BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 16 May, 2005, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب اختر کو فلم کی پیشکش: آپ کیا کہتے ہیں؟
شعیب اختر اور مشہور انڈین فلماز مہیش بھٹ
شعیب اختر اور مشہور انڈین فلماز مہیش بھٹ
بھارتی فلم ڈائریکٹر مہیش بھٹ نے پاکستان کے تیز رفتار بولر شعیب اختر کو اپنی ’گینگسٹر‘ نامی فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی ہے۔

مہیش بھٹ کے مطابق اس معاملہ پر وہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران شعیب اختر سے ملاقات کریں گے۔

مہیش بھٹ نے کہا ہے کہ شیعب اختر چاہیں تو انکار کر سکتے ہیں لیکن انہوں نےانکار نہیں کیا۔

تاہم ابھی تک شعیب اختر کی طرف سے اس پیشکش کے بارے میں کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ کہا جا رہا ہے انہوں نے آفر کو مسترد کر دیا ہے لیکن مہیش بھٹ کا کہنا ہے یہ معاملہ ابھی حتمی نہیں ہے اور شعیب اس کا فیصلہ کہانی سننے کے بعد کریں گے۔

مہیش بھٹ کو اپنی فلم کے لئے ایک ایسے چہرے کی تلاش ہے جو بارعب شخصیت کا مالک اور سخت گیر ہونے کے باوجود معصوم دکھائی دے ۔مزکورہ فلم ابو سالم نامی ایک شخص کی زندگی کے بارے میں ہے جس پر ممبئی میں بم دھماکوں کا الزام ہے۔

مہیش بھٹ کے مطابق وہ فلم کے ذریعے گینگسٹر کی شخصیت کے اس پہلو کو دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں کہ گینگسٹر بھی انسان ہوتے ہیں اور ان کے پیار میں بھی اتنی ہی شدت ہوتی ہے جتنے ایک عام انسان میں۔

آپ کے خیال میں شعیب اختر ہیرو بننے کی پیشکش قبول کرنا چاہیے؟ کیا کرکٹ کی نسبت فلم ان کے لیے بہتر فیلڈ ہو گی؟ اس سے ان کا کرکٹ کیرئر متاثر ہو سکتا ہے؟ شعیب اختر کے انڈین فلم میں اداکاری سے پاکستان انڈیا تعلقات پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔

ظہیر احمد، گارڈن ویسٹ:
شعیب اختر کو کسی بھی صورت میں انڈین فلم میں کام نہیں کرنا چاہئے۔ جس طرح شعیب نے اپنے دورے کے دوران غلط حرکت کرکے امیج خراب کیا تھا، وہ اب پھر ایسا ہی کام دوبارہ کرکے پاکستان کا امیج بھی خراب کرسکتے ہیں۔

محمد اکبر، ماڈل ٹاؤن:
اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا، یہی نہ کہ دھوبی۔۔۔۔

عبدالسلام، پاکستان:
میرے خیال میں شعیب کو شادی کرنی چاہئے اور کرکٹ پر ہی توجہ دینی چاہئے۔ جہاں تک پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کا سوال ہے تو جناب انڈیا اور پاکستان کے تعلقات اس سے نہیں اچھے ہونے والے۔ وہ کشمیر کا مسئلہ اور باقی چیزوں کو حل کرنے سے شاید اچھے ہوں۔

ہمایوں، پاکستان:
شعیب بھائی، پلیز یہ آفر قبول کرلے۔ اس میں آپ کی پاکستان کرکٹ ٹیم کی بھلائی ہوگی۔

محمد شبیر، ٹورانٹو:
شعیب اختر اچھے بولر ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اچھا کام کررہا ہے، ان کو اِن ڈِسپلن کے لئے سزا دےکر۔ وہ کتنے بھی اچھے کیوں نہ ہوں انہیں دسِپلن کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

نجم الحسن، ڈیرہ غازی خان:
میرے خیال میں تو شعیب کو انکار نہیں کرنا چاہئے۔ کرکٹ میں تو وہ آ نہیں سکتے اور نہ ہی اچھے کرکٹر بن سکتے ہیں۔ شاید وہ اچھے ہیرو بن جائیں۔ ویسے ان کی طبیعت بھی گینگسٹروں والی ہے۔ یہ ان کے لئے لکی چانس ہے۔

عامر احمد، کینیڈا:
میرے خیال سے یہ بہتر وقت ہے شعیب اختر کو فلم انڈسٹری جوائن کرنے کے لئے۔ کیوں کہ ان کا کریئر اوور ہے۔

کامران، عرب امارات:
شعیب بھائی پلیز یہ آفر قبول کرلیں، آپ کا پاکستان کرکٹ پر احسان ہوگا۔

آصف خان، برمنگھم، برطانیہ:
میرے خیال میں اس آفر کو نہیں قبول کرنا چاہیے کیونکہ ابھی شیعب اختر کو پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ پاکستان صرف بھارت کے خلاف جیتا ہے۔ کرکٹ بورڈ شعیب کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے۔

عطاءالرحمٰن قریشی، راولپنڈی:
کیوں نہیں ، پاکستانی سلیکٹرز تو ان کو نہیں کھلانا چاہتے۔ وہ فلم میں اچھے لگیں گے۔

عثمان مسعود، پاکستان:
اگر شعیب اپنا کیرئر ختم کرنا چاہتے ہیں تو یہ فلم سائن کرنے کا بہترین وقت ہے ورنہ ان کو اس فلم والے معاملہ سے دور رہنا چاہیے کیونکہ یہ ان کو نقصان پہنچائےگا۔

قیصر عباس، عرب امارات:
انہیں آفر مان لینی چاہیے۔

شعیب طارق، واہ کینٹ:
رفتار کا بادشاہ اسی وقت تک بادشاہ جب تک وہ اپنی فیلڈ میں ہے۔ ہم ان کے ہاتھوں میں بال دیکھنا چاہتے ہیں نہ کہ ان کی باہوں میں لڑکی۔

عمران، امریکہ:
شعیب کے اتنے برے دن نہیں آئےکہ وہ محسن حسن خان بن جائیں۔ شعیب کے لیے ابو سالم کے کردار کا مطلب ہے ’مونچھوں والی میرا‘ یعنی ملک اور شعیب دونوں کے لیے بدنامی۔ مذاق نہیں، میری رائے سنجیدہ ہے ۔

آصف رضا سید، بلجیم:
میرا خیال ہے شعیب کو فلم میں کام کرنا چاہیے لیکن صرف ایک فلم میں کیونکہ بنیادی طور پر وہ ایک کرکٹر ہیں۔ اگر وہ فلم میں کام کرتے رہیں گے تو ان کا کیرئرخراب ہو جائے گا۔ ایک فلم میں ان کو ضرور کام کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح پاکستان اور انڈیا کے تعلقات مزید اچھے ہوں گے۔

ظفر طاہر، امریکہ:
میرا خیال ہے ان کو اپنے اصلی پروفیشن پر توجہ دینا چاہیے۔ان کا فلم میں نہ کوئی مستقبل ہے نہ ہوگا۔ یہ صرف ان کا نام استعمال کرنے کا بہانا ہے اور اس سے فلم بنانے والوں کو تو فائدہ ہوگا شعیب کو نہیں۔میرا ان کو مشورہ ہے کہ اپنی عقل سے کام لیں، جو کہ وہ اکثر نہیں لیتے۔

ناصر ضیا آرائیں، لاہور:
شعیب کو کام نہیں کرنا چاہیے کیونکہ انڈین ڈائریکٹر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انڈین فلمیں سب سے اچھی ہوتی ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔شعیب کو صرف پاکستانی فلم میں کام کرنا چاہیے۔

احمد سید، ٹورانٹو:
شعیب جس مزاج کے آدمی ہیں ان کے لیے فلم میں کام کرنا ہی بہتر ہے ۔ انہیں شہرت کا بہت شوق ہے۔

قاسم سرویا، فیصل آباد:
یہ تو بڑے مزے کی بات ہے، اب ہمارا شعیب ہیرو بنےگا۔ کرکٹ کے ہیرو تو وہ پہلے ہی ہیں اب گینگسٹر کے ہیرو بھی بن جائیں لیکن ہیرو کو اپنی سپیڈ کنٹرول کرنا ہوگی اور موڈ بھی۔سلو اینڈ سٹیڈی ونز دی ریس!

ندیم ضیاء، سپین:
میری رائے یہ ہے کہ شعیب کرکٹ کے ساتھ ہی جڑے رہیں، اگر اداکاری شروع کر دی تو ان کامعاملہ کّوے اور ہنس والا ہو جائےگا۔ کرکٹ میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے وہ ناامید نہ ہوں۔ انہیں ان کی غلطیوں کی سزا مل رہی ہے، بہرحال ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کا مستقبل روشن کرے۔ فلم میں تو وہ کچھ خاص ایکٹنگ نہیں کر سکیں گے کیونکہ پہلی فلم تو لوگ دیکھ ہی لیں گے لیکن انہیں کرکٹ نہیں چھوڑنا چاہیے۔

شاہد منیر، کویت:
میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستانی ٹیم کو کمزور کرنے کی سازش ہے اس لیے شعیب کو یہ آفرقبول نہیں کرنی چاہیے۔

جبران حسنین، کراچی:
جب محسن خان ایکٹر بن سکتے ہیں تو شعیب کیوں نہیں بن سکتے اور ویسے بھی آسٹریلیا کے دورے پر ان کی حرکتیں ایکٹروں والی ہی تھیں۔

عبدالحنان چودھری، فیصل آباد:
میرے خیال میں انہیں اس آفرسےانکار کر دینا چاہیے۔

سائم علی:
شعیب کو ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے۔ انڈین فلم میں کام کرنے سے ہمارے ملک کی بدنامی ہو سکتی ہے۔ جس طرح انٹرنیٹ پر میرا کی تصویریں دیکھ کر آنکھیں جھک جاتی ہیں ایسا نہ ہو کہ شعیب کو دیکھ کر بھی ایسا ہی ہو۔شعیب کو ہر گز آفر قبول نہیں کرنا چاہیے۔

حبیب خان، نیوجرسی، امریکہ:
میراخیال ہے شعیب کو کرکٹ کھیلتے رہنا چاہیے اور انہیں برطانیہ میں کھیلنا چاہیے تا کہ ان میں ڈسپلن پیدا ہو۔ اب وہ ایک اچھے وکٹ لینے والے بولر بن چکے ہیں اور تیز ترین بھی۔ انہیں اب اپنی فٹ نیس پر توجہ دینا چاہیے۔ انہیں فلموں میں نہیں جانا چاہیے، اس طرح وہ اپنا کیرئر ہمیشہ کے لیے تباہ کردیں گے۔

ناصر احمد ورک، لاہور:
ان کو فلم سائن کر لینا چاہیے کیونکہ فلم انڈسٹری میں زیادہ ڈسپلن کی ضرورت نہیں ہوتی اور سکینڈل کی فکر بھی نہیں ہوتی اور ملک کی عزت کا تو بالکل ہی خیال نہیں ہوتا۔

قیصر ، پاکستان:
وہ نہ اچھے کرکٹر ہیں اور نہ ہی اچھے اداکار بن سکتے ہیں۔

عمران صدیقی، کراچی:
یہ کوئی نیا خیال نہیں ہے۔ اس سے پہلے عمران خان اور وسیم اکرم پر بھی یہ جال پھینکا جا چکا ہے لیکن وہ دونوں عقلمند آدمی ہیں کہ انہوں نےمحسن خان کے انجام سے سبق لے لیا ہے۔شعیب کو اپنے سینئر کی مثال پر عمل کرنا چاہیےاورورنہ یہ ان کے مسقلبل کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ جہاں تک انڈین فلم کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہی کہوں گا کہ انڈین بہت زیادہ قوم پرست ہیں اوروہ اپنی ہر چیز کی بڑائی کرتے ہیں اور ہم ہیں کے ان کی مصبوعات کو فروغ دیتے ہیں۔

محمد رضوان عباسی، ایبٹ آباد، پاکستان:
جی ہاں بالکل، وہ ایک عظیم بولر ہیں اور وہ ایک اچھے اداکار ہوں گے۔سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ یہ رول انہیں اچھا لگےگا کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ ماضی میں ایک سٹریٹ گینگسٹر ہوتے تھے۔

عبدا للہ، دبئی:
پہلے کون سا کسی ڈسپلن کو مانتے ہیں وہ۔جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔اسی کی کسر رہ گئی تھی، یہ بھی کر دیکھیں۔بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔

قیصر منیروڑائچ، سپین:
میرا خیال ہے شعیب کو بولی وڈ ہیرو بننے کے اس موقع سے فائدہ اٹھاناچاہیے کیونکہ وہ ایک اچھے ہیرو ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی جسامت ہیرو جیسی ہے۔ اور اگر فلم ہِٹ ہو جاتی ہے انہیں کرکٹ کو خدا حافظ کہہ دینا چاہیے کیونکہ کرکٹ ان کے مزاج کے ساتھ نہیں جاتی۔

بابر خان، راولپنڈی:
شعیب کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ فلموں میں کام کرنا شروع کر دیں اور انڈیا شفٹ کر جائیں۔

منظور بانیان، اسلام آباد:
میرا خیال ہے شعیب کو ایسا کرنا چاہیے کیونکہ کرکٹ بورڈ والے ان کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ان کے کرکٹ کیرئر پر فلم میں جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میں ان کی کامیابی کے لیے دعا کرتا ہوں۔

رحیم اللہ، کراچی:
میرا خیال ہے وہ پیشکش قبول کر لیں گے۔

مشال شعیب، لاہور:
نہیں ، شعیب اختر کو ایسا نہیں کرنا چاہیے وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیرو ہیں اور وہ کرکٹ کے لیے بنے ہیں، فلم کے لیے نہیں۔

مجاہد یوسفزئی، مردان:
ان کو فلم میں کام نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح وہ ہیرو سے زیرو ہو جائیں گے۔

سید امیر حیدر، دبئی:
یہ ان کے لیے بہتر ہوگا کیونکہ ان کا کرکٹ کیرئر اب ختم ہو گیا ہے۔ اس بات کا سارا کریڈٹ مِیرا کو جاتا ہے۔

کرن جبران، کینیڈا:
پتا نہیں مہیش بھٹ صاحب کو شعیب اختر کیوں نظر آئے۔ ویسے تو پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔

اظہر سہیل،کینیڈا:
مہیش بھٹ جی آپ نے ہمارے اصل گینگسٹر تو ابھی دیکھے ہی نہیں۔شعیب کو راضی کرنے سے پہلے ایک دفعہ ان سے مل لیں، بہت ممکن ہے آپ کا ذہن بدل جائے۔

راحیل منصور:
’راولپنڈی ایکپریس‘ کو یہ آفر فوراً قبول کر لینی چاہیے۔ فلم ان کے لیے بہت اچھی فیلڈ ہو سکتی ہے۔ ان کا کرکٹ کیرئر کئی باتوں سے متاثر ہو رہا، فلم سے تھوڑا اور رنگین ہو جائے گا۔

مظفر نواز چیمہ، کمال پور، پاکستان:
اگر شعیب کرکٹ چھوڑ کر فلم کی طرف جاتے ہیں تو یہ کرکٹ بورڈ اور اور ٹیم پر ان کا احسان ہوگا کیونکہ جب تک وہ ٹیم میں ہوں کوئی نہ کوئی سکینڈل ہوتا رہتا ہے۔فلمی دنیا شعیب اختر کے مزاج سے بہت میل رکھتی ہے اس لیے ان کے لیے یہ اچھی فیلڈ ہے۔

فہد شبیر، لاہور:
شعیب اختر کو کبھی بھی اس فلم میں کام نہیں کرنا چاہیے۔ انڈین ڈائریکٹر پاک انڈیا دوستی کی آڑ میں پاکستانی ایکٹروں کو ایسے کردار دیتے ہیں جن سے پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ شعیب کو ایک گینگسٹر، جو انڈین پولیس کو نہیں مل سکا اور جو انڈیا کے لیے ایک دہشت گرد ہے، کا کردار دے کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

خرم احمد، امریکہ:
میرا خیال نہیں کہ شعیب یہ پیشکش قبول کریں گے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کا کرکٹ کیرئر ختم ہو چکا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ایک فلم کے بعد انہیں دوبارہ کوئی آفر نہیں ہو گی۔

ندیم رانا، سپین:
یقیناً وہ اس پیشکش کو قبول کر لیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں اب کرکٹ میں ان کے لیے کوئی مستقبل نہیں۔انہیں فلم میں چانس لینا چاہیے۔

66آپ کی رائے
شعیب اختر کو ٹیم میں شامل ہونا چاہیے؟
66سسرالی شہرمیں ففٹی
سرحد پار محبت میں کیا مسئلے پیش آسکتے ہیں؟
66آپ کی رائے
پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش ہونی چاہیے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد