BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 August, 2006, 13:05 GMT 18:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راشد رؤف: حوالگی کی درخواست

راشد رؤف کو لندن طیارہ سازش کیس کا اہم ملزم قرار دیا جا رہا ہے
پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے برطانیہ کی جانب سے لندن طیارہ سازش کیس کے اہم ملزم راشد رؤف کی حوالگی کی باقاعدہ درخواست کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے یہ بات دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتائی۔

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان برطانوی درخواست پر غور کر رہی ہے اور جیسے ہی تفتیش مکمل ہو جائے گی تو اس سلسلے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تاحال برطانوی حکام کی جانب سے راشد رؤف تک قانونی رسائی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ برطانوی حکام کے ساتھ راشد سے تاحال کی جانے والی تفتیش سے حاصل کردہ معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ہونے والی تفتیش سہ رخی ہے اور اس میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ یہ سازش پاکستان اور عالمی دنیا کے لیئے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتی تھی اور اس کے علاوہ یہ کہ اس نیٹ ورک کے افغانستان میں القاعدہ سے تعلقات کی جڑیں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں۔

اس سوال پر کہ ماضی میں راشد رؤف کو بہاولپور سے گرفتار کرنے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں اور اب کہا جا رہا ہے کہ انہیں راولپنڈی سے گرفتار کیا، دفترِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ راشد رؤف کی گرفتاری کے بارے میں میڈیا میں فراہم کی جانے والی ابتدائی اطلاعات محض اندازوں پر مبنی تھیں اور بطور ترجمان دفترِ خارجہ انہوں نے کبھی یہ بیان نہیں دیا کہ راشد رؤف کو بہاولپور سے پکڑا گیا بلکہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں بھی ان کی گرفتاری صوبہ پنجاب سے ظاہر کی گئی تھی۔

تسنیم اسلم نے راشد رؤف کیس کی حالیہ تفتیس سے حاصل کردہ معلومات ظاہر کرنے سے معذوری ظاہر کی اور کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کیس کے سلسلے میں کارروائی حکومتِ برطانیہ سے ملنے والی مخصوص اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ انہوں نے راشد کی گرفتاری کی تاریخ بھی نہیں بتائی تاہم ان کا کہنا تھا کہ راشد رؤف کو لندن میں ہونے والی گرفتاریوں سےقبل گرفتار کیا گیا تھا۔

تسنیم اسلم نے اس بات کی بھی تردید کی کہ پاکستانی حکومت نے راشد رؤف کو دورانِ حراست ان کے قانونی حقوق سے محروم رکھا ہے۔ انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران متعدد افراد کو متعدد برس تک مقدمہ چلائے بنا حراست میں رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کےدرمیان ملزمان کی حوالگی کا باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں ہے اور راشد رؤف کو اگر برطانیہ کے حوالے کیا جاتا ہے تو یہ باہمی تعاون کے معاہدے کےتحت ہی ممکن ہوگا۔

ہفتہ وار بریفنگ میں دفترِ خارجہ کی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کیوبا میں ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کے لیئے ہوانا جا رہے ہیں اور ممکن ہے کہ اس اجلاس کے دوران ان کی بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے غیر رسمی ملاقات ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد