ممبئی دھماکے: ایک اور ملزم قصوروار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1993 میں ہونے والے ممبئی کے بم دھماکوں میں خصوصی عدالت نے ایک اور ملزم کو مجرم قرار دیا ہے۔ عدالت نے محمد شعیب گھنسار نامی شخص کو چودہ میں سے بارہ الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔ پولیس اور سی بی آئی نے جو فرد جرم عائد کی تھی اس کے مطابق گھنسار نے 12 مارچ انیس سو ترانوے کو ممبئی شہر کے مشہو زیورات کے بازار میں ایک سکوٹر کھڑا کیا تھا جس میں آر ڈی ایکس، امونیم نائٹریٹ اور پنسلن ٹائمر پر مشتمل ایک بم رکھا تھا۔ فرد جرم کے مطابق اس بم دھماکے میں سترہ افراد ہلاک اور ستاون زخمی ہوئے تھے۔ شعیب گھنسار کو دھماکوں کے چند روز بعد ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت شعیب کی عمر 23 سال تھی اور یہ فیصلہ سنائے جانے تک وہ ممبئی کی جیل میں قید تھے۔ سرکاری وکیل اجول نکم نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے سے مطمعئن ہیں اور انہوں نے عدالت سے گھنسار کو جلد از جلد سزا سنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دو روز قبل عدالت نے ان دھماکوں کے سلسلے میں میمن خاندان کے چار افراد کو قصور وار قرار دیا تھا۔ گھنسار اور میمن خاندان کے لوگوں کے لیئے سزا طے کرنے کے لیئے عدالت ميں بحث بعد دوپہر شروع ہو گی۔ سی بی آئی اور پولیس کے مطابق ٹائیگر میمن نے سرغنہ داؤد ابراہیم، انیس ابراہیم، انور تھیبا، جاوید چکنا، محمد ڈوسا طاہر ٹکلیا اور دیگر کے ساتھ مل کر دھماکوں کی سازش دبئی کے ایک ہوٹل میں تیار کی تھی۔ ملزموں میں فلم اسٹار سنجے دت بھی شامل ہیں۔ ان پر غیرقانونی طور پر اسلحہ رکھنے کا الزام ہے جو فرد جرم کے مطابق انہیں ابوسالم نے فراہم کیا تھا۔ اس معاملے میں سنجے دت ڈیڑھ برس جیل میں گزار چکے ہيں اور اس وقت ضمانت پر رہا ہیں۔ ممبئی دھماکوں میں 123 افراد ملزمان ہیں جن کے خلاف عدالت کو فیصلہ سنانا ہے۔ عدالت ملزمان کے بارے میں ایک ایک کر کے سنائے گی۔ |
اسی بارے میں بمبئی دھماکے، فیصلہ دس اگست کو27 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے:مقدمہ لڑنےسےانکار21 July, 2006 | انڈیا دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے13 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||