BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 January, 2006, 07:57 GMT 12:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی حج ہاؤس کے پیش امام گرفتار

ممبئی میں واقع حج ہاؤس
ممبئی میں پولیس کے مطابق انسداد دہشت گردی عملہ (اے ٹی ایس) نے حج ہاؤس کے پیش امام غلام محمد یحٰی کو شہر میں لشکر طیبہ کے مبینہ دہشت گردوں کی مدد کرنے اور اس کے ممبران کو مالی امداد کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کرلیا ہے۔

ممبئی کا حج ہاؤس وہ عمارت ہے جہاں سے حاجیوں کو حج کے لیے روانہ کیا جاتا ہے اور حج کے دوران یہاں پورے بھارت سے حاجی آتے ہیں۔ اس کی تیسری منزل پر مسجد ہے جہاں امام غلام نماز پڑھاتے تھے۔

اے ٹی ایس کے جوائنٹ پولس کمشنر کے پی رگھوونشی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے پیش امام کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا کے بارے میں انہیں گرفتار ملزمین سے تفصیلات کا پتہ چلا ہے۔

اے ٹی ایس نے ممبئی کے ناگپاڑہ علاقہ سے جمعہ چھ جنوری کو لشکر طیبہ کے مبینہ تین ممبران کو بم بنانے کے سامان کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ پولیس کمشنر اے این رائے نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ رمضان عبدالقاضی، خورشید احمد عرف لالہ اور ارشد غلام حسین بدرو شہر میں دہشت گردی کے مقصد سے آئے تھے۔

رگھونشی کے مطابق رمضان نے دوران تفتیش بتایا تھا کہ انہیں شہر کے ایک باعزت شخص سے ملاقات کرنے اور ان سے ہدایت لینے کے لیے کہا گیا تھا اور وہ باعزت شخص یہی مولانا ہیں۔

چوالیس سالہ مولانا بنگال کے رہنے والے ہیں اور انیس سو چھیانوے سے ممبئی کے حج ہاؤس میں امامت کر رہے تھے۔

اے ٹی ایس اسکواڈ کے سینئر پولیس انسپکٹر سنیل دیشمکھ نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا کو ابھی عدالت میں پیش کیا جارہا ہے اور عدالت سے پولیس حراست ملنے کے بعد بہت سی باتوں کا خلاصہ ہوگا۔

دیشمکھ نے بتایا کہ انہیں شبہ ہے کہ مولانا کو رقم ’حوالہ‘ کے ذریعہ ملتی تھی اور اس کی جڑیں لشکر کے کمانڈر ان چیف صلاح الدین سے ملی ہوئی ہیں۔ مولانا ممبئی میں ڈونگری کے چکالا علاقہ کی لوکھنڈ والا بلڈنگ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔

جوائنٹ پولس کمشنر (نظم و نسق) اروپ پٹنائیک نے بی بی سی کو بتایا کہ حالانکہ ایک امام کی گرفتاری نہایت افسوسناک امر ہے لیکن اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ ہر امام کو اب پولیس غلط نظر یا شک و شبہ کے ساتھ دیکھے گی، بالکل اسی طرح جیسے ایک پولیس سب انسپکٹر کی گرفتاری یا اس کا برا فعل پورے پولیس فورس پر دھبہ نہیں ہو سکتا۔

بھارتی حکومت لشکر طیبہ کے اراکین کو دہشت گردی پھیلانے کے لیے ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہے اور ممبئی کےاعلی پولیس افسران کے مطابق شمالی بھارت کے بعد اب جنوبی بھارت میں لشکر نے اپنے پیر پھیلانے شروع کر دیے ہیں اور اس میں بنگلور اور ممبئی ان کے نشانے پر ہیں۔

اسی بارے میں
بنگلور میں ریڈ الرٹ
30 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد