جنگ بندی کی قرارداد منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں فوری جنگ بندی کے لیے سکیورٹی کونسل میں پیش کی جانی والی قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ قرار داد پر عملدرآمد میں چند دن لگ سکتے ہیں۔ قرار داد میں مکمل جنگ بندی کی بات کی گئی ہے جس کے تحت لبنانی فوج حزب اللہ کے گڑھ جنوبی لبنان میں تعینات کی جائے گی اور لبنان میں موجود عالمی امن فوج کی مدد کے لیے پندرہ ہزار مزید فوجی لبنان جائیں گے۔ سکیورٹی کونسل کی قرار داد کے خاص نکات میں اسرائیل کو لبنان سے اپنی فوجیوں واپس بلانی ہوں گی۔ لبنانی فوج اسرائیل کی سرحد کے ساتھ حزب اللہ کے مضبوط گڑھ میں تعینات کی جائے گی اور حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے شمال میں جانا ہو گا۔
لبنان کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے شیبا فارم سمیت تمام سرحدی تنازعوں کو طے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نےاس بات پر سخت مایوسی کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ نے اس مقام تک پہنچنے کےلیۓ اتنا وقت کیوں لیا۔ انہوں نے کہا اقوام متحدہ جلد از جلد اقدام کرنے میں جس طرح ناکام رہی اس کی وجہ سے اقوام متحدہ کے اختیار پر دنیا کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ یہ قرارداد ایسے پائیدار امن کا راستہ صاف کرے گی جس میں ایک نیا اور مضبوط لبنان ابھر سکے گا۔ فرانس کے وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی قرار کو تاریخی موقع قرار دیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے قرار داد کو مان لیا ہے اور کابینہ کی توثیق کے بعد لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائی رک جائے گی۔اسرائیلی کابینہ کی توثیق اتوار تک متوقع ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل کی حکومت نے اپنی فوج کو جنوبی لبنان میں فوجی آپریشن کو وسیع کرنے کا حکم دیا تھا لیکن بعد میں اسرائیل کے حکام نے کہا کہ اس حکم کا مطلب اقوام متحدہ کی قرار داد کے لیے جاری بات چیت کے عمل کو متاثر کرنا مقصود تھا۔
جمعہ کے روز لڑائی کے دوران اسرائیلی فضائیہ نے وادی بقا میں گاڑیوں کے ایک قافلے پر بمباری کی جس سے کم از کم چھ لوگ ہلاک ہو گئے۔ اس قافلے میں سینکڑوں گاڑیاں تھیں جن میں لوگ جنوبی لبنان سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حزب اللہ نے جعمہ کے روز بھی اسرائیل پر راکٹ داغنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اطلاعات کے مطابق سو سے زیادہ راکٹ فائر کیے۔ حزب اللہ کے ٹیلیوژن المنار نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل کی جنگی کشتی کو ڈبو دیا ہے لیکن اسرائیل نے اس کی تردید کی ہے۔ گاڑیوں پراسرائیلی فضائیہ کے حملے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد ان بارہ لبنانی شہری کے علاوہ ہیں جو جمعہ کی الصبح اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق شامی سرحد سے متصل لبنانی علاقے کر میں ایک پل پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں گیارہ شہری ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے ہیں۔ | اسی بارے میں اسرائیلی بمباری، گیارہ شہری ہلاک11 August, 2006 | آس پاس لبنان: قصبے پر قبضہ، پیش قدمی مؤخر10 August, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ میں مایوسی کی فضا09 August, 2006 | آس پاس اسرائیل کا دریائے لیطانی تک پیش قدمی کا فیصلہ 09 August, 2006 | آس پاس رائٹرز کی تصویر پر تنازع08 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||