’لندن سازش میں جیشِ محمد ملوث‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن سے امریکہ جانے والے کم از کم دس طیاروں کو فضا میں تباہ کرنے کا مبینہ منصوبہ بنانے کے الزام میں گرفتار برطانوی شہری راشد رؤف اور پاکستانی شہری مطیع الرحمٰن کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ ان کا تعلق کالعدم جیش محمد سے ہے۔ ان حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ سازش تیار کرنے والوں کا تعلق جیش محمد سے ہے ۔ انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ لندن سازش تیار کرنے والوں کا گزشتہ برس سات جولائی کو لندن میں کیئے گئے خود کش حملہ آوروں سے تعلق ہے اور ان کے القاعدہ سے روابط کے ٹھوس ثبوت سامنے آئے ہیں۔ حکام کا کہنا کہ طیاروں کو فضا میں تباہ کرنے کے منصوبے پر اگست کے آخری دنوں یا ستمبر کے ابتدا میں عمل ہونا تھا اور القاعدہ نائن الیون کی یاد تازہ کرنا چاہتی تھی لیکن ان کے مطابق جب راشد رؤف گرفتار ہوا تو لندن سے بھی فوری گرفتاریاں کرنا لازمی تھا ورنہ ملوث افراد وہ زیر زمین ہوجاتے یا پھر مجوزہ شیڈول سے پہلے ہی بعض بمبار دس کے بجائے ایک دو طیاروں میں دھماکے کر سکتے تھے۔ گرفتار شدگاں سے ملنے والی معلومات کے بارے میں وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ اور وزیر اطلاعات محمد علی درانی لاعلمی ظاہر کر رہے ہیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انٹیلی جنس حکام نے انہیں اس بارے میں بات کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ وزارت داخلہ سے متعلق معاملات کے بارے میں وزیر داخلہ کچھ نہیں بتا رہے اور وزارت خارجہ اس بارے میں تحریری بیان جاری کر رہی ہے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ راشد رؤف کا کئی ہفتوں سے انٹیلی جنس والے تعاقب کر رہے تھے اور انہیں صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور سے گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق برطانیہ سے گرفتار ہونے والے طیب رؤف راشد رؤف کے بھائی ہیں اور لندن میں ممکنہ خود کش بمباروں کے سرغنہ تھے۔ پاکستان میں زیر تفتیش مطیع الرحمان کا تعلق بھی صوبہ پنجاب کے ضلع ملتان سے ہے لیکن انہیں کب اور کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے اس بارے میں تاحال معلوم نہیں ہوسکا۔ حکام نے بتایا ہے کہ مطیع الرحمان عرف صمد کے سر کی قیمت حکومت نے ایک کروڑ روپے مقرر کر رکھی تھی اور اس بارے میں اٹھارہ اگست سن دو ہزار چار کو ایک اشتہار بھی شائع کرایا تھا۔ انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا ہے کہ مطیع الرحمان کا القاعدہ کے گرفتار رہنما ابو فراج اللبی اور صدر مشرف پر حملے کی سازش تیار کرنے والے ہلاک کردہ امجد حسین فاروقی سے بھی قریبی تعلق تھا۔ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر جو حکومت کی حفاظتی حراست میں ہیں ان سے بھی انٹیلی جنس حکام پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ جیش محمد کے سربراہ نے لندن سازش سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے کچھ ساتھیوں نے علیحدہ علیحدہ گروپ بنالیے تھے اور براہ راست القاعدہ سے رابطے میں تھے۔ بی بی سی کو مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق جیش محمد کے بعض شدت پسندوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران برطانیہ میں بھی اپنے حامی پیدا کر لیے تھے اور سات جولائی والے حملوں میں جیش محمد کے ہی خود کش بمبار تیار کردہ تھے۔ لندن سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے شہر میرپور کی بعض بینکوں میں رقم منتقل ہونے کے بارے میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم سے جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ معلومات غلط ہیں اور اخبارات قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں شایع ہو رہی ہیں۔ اس بارے میں انٹیلی جنس حکام کا دعویٰ ہے کہ ان بینک اکاؤنٹس میں جو رقم منتقل ہوئی ہے اس کا لندن سازش کے لیے فنڈز فراہم کرنا نہیں بلکہ یہ ٹیکس سے بچنے کا اور منی لانڈرنگ کا کیس ہے۔ |
اسی بارے میں جنگ بندی کی قرارداد منظور11 August, 2006 | آس پاس لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟12 August, 2006 | آس پاس برطانیہ، امریکہ میں تفتیش جاری 12 August, 2006 | آس پاس ’طیارے سازش‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس بلیئر سے برطانوی مسلمانوں کا مطالبہ12 August, 2006 | آس پاس بلیئر کا فون: ایک ملزم کی تصویر 11 August, 2006 | آس پاس گرفتار افراد کے جاننے والے کیا کہتے ہیں11 August, 2006 | آس پاس ’پاکستان میں گرفتاریاں اہم تھیں‘10 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||