ممبئی دھماکہ : عبدالغنی قصوروار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے بم دھماکوں کی خصوصی عدالت نے ملزم عبدالغنی اسماعیل ترک کو سینچری بازار دھماکے کا قصوروار قرار دیا ہے۔ جسٹس پرمود کوڈے نے منگل کے روز عدالت میں کہا کہ ملزم ترک پر چودہ الزامات تھے جن میں سے گیارہ میں ان کا جرم ثابت ہو گیا ہے۔ سی بی آئی کے مطابق ترک بارہ مارچ کو آرڈی ایکس سے بھری جیپ لے کر پہلے ورلی میں واقع پاسپورٹ دفتر پہنچے لیکن جب انہیں پارکنگ کی جگہ نہیں ملی تو انہوں نے جیپ کو وہاں کے سینچری بازار شو روم کے پاس کھڑا کر دیا تھا۔ اس دھماکے میں وہاں سے گزر رہی ایک ڈبل ڈیکر بس کے پرخچے اڑ گئے تھے۔ اس دھماکہ میں سب سے زیادہ ایک سو تیرہ لوگ ہلاک ہوئے تھے اور دو سو ستائیس زخمی ہو ئے تھے۔ سی بی آئی کے مطابق عبدالغنی اسماعیل ترک بم دھماکوں کے اہم ملزم ٹائیگر میمن کے ڈرائیور ہیں۔ ان پر بم دھماکہ کی سازش رچنے، دھماکہ خیز اشیاء آر ڈی ایکس ، اسلحہ لانے، اسے گاڑیوں میں بھرنے اور پھر آر ڈی ایکس سے بھری جیپ کو ممبئی کے مصروف علاقے سینچری بازار میں رکھنے کا الزام تھا۔ عدالت کے مطابق ترک دبئی کے اس ہوٹل میں موجود تھے جہاں بم دھماکوں کی سازش رچی جا رہی تھی لیکن وہ اس میٹنگ میں شامل نہیں تھے بلکہ دروازے کے باہر موجود تھے۔ اس لیئے ان پر سازش میں شامل ہونے کا جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ عدالت کے مطابق ترک پر پاکستان میں تربیت لینے کا بھی جرم ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ عبدالغنی ترک بم دھماکوں کے گیارہویں ملزم تھے۔ عدالت نے بارہ ستمبر سے ملزمین کے خلاف فیصلہ سنانا شروع کیا ہے۔ اب تک ترک سمیت آٹھ کو عدالت مجرم قرار دے چکی ہے لیکن ان کی سزا کا تعین سب سے آخر میں ایک ساتھ کیا جائے گا۔ دریں اثناء آج جسٹس کوڈے نے ذرائع ابلاغ کو عدالت کے احاطے میں ملزمین اور وکلاء سے بات نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ عدالت میں ملزمین کاہنگامہ تھا۔ ملزمین نے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ کی جارہی رپورٹنگ پر اعتراض کیا اسی کے ساتھ انہوں نے سرکاری وکیل اجول نگم کو ہٹائے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔ ملزمین نے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ان کے گھر والوں سے بات کرنے اور خبریں شائع کرنے پر بھی اعتراض جتایا۔ اصغر مقادم کو عدالت نے پیر کے روز پلازہ تھیئٹر کے پا س بم رکھنے کا مجرم اس سے قبل ٹائیگر میمن کے چھوٹے بھائی یعقوب میمن نے سزا سنائے جانے پر اسی طرح کی بات کی تھی۔ بارہ مارچ انیس سو ترانوے کو ممبئی شہر میں سلسلہ وار بارہ بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 257 افراد ہلاک اور 713زخمی ہوئے تھے۔ تیرہ برس تک مقدمہ چلا اور اب اس کا فیصلہ بارہ ستمبر سے سنایا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں ممبئی دھماکے:مقدمہ لڑنےسےانکار21 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: 11افراد کو عمر قید09 July, 2004 | انڈیا 1993 ممبئی دھماکے: فیصلہ مؤخر10 August, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ایک اور ملزم قصوروار 14 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||