BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 January, 2006, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابوسالم مذہب کی طرف راغب

وکیل اشوک سروگی سے مطالعہ کے لئے ہندو دھرم کی مذہبی کتابیں بھگوت گیتا اور رامائن منگوائی ہیں۔
مافیا سرغنہ ابو سالم جن کے نام سے سب سے زیادہ بھارتی فلمی دنیا یعنی بولی وڈ کی ہستیاں تھرتھراتی تھیں اور جس پر قتل، دھمکی دینے اور ممبئی میں بم دھماکوں کی سازش جیسے کئی سنگین الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں، اب ممبئی کی جیل میں مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔

ابو سالم بھارت میں ریاست اتر پردیش کے شہراعظم گڑھ کے سرائے میر علاقے میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لیکن انہوں نے پولس حراست کے دوران اپنے وکیل اشوک سروگی سے مطالعہ کے لیئے ہندو دھرم کی مذہبی کتابیں بھگود گیتا اور رامائن منگوائی ہیں۔

سروگی کا کہنا ہے کہ ابو سالم آج کل قید کے دوران ’اوم‘ کا جاپ بھی کر رہے ہیں جس سے انہیں بہت سکون مل رہا ہے۔

ماہر نفسیات سنجے بگاڑیا نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ملزموں کی نفسیات کے اس پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قید کے دوران وہ تنہا ہوتے ہیں اور مذہبی کتابوں میں انہیں سکون ملتا ہے اس لیئے یہ ایک عام رجحان ہے ۔

’دوسری وجہ انسان کی بے بسی ہے ۔ ایک عام آدمی بھی جب دیکھتا ہے کہ اس کی زندگی میں کسی طرح کا بحران آیا ہے اور وہ اسے حل نہیں کر پارہا ہے تو وہ مذہب کا سہارا لیتا ہے۔‘

ماہر نفسیات ڈاکٹر یوسف ماچس والا کے مطابق اکثر ملزمان غم کو بھلانے کے لیئے منشیات کا سہارا لیتے ہیں لیکن وہ چونکہ باآسانی جیل میں نہیں مل پاتی اس لیئے قیدی مذہبی کتابوں میں سکون تلاش کرتے ہیں۔ ابو سالم مسلمان ہونے کے باوجود اگر رامائن اور بھگود گیتا پڑھنا چاہتا ہے تو اس کی وجہ ایک یہ ہوسکتی ہے کہ وہ کافی عرصہ تک مونیکا بیدی کے ساتھ رہا ہے اس لئے اس کی زندگی پر اس کا گہرا اثر ہو سکتا ہے۔‘

’دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جیل میں اکثر غیر سماجی تنظیمیں ملزمان کو سدھارنے کا کام کرتی ہیں اور وہ انہیں مذہبی کتابیں مہیا کراتی ہیں ۔قیدیوں کو یوگا کرایا جاتا ہے تا کہ وہ اپنے اندر کے ڈیپریشن اور غصہ پر قابو پا سکیں۔ ملک کا سب سے پہلا پوٹا ملزم محمد افروز نے بھی جیل میں یوگا کرنا شروع کیا تھا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ابو سالم کے برعکس ان کی محبوبہ مونیکا بیدی جو اس وقت جعلی پاسپورٹ رکھنے کے الزام میں حیدرآباد کی چنچل گڑا جیل میں قید ہیں، عیسائی راہبہ بننا چاہتی ہیں اور اس کے لئے انہوں نے جیل میں ہی راہباؤں کے ساتھ کئی دن گزارے ہیں۔

جیل میں قید و بند کے دوران مذہب کی جانب راغب ہونے کی کئی مثالیں ہیں۔ بولی وڈ اسٹار سلمان خان کو جب کار حادثہ میں ایک شخص کو کچلنے کے الزام کے تحت جیل میں رکھا گیا تھا تب سلمان کو اس کے ساتھی قیدیوں نے پانچ وقت نماز اور تسبیح پڑھتے دیکھا تھا۔ اسی طرح سنجے دت جس نے بم دھماکہ کیس میں جیل میں اٹھارہ ماہ گزارے تھے انہوں نے بھی داڑھی بڑھا لی تھی اور مذہبی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا تھا۔

جرائم کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد ہی نہیں سیاسی شخصیات اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد بھی جو جیل میں کچھ عرصہ گزارتے ہیں، وہ مذہبی کتابوں کے مطالعہ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اس کی مثال امریکہ کے ہیوی وہیٹ چیمپئن محمد علی کلے ہیں جنہیں امریکہ حکومت نے جب ویتنام کی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کرنے پر قید کیا تھا تو انہوں نے جیل میں اسلامی کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔

ایک اطلاع کے مطابق پوپ سنگر مائیکل جیکسن نے بھی حراست کے دوران اسلامی کتابوں کا مطالعہ کیا تھا اور ان کے وکیل نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جیکسن اپنے بھائی کی طرح جلد ہی اسلام قبول کر لیں گے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد