داؤد ابراہیم پر امریکی پابندیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے منشیات کی سمگلنگ اور نقل وحمل کے الزام کے تحت مافیا ڈان داؤد ابراہیم اور ان کی تنظیم پر امریکہ کے’ کنگ پن‘ ایکٹ کے تحت پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر بش کے اس فیصلے کو بین الاقوامی منشیات فروشوں کی سرگرمیوں کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس پابندی سے نہ صرف امریکہ میں منشیات فروشوں کی سرگرمیوں میں کمی آئے گی بلکہ ان سمگلروں کی جانب سے دہشتگردوں کی امداد پر بھی نظر رکھی جا سکےگی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والی اس فہرست میں داؤد ابراہیم کے علاوہ ایران اور برازیل سے تعلق رکھنے والے دیگر دو افراد اور میکسیکو کی ایک تنظیم بھی شامل کی گئی ہے۔ امریکہ میں سنہ 2000 میں لاگو ہونے والے اس ’ فارن نارکوٹکس کنگ پن ڈیزگنیشن ایکٹ‘ کے تحت اب تک باسٹھ افراد اور تنظمیوں پر منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔ کنگ پن ایکٹ کا نشانہ اہم بین لاقوامی منشیات فروشوں اور ان کی تنظیموں کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت نہ صرف ان افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی ہوتی ہے بلکہ وہ اپنے کسی بھی مالی مقصد کے لیئے امریکی مالیاتی نظام کا استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ تاہم اس قانون کا اطلاق امریکہ سے باہر نہیں ہوتا۔ | اسی بارے میں داؤد ابراہیم’عالمی دہشت گرد‘ نامزد17 October, 2003 | آس پاس داؤد ابراہیم کی کہانی17 October, 2003 | صفحۂ اول ممبئی مافیا: ایک مختصر تاریخ09.12.2002 | صفحۂ اول داؤد ابراہیم کے بھائی گرفتار09.12.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||