BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 July, 2006, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
داؤد، مبینہ کمپلیکس منہدم

اس شاپنگ کمپلیکس میں 300 دکانیں تھیں
ممبئی میونسپل کارپوریشن نے جنوبی ممبئی میں عدالت کے حکم کے بعد سارا نامی شاپنگ کامپلیکس کو منہدم کرنا شروع کر دیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ کامپلیکس مبینہ طور پر مافیہ سرغنہ داؤد ابراہیم کی بے نامی جائیداد ہے۔

ممبئی کا کروفورڈ مارکیٹ کا علاقہ کپڑوں اور الیکٹرانک اشیاء کا مصروف بازار ہے۔ یہاں غیرملکی سامان کی بہت سی دکانیں ہیں۔ اتوار کی صبح سے ہی اس علاقہ میں زبردست سکیورٹی کا بندوبست تھا۔ تین سو افراد پر مشتمل عملہ اس کامپلیکس کی انہدامی کاروائی میں مصروف ہے۔

آٹھ سال پہلے تعمیر ہوئے سارا کامپلیکس میں تقریبا پونے تین سو دکانیں تھیں۔ دکاندار اس انہدامی کارروائی سے بہت ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اسے قانونی درجہ دے کر ہزارہا لوگوں کو بے روزگار ہونے سے بچا سکتی تھی۔ توڑ پھوڑ سے بچنے کے لیے دکانداروں نے عدالت سے بھی رجوع کیا تھا لیکن عدالت نے ان کی اپیل کو خارج کر دی تھی۔

سپریم کورٹ میں بھی اپیل دائر ہے لیکن عدالت نے اس انہدام پرحکم امتناع نہیں دیا تھا۔

دکاندار بےروزگار ہوگئے
 تین سال پہلے جب پولیس نے اس کامپلیکس کو غیرقانونی قرار دیا تو میری بہن نے یہاں سے اپنی دکان فروخت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کوئی خریدار نہیں تھا اب وہ خالی ہاتھ ہیں اور باقی کی زندگی کے لیے فکرمند ہیں۔
منصور عمر درویش
انہدام کی جگہ موجود منصور عمر درویش نے بتایا کہ سارا کامپلیکس میں ان کی بہن مریم حبیب کے نام سے الیکٹرانک اشیاء کی دکان تھی۔ ’تین سال پہلے جب پولیس نے اس کامپلیکس کو غیرقانونی قرار دیا تو انہوں نے اسے فروخت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کوئی خریدار نہیں تھا اب وہ خالی ہاتھ ہیں اور باقی کی زندگی کے لیے فکرمند ہیں۔‘

ممبئی کے مضافات میں بوریولی کے رہنے والے پربھو پروہت یہاں کرایہ پر موبائل فون کی دکان چلاتے تھے ۔ان کی ایک بچی ہے اور وہ اب بےروزگار اور قرضدار ہوچکے ہیں۔

ایسی کئی کہانیاں ہیں۔ وہاب انصاری چاہتے تھے کہ ممبئی سے باہر الہاس نگرکی تمام غیر قانونی عمارتوں کو حکومت نے جیسے قانونی درجہ دے دیا تھا اسی طرح اگر اسے بھی قانونی درجہ مل جاتا تو بہت سے لوگ سڑک پر نہیں آتے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ زمین سینٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کی ہے اور اس پر مبینہ طور پر داؤد ابراہیم نے قبضہ کیا تھا۔ زمین کو کسی عبدالرحمن عرف رحمان باس کے نام سے خریدا گیاتھا۔

پولیس کے مطابق تین سال انہوں نے داؤد ابرہیم کے بھائی اقبال کاسکر اور عبدالرحمن کی گفتگو ٹیپ کی تھی جس سے اس کامپلیکس کے غیر قانونی ہونے کا پتہ چلاہے۔اقبال کاسکراور عبد الرحمن اس وقت جیل میں ہیں اور ان پر اسی زمین کا مقدمہ چل رہا ہے۔

پولیس تفتیش کے بعد ممبئی میونسپل کارپوریشن کے گیارہ افسران بھی شک کے دائرے میں آئے تھے جنہوں نے اس کامپلیکس کو بنانے کی اجازت دی تھی۔ محکمۂ جاتی تفتیش کے بعد چند افسران کو بھی مکوکا قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

پولس ریکارڈ کے مطابق مافیہ سرغنہ داؤد ابراہیم کی ملک میں کئی بے نامی جائیداد ہیں۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کی وجہ سے انہیں سیل کردیاگیا ہے اور ان کی کئی مرتبہ نیلامی بھی کی گئی لیکن ڈر اور خوف کی وجہ سے کوئی خریدار سامنے نہیں آيا ہے۔

داؤد ابراہیم کی یہ مبینہ جائیداد دوسری عمارت ہے جس کا انہدام ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے ڈپٹی میونسپل کمشنر جی آر کھیرنار نے ناگپاڑہ میں داؤد ابراہیم کی بیوی مہ جبین کے نام سے بنی عمارت کو منہدم کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد