BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 September, 2006, 09:47 GMT 14:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہمیں انصاف کب ملے گا ؟

فسادات کے متاثرہ عبدالخالق اب تک انصاف کے منتظر
انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے مقدمہ کا فیصلہ بارہ ستمبر سے سنایا جا رہا ہے لیکن اس سے قبل ممبئی شہر میں ہی بڑے پیمانے پر ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین آج بھی انصاف کے لیئے ترس رہے ہیں۔

چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی شہر میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے جس میں سرکاری رپورٹ کے مطابق نوسو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔کروڑوں روپے کی املاک تباہ ہوئی تھی۔

ایودھیا میں چھ دسمبر انیس سو بانوے میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ حکومت نے اس وقت ان فسادات کی تفتیش کے لیئے جسٹس سری کرشنا کی سربراہی میں ایک تفتیشی کمیٹی تشکیل دی۔

کمیٹی نے پانچ سال کے دوران 502 گواہان کے بیانات 9655 صفحات پر قلمبند کئے۔ پندرہ ہزار صفحات کی دستاویز بنی۔ اس کے بعد جسٹس نے سولہ فروری 1998 میں سفارشات کے ساتھ حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ اس وقت شیو سینا اور بی جے پی کی متحدہ حکومت تھی جنہوں نے رپورٹ کو ہندوؤں کے خلاف یکطرفہ قرار دے کر مسترد کر دیا۔

شاید وہ دن کبھی آئے۔۔
 ٹاسک فورس کی جانب سے ایک حوالدار ان کے پاس آیا تھا جس نے ان کا بیان قلمبند کیا ۔مجگاؤں عدالت میں سماعت بھی ہوئی لیکن اب ایک سال ہو چکا ہے اور انصاری انتظار کر رہے ہیں کہ شاید وہ دن کبھی آئے جب انہیں اور ان جیسے ہزارہا فساد متاثرین کو بھی انصاف ملے۔

اس رپورٹ میں جسٹس سری کرشنا نے تاریخی اور آنکھیں کھول دینے والے حقائق بیان کیئے تھے۔ انہوں نے پولیس کو معتصب بتایا۔ جسٹس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف پولیس کا معتصبانہ رویہ ان کی زیادہ تر اموات کا سبب بنا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آٹھ فروری انیس سو ترانوے سے شیو سینا اور ان کے رہنماؤں نے منظم طریقے سے مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے تھے۔

کمیشن نے اعلٰی پولیس افسران سمیت بارہ پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیا لیکن حکومت نے ان کے خلاف کارروائی کے بجائے ان میں سے بیشتر کو ترقی دی۔

سلمان عثمان بیکری کے قریب مدرسہ دارالعلوم محمدیہ میں فائرنگ کے ذمہ دار افسر ، جوائنٹ کمشنر آر ڈی تیاگی کو حکومت نے اس کے بعد پولیس کمشنر بنا دیا۔

کانگریس حکومت نے ریاستی الیکشن میں وعدہ کیا کہ اگر وہ برسر اقتدار آئے تو سری کرشنا کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد ہو گا۔ حکومت کو کامیابی ملی۔ حکومت نے خصوصی ٹاسک فورس کی تشکیل بھی کی۔ کے پی رگھوونشی کو اس کا سربراہ بنایا گیا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ چند کیس دوبارہ کھولے گئے لیکن ایک بار پھر ان کی فائلیں یوں ہی دھول چاٹ رہی ہیں اور لوگ انصاف کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ رگھوونشی اب انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ بنا دیئے گئے اور خصوصی ٹاسک فورس کا دفتر سنسان ہو گیا ہے۔

فسادات کے دوران ہتھیار رکھنے کے الزام میں فلم اسٹار سنجے دت پر مقدمہ چلا ، وہ جیل بھی گئے اور فیصلہ کی گھڑی بھی آئی لیکن وہیں شیوسینا رہنما سرپوتدار کو فوج نے اسلحہ کے ساتھ گرفتار کیا ، کمیشن نے انہیں قصووار قرار دیا لیکن ان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔

مجرموں کی ترقی
 کمیشن نے اعلٰی پولیس افسران سمیت بارہ پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیا لیکن حکومت نے ان کے خلاف کارروائی کے بجائے ان میں سے بیشتر کو ترقی دی۔

ان فسادات میں دو سو افراد کو گمشدہ قرار دیا گیا۔ وہ اپنے خاندان کے اکیلے روزی کمانے والے تھے۔ ان کے ورثاء سے ثبوت مانگا جا رہا ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ گھر بار تو فسادیوں نے پھونک ڈالا۔

دارالعلوم محمدیہ میں گھس کر فائرنگ کرنے والے پولس افسران کو حکومت نے بے گناہ قرار دیا لیکن اس میں زخمی افراد آج بھی عدالتی کارروائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

ممبئی کے مجگاؤں علاقہ میں کپڑوں کے ایک چھوٹے سے کارخانہ کے مالک عبدالحق انصاری ان ہزارہا متاثرین میں سے ایک ہیں جن کے کارخانے کو فسادیوں نے لوٹ لیا اور پھر اسے آگ لگا دی۔

انصاری آج بھی انصاف کے لیئے ترس رہے ہیں ۔انصاری کا کہنا ہے کہ جن کے خلاف انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی ، جب ان کی دھمکیاں ملنے لگیں تو مجبور ہو کر انہوں نے اپنے خاندان کو اپنے آبائی وطن گوونڈہ منتقل کر دیا کیونکہ انہیں خوف ہے کہ کہیں ان کے گھر والوں کے خلاف پھر کوئی سازش نہ کی جائے ۔ خاندان کو وطن منتقل کرنے کے بعد انہوں نے مجگاؤں چھوڑ کر دھاراوی میں ایک نیا کارخانہ بنایا ۔

انصاری کو سیاست اور سیاسی لیڈران پر افسوس ہوتا ہے ۔ ان کے مطابق یہ سب انسانی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں‘۔

انصاری کہتے ہیں جب حکومت نے ایک بار پھر ان فسادات کے کیس کی دوبارہ جانچ شروع کرنے کے لیئے سپیشل ٹاسک فورس کی تشکیل کی تو ان میں ان کا بھی کیس شامل تھا لیکن انصاری کے مطابق اس کے بعد سے انہیں دھمکی بھرے فون موصول ہونے لگے کہ وہ ٹاسک فورس میں جا کر بیان نہ دیں۔

انصاری کا کہنا ہے اس کے بعد ٹاسک فورس کی جانب سے ایک حوالدار ان کے پاس آیا تھا جس نے ان کا بیان قلمبند کیا ۔مجگاؤں عدالت میں سماعت بھی ہوئی لیکن اب ایک سال ہو چکا ہے اور انصاری انتظار کر رہے ہیں کہ شاید وہ دن کبھی آئے جب انہیں اور ان جیسے ہزارہا فساد متاثرین کو بھی انصاف ملے۔

سنجے دتملزم نمبر 117
بم دھماکہ کیس کے ملزم سنجے دت
شمس النساءمیرا بیٹا بےگناہ ہے
’شک کی بنیاد پر گرفتار کرنا ناانصافی ہے‘
عذیر93 دھماکے کی یاد
’پتہ نہیں میرا مستقبل کیا ہوگا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد