BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 August, 2006, 19:07 GMT 00:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقوام متحدہ میں مایوسی کی فضا
اسرائیل نے پہلی مرتبہ فلسطینی پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا
اقوامِ متحدہ میں عرب لیگ کی طرف سے امریکہ اور فرانس کے تیار کردہ مسودے پر اعتراض کے بعد لبنان کے مسئلے پر جلد سفارتی پیش رفت کی امیدیں ختم ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق لبنان کی طرف سے جنوب میں پندرہ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی پیشکش اور عرب لیگ کی طرف سے اسرائیل کے فوری انخلاء کے مطالبے نے امریکہ اور فرانس کو مشکل میں ڈال دیاہے۔

دریں اثنا حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے فرانس اور امریکہ کی طرف سے پیش کیئے جانے والے مسودے کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

فرانس کے صدر ژاک شراک نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے عرب ممالک کی تجاویز کے بارے میں تحفظات اب بھی موجود ہیں۔فرانس ان تجاویز کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی طرف سے فوری جنگ بندی کی کوششیں روک دینا ’غیر اخلاقی‘ فعل ہوگا۔

حسن نصراللہ نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی حمایت کی لیکن انہوں نے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کو نقصان نہیں پہنچا سکا۔ انہوں نے کہا کہ ’حزب اللہ جنوبی لبنان کو اسرائیلی فوجیوں کا قبرستان بنا دے گا‘۔

ایک طرف سلامتی کونسل میں قراردادِ امن پر مذاکرات جاری ہیں تو دوسری جانب اسرائیلی کابینہ نے لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو مزید توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیل کو جنوبی لبنان میں تیس کلومیٹر اندر نہر لیطانی تک پہنچنے کے لیئے خیال ہے کہ تیس ہزار مزید فوجی درکار ہوں گے۔ مزید پیش رفت کے فیصلے کی منظوری اسرائیلی کابینہ کے بارہ میں سے نو موجود وزراء نے دی جبکہ تین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

ایک اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی تیس روز تک جاری رہ سکتی ہے جس سے کسی فوری جنگ بندی کے امکانات کم دکھائی دینے لگے ہیں۔

بیروت میں پیر کو اسرائیلی حملے سے ہلاک ہونے والوں کی مزید لاشیں ملنے سے ان کی تعداد تیس سے بڑھ کر اکتالیس ہوگئی ہے۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسرائیلی فضائیہ نے لبنان میں مختلف اہداف پر ایک سو بیس حملے کیئے۔ ان حملوں میں وادی بقا کے علاقے مشغارہ میں ایک دو منزلہ عمارت تباہ ہوگئی جس سے چھ افراد ہلاک ہوگئے۔

اسرائیل نے سیدا کے نزدیک واقع لبنان کے سب سے بڑے فلسطینی پناہ گزین کیمپ عین الحلوا کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیلی گن بوٹ کی کیمپ پر گولہ باری سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب جنگ کے دوران کسی فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر حملہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان کا نشانہ کیمپ میں رہائش پذیر حزب اللہ کے کارکن کا گھر تھا۔

لبنان میں جاری جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک لبنانی حکومت کے مطابق ایک ہزار کے قریب افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد شہریوں کی ہے جبکہ اسی دوران سو سے زائد اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والا ایک لبنانی

بیروت میں نائب امریکی وزیر خارجہ ڈیوڈ ویلش نے لبنانی وزیراعظم فواد سینورا، سپیکر نبی بیری اور وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے البتہ لبنانی وزیر اعظم کے مطابق اس سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

دریں اثناء عالمی ادارۂ خوراک نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر جنوبی لبنان میں امدادی قافلے بھیجنے کی کوششیں ملتوی کر دی ہیں۔ ادارے کے ترجمان کرسچئین برتھیئن کا کہنا ہے کہ’بہت شدید بمباری ہو رہی ہے ، سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں اور حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم روزانہ دو فاقلے بھیجنے میں بھی ناکام ہیں جبکہ ضرورت کم از کم چھ فاقلوں کی ہے‘۔

 لبنانی حکومت کے مطابق ایک ہزار کے قریب افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد شہریوں کی ہے جبکہ سو سے زائد اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

عالمی ریڈ کراس کے نمائندے جیکب کیلن برگر نے بھی بیروت میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل شہریوں کی سلامتی سے متعلق جنیوا کنونشن کو پامال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے سے قبل کسی جگہ پر خبردار کرنے والے پرچےگرا کر اسرائیل شہریوں سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہیں ہو جاتا۔

منگل کو عرب لیگ کے وفد نے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے انخلاء کی شفق کو قرارداد کا حصہ بنائے بغیر مشرق وسطیٰ کا بحران حل نہیں ہو سکے گا۔ تاہم فرانس اور امریکہ پہلی قرارداد میں زیادہ تبدیلیاں نہیں چاہتے اور اقوامِ متحدہ میں موجود سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اب امن منصوبے پر جلد ووٹنگ ہونے کے امکانات معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

تھکا ہوا بیروت
چہروں پر تناؤ، خوف اور تھکاوٹ کے تاثرات
لبنانوسعت کے شب و روز
بیروت کا ’سکرپٹڈ‘ معمول
احمد کمال احمد کمال کا تجزیہ
اسرائیل کا مفاد جنگ میں ہے امن میں نہیں
بش کا ’اوورٹائم‘
لبنان نے بش کو چھٹیوں میں بھی مصروف رکھا
لبنان کے لیئے مشکل
وزیر اعظم سے عوام تک قرار داد پر ناخوش
اسرائیلی آپشنز
حزب اللہ کے میزائیل، اسرائیل کی شرمندگی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد