| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
داؤد ابراہیم’عالمی دہشت گرد‘ نامزد
سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق امریکہ میں خزانے کے محکمے نے بھارت کومطلوب انڈر ورلڈ کے بادشاہ داؤد ابراہیم کی بطور عالمی دہشت گرد خصوصی نامزدگی کی ہے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے القاعدہ تنظیم کی امداد کی ہے اور بھارت میں عدم اسحتکام پیدا کرنے کے لئے مختلف دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کی ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ داؤد ابراہیم نے القاعدہ تنظیم کو سمگلنگ کے راستوں کا حصہ دار بنایا اور بھارتی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اسلامی انتہا پسندوں کی مالی امداد کی۔ ویب سائٹ کے مطابق داؤد ابراہیم مطابق انیس سو ترانوے میں بمبئی ایکسچینج میں ہونے والے دھماکوں میں بھارت کو مطلوب ہیں۔ ’ان کے بارے میں یہ بھی معلوم ہے کہ انہوں نے لشکرِ طیبہ کو مالی معاونت فراہم کی ہے۔ لشکرِ طیبہ کو اکتوبر دو ہزار ایک میں امریکہ کی خطرناک گروہوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جب کہ جنوری دو ہزار دو میں پاکستان نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے اثاثے منجمد کر دیے تھے۔‘ ویب سائٹ کے مطابق اس اقدام کے بعد امریکہ چاہے گا کہ اقوامِ متحدہ بھی داؤد ابراہیم کو اپنی فہرست میں شامل کر لے۔ امریکی فہرست میں داؤد ابراہیم کا نام شامل ہونے سے امریکہ میں موجود ان کے تمام اثاثے منجمد ہوگئے ہیں اور ان کے ساتھ امریکیوں کا کسی بھی قسم کا کاروباری تعلق قانونی طور پر ممنوع ہو گیا ہے۔ اگر داؤد ابراہیم کا نام اقوامِ متحدہ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تو اس ادارے کے تمام رکن ممالک کو بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔ امریکی میں مالی جرائم کے ادارے کے نائب معاون کا کہنا ہے کہ داؤد ابراہیم کے خلاف تازہ کارروائی سے انڈر ورلڈ کے مجرموں اور دہشت گردوں کے درمیان مالی روابط کو بے نقاب کرنے اور ان کی بیخ کنی کرنے کا امریکی عزم اجاگر ہوتا ہے۔ ’ہمارا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ ہلاکتوں کے لئے استعمال ہونے والی رقم کو روکے۔ داؤد ابراہیم اور ان کےگروہ کے نزدیک دہشت گردی بھی ان کے جرائم کی مہم کا ایک حصہ ہے۔‘ امریکہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے حقائق نامے کے مطابق پولیس کانسٹیبل کے صاحبزادے داؤد ابراہیم بیس برس سے بھارت میں انڈر ورلڈ کے جرائم میں ملوث ہیں۔ اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم بھی جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک رسائی کے لئے وہی راستے استعمال کرتی ہے جو داؤد ابراہیم کا گروہ منشیات کی سمگلنگ کے لئے استعمال کرتا ہے۔ حقائق نامے کے مطابق داؤد ابراہیم کا گروہ مغربی یورپ اور برطانیہ میں منشیات سمگل کرتا ہے۔ انیس سو نوے کے آخر میں داؤد ابراہیم نے طالبان کی حفاظت میں افغانستان کا سفر کیا۔ ان کے گروہ نے مسلسل بھارتی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے فسادات کرائے، اس گروہ نے دہشت گردی کے کام کیے اور سول نافرمانی کی کوششیں کرائیں۔ وہ انیس سو ترانوے میں بھارت کے شہر ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں بھی ملوث ہیں۔ حقائق نامے کے مطابق دو ہزار دو کے آخر تک دستیاب ہونے والی اطلاعات کے تحت داؤد ابراہیم کے گروہ نے لشکرِ طیبہ جیسے شدت پسند گرپوں کی مالی مدد کی ہے۔ اس گروہ نے بھارت کے شہر گجرات میں حملے کرانے کے لئے بھی مدد کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||