BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 June, 2006, 06:12 GMT 11:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
داؤد ابراہیم پر امریکی پابندیاں
 داؤد ابراہیم
داؤد کو بین لاقوامی دہشتگردوں کی فہرست میں بھی شامل کیا جا چکا ہے
امریکی صدر جارج بش نے منشیات کی سمگلنگ اور نقل وحمل کے الزام کے تحت مافیا ڈان داؤد ابراہیم اور ان کی تنظیم پر امریکہ کے’ کنگ پن‘ ایکٹ کے تحت پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔

صدر بش کے اس فیصلے کو بین الاقوامی منشیات فروشوں کی سرگرمیوں کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس پابندی سے نہ صرف امریکہ میں منشیات فروشوں کی سرگرمیوں میں کمی آئے گی بلکہ ان سمگلروں کی جانب سے دہشتگردوں کی امداد پر بھی نظر رکھی جا سکےگی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والی اس فہرست میں داؤد ابراہیم کے علاوہ ایران اور برازیل سے تعلق رکھنے والے دیگر دو افراد اور میکسیکو کی ایک تنظیم بھی شامل کی گئی ہے۔ امریکہ میں سنہ 2000 میں لاگو ہونے والے اس ’ فارن نارکوٹکس کنگ پن ڈیزگنیشن ایکٹ‘ کے تحت اب تک باسٹھ افراد اور تنظمیوں پر منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔

کنگ پن ایکٹ کا نشانہ اہم بین لاقوامی منشیات فروشوں اور ان کی تنظیموں کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت نہ صرف ان افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی ہوتی ہے بلکہ وہ اپنے کسی بھی مالی مقصد کے لیئے امریکی مالیاتی نظام کا استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ تاہم اس قانون کا اطلاق امریکہ سے باہر نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں
داؤد ابراہیم کی کہانی
17 October, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد