بم دھماکے1993: مجرم نو ہو گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے93 کے بم دھماکوں میں ایک اور ملزم پرویز نذیر احمد شیخ کو مجرم قرار دیاہے۔ جمعرات کو جب عدالت شروع ہوئی تو پرویز کو حاضر کیا گیا جو بیس مارچ انیس سو ترانوے سے اب تک جیل میں قید ہیں۔ عدالت اب تک نو ملزمان کو مجرم قرار دے چکی ہے لیکن ابھی سزا کا تعین نہیں کیا گیا۔ پرویز پر الزام تھا کہ انہوں نے انیس سو ترانوے میں تین اور سات فروری کے دوران اسلحہ اور دھماکہ خیز اشیاء کے حصول میں مدد کی اور سندھیری گاؤں اور بھورگھاٹ میں اسلحہ چلانے کی تربیت لی تھی۔ اس کے علاوہ پرویز پر ٹائیگر میمن کی الحسینی بلڈنگ میں کاروں اور سکوٹر میں آر ڈی ایکس رکھنے اور انہیں مختلف مقامات پر پہنچانے اور پھر ایک سکوٹر کو ممبئی کے مصروف بازار ’کاتھا مارکیٹ‘ میں کھڑا کرنے کا الزام تھا۔ سکوٹر میں لگایا گیا بم دوپہر دو بج کر پندرہ منٹ پر پھٹ گیا تھا جس میں سی بی آئی کے مطابق چار افراد ہلاک اور اکیس زخمی ہوئے تھے۔ پرویز پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے سوٹ کیس میں آر ڈی ایکس بھر باندرہ کے سی راک ہوٹل پہنچائے تھے۔ جسٹس پرمود دتاتریہ کوڈے نے پرویز کو سندھیری گاؤں میں تربیت لینے اور اسلحہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے الزام سے بری کردیا لیکن باقی تمام الزامات کا مرتکب قرار دیا۔ پرویز ایسے دوسرے ملزم ہیں جن پر بم دھماکہ کی سازش کا الزام ثابت ہوا ہے عدالت نے اس سے قبل مجرم شاہنواز قریشی کو سازش کا مجرم قرار دیا تھا۔
جمعرات کر عدالت میں مجرم عبدالغنی ترک نے اپنی صفائی اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دہشت گرد نہیں ہیں، کوئی بھی مسلمان دہشت گرد نہیں ہے، میں اچھا انسان تھا اور ٹیکسی چلاتا تھا، میری زندگی اچھی طرح گزر رہی تھی کہ چھ دسمبر کو بابری مسجد شہید کر دی گئی۔ اس کے بعد فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ چاروں طرف مسلمانوں کو مارا گیا، کوئی ہماری بات سننے والا نہیں تھا۔ پولیس سٹیشن میں بھی ہماری رپورٹ درج نہیں کی جاتی تھی۔ مجبور ہو کر اس کے بدلے ممبئی میں یہ بم دھماکے ہوئے۔ اب چودہ سال گزر چکے ہیں اور آج بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے‘۔ عبدالغنی نے عدالت میں اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’سری کرشنا کمیشن رپورٹ (فسادات کی تحقیقاتی رپورٹ) میں بھی یہی جواز دیا گیا ہے کہ بم دھماکے بابری مسجد انہدام اور فرقہ وارانہ فسادات کا نتیجہ تھے۔ اب سب کچھ آپ کے سامنے ہے اصل گناہ گار بھاگے ہوئے ہیں۔ اگر ہم گناہ گار ہیں تو سری کرشنا کمیشن نے جنہیں گناہ گار قرار دیا ہے انہیں بھی لا کر سزا دو‘۔ اس پر جج نے کہا: ’یہ میرے اختیار میں نہیں ہے‘۔ عبدالغنی نے مزید کہا کہ ’جب تک انڈیا میں ہندؤں مسلمانوں کے درمیان کی خلیج اور فرقہ وارانہ منافرت کم نہیں ہوتی یہ سب چلتا رہے گا‘۔ غنی نے پوچھا کہ: کیا یہ گناہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ انڈیا ہمارا ملک ہے اور ہم یہیں رہیں گے‘۔ آخر میں جج سے رحم کی درخواست کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی سزا کم سے کم کی جائے کیونکہ ان کی ماں 80 سال کی ضعیف ہیں اور ان کی دو بیٹیاں شادی کے لائق ہو چکی ہیں۔ |
اسی بارے میں ممبئی دھماکے: ایک اور ملزم قصوروار 14 September, 2006 | انڈیا بمبئی دھماکے، فیصلہ دس اگست کو27 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے:مقدمہ لڑنےسےانکار21 July, 2006 | انڈیا دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے13 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||