مہیش بھٹ کو ابو سالم کا نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مافیا سرغنہ ابو سالم نے معروف فلمساز و ہدایت کار مہیش بھٹ کو ایک قانونی نوٹس جاری کر کے فلم گینگسٹر پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس فلم کی کہانی خود مہیش بھٹ نے لکھی ہے۔ ابو سالم کا کہنا ہے کہ بھٹ گروپ کی نئی فلم ’گینگسٹر‘ ان کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہےاور اس میں انہیں مافیا سرغنہ دکھایا گیا ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو گینگسٹر نہیں سمجھتے ہیں۔ لیکن فلم کے پروڈیوسر مکیش بھٹ کا کہنا یہ فلم ایک فکشن ہے اور کسی کی حقیقی زندگی پر مبنی نہیں ہے۔ ابو سالم کا کہنا ہے کہ ابھی ان پر کئی مقدمات چل رہے ہیں اوراس طرح کی فلم ان کے کیس پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اپنی نوٹس میں سالم نے مہیش بھٹ سے فلم کے پرنٹس کو فورا ضائع کرنے یا پھر اس فلم کو ان کے وکیل اشوک سروگی کے حوالے کرنے کے لیئے کہا ہے۔اس نوٹس کا جواب چوبیس گھنٹوں کے اندر طلب کیا گیا ہے۔ مہیش بھٹ کے وکیل مجید میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس قانونی نوٹس کا جواب دے دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم گینگسٹر کا ابوسالم کی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اوریہ پوری کہانی خیالی ہے۔ مسٹر میمن نے کہا کہ فلم کی شروعات میں ہی پردے پرایک نوٹس دکھایاگیا ہے جس میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی کی زندگی یا واقعات سے فلم کی مماثلت اتفاقیہ ہوسکتی ہے کیونکہ یہ حقیقی زندگی یا حالات سے متاثر ہو کر نہیں بنائی گئی ہے۔ فلم کے کردار اور واقعات مکمل طور پر فرضی ہیں۔ فلم گینگسٹر ایک ایسے کردار کی کہانی ہے جو پولیس اور انٹرپول سے بچنے کے لیئے بھاگتا پھر رہا ہے اس کے ساتھ اس کی محبوبہ بھی ہے لیکن مشکل ترین حالات میں بھی وہ اپنی محبوبہ کا ساتھ نہیں چھوڑتا ہے۔ اس فلم کے پروڈیوسر مہیش بھٹ کے بھائی مکیش بھٹ ہیں اور ہدایت کار انوراگ باسو ہیں۔ مکیش بھٹ کا کہنا ہے کہ فلم ایک فکشن ہے اس لیئے کسی کا یہ دعویٰ کہ فلم اسکی زندگی کی کہانی ہے غلط ہے۔ فلم پوری طرح مکمل ہوچکی ہے اور اسی ماہ اس کی نمائش بھی ہو گی۔ اس فلم پرکروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ مکیش بھٹ کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس بلاوجہ انہیں پریشان کرنے کی کوشش ہے۔ فلم کی کہانی مہیش بھٹ نے لکھی ہے۔ مسٹر بھٹ نے اپنی فلم ’نظر‘ کی پبلسٹی کے دوران کہا تھا کہ وہ کسی گینگسٹر کی زندگی سے متاثر ہیں اور وہ فلم بھی بنائیں گے لیکن کہانی پوری طرح فکشن ہو گی۔اس فلم میں انہوں نے پاکستان کے کرکٹر شعیب اختر کو فلم کے اہم رول کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔ اسے اتفاق کہا جائے یا سوچی سمجھی حکمت عملی کہ مکیش بھٹ نے یہ فلم اس وقت بنانے کی تیاری کی جب ابوسالم پرتگال کی ایک جیل میں قید تھے اور جس وقت فلم گینگسٹر کا ایک شاٹ سیول کے ریلوے اسٹیشن پر فلمایا جا رہا تھا ’جس میں فلم کا ہیرو شنے آہوجہ خود کو پولس کے حوالے کرتا ہے‘ اس وقت سی بی آئی کا عملہ لزبن سے ابوسالم کو گرفتار کر کے ممبئی لارہا تھا۔ ابو سالم اس وقت ممبئی کی جیل میں ہیں اور ان کے خلاف ممبئی بم دھماکوں، بلڈر پردیپ جین اور اداکارہ منیشا کوئرالا کے سیکرٹری اجیت دیوانی قتل کے مقدمات میں تفتیش ہورہی ہے۔ |
اسی بارے میں شعیب کو ’گینگسٹر‘ بننے کی پیشکش14 May, 2005 | کھیل ’گینگسٹر‘ بننے کی پیشکش14 May, 2005 | کھیل شعیب اختر کو فلم کی پیشکش: آپ کیا کہتے ہیں؟ 16 May, 2005 | Debate | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||