہوئے ہیں۔ اگر ہم گناہ گار ہیں تو سری کرشنا کمیشن نے جنہیں گناہ گار قرار دیا ہے انہیں بھی لا کر سزا دو‘۔ اس پر جج نے کہا: ’یہ میرے اختیار میں نہیں ہے‘۔

عبدالغنی نے مزید کہا کہ ’جب تک انڈیا میں ہندؤں مسلمانوں کے درمیان کی خلیج اور فرقہ وارانہ منافرت کم نہیں ہوتی یہ سب چلتا رہے گا‘۔

غنی نے پوچھا کہ: کیا یہ گناہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ انڈیا ہمارا ملک ہے اور ہم یہیں رہیں گے‘۔ آخر میں جج سے رحم کی درخواست کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی سزا کم سے کم کی جائے کیونکہ ان کی ماں 80 سال کی ضعیف ہیں اور ان کی دو بیٹیاں شادی کے لائق ہو چکی ہیں۔

عذیر93 دھماکے کی یاد
’پتہ نہیں میرا مستقبل کیا ہوگا‘
فائل فوٹوبمبئی بم دھماکے
تیرہ برس کی تفتیش کا نچوڑ
شمس النساءمیرا بیٹا بےگناہ ہے
’شک کی بنیاد پر گرفتار کرنا ناانصافی ہے‘
عامر خانعامر خان کہتے ہیں
دھماکے بزدلانہ فطرت کا نمونہ ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد