BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 August, 2006, 02:47 GMT 07:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کا مقصد جنگ میں ہے جنگ بندی میں نہیں

احمد کمال
منگل کو ہونے والا کھلا اجلاس عرب لیگ کی ایک بہت بڑی سیاسی فتح
بیروت میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس نے قرارداد پر بحث کو ایک نئی سطع پر پہنچا دیا ہے۔

اس اجلاس کا مقصد یہ تھا کہ عرب ممالک پورے طور پر لبنان کا ساتھ دیں اور اس بات کا مظاہرہ کریں کہ وہ اس کے ساتھ ہیں۔

اس کی ضرورت یوں پیش آئی کیونکہ کچھ شک سا آگیا تھا کہ عرب ممالک حزب اللہ کی حمایت نہیں کر رہے۔ کچھ اس لیئے کہ وہ اسے ایک شیعہ تنظیم سمجھتے ہیں۔ کچھ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ خطے میں ایران کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔

چنانچ اس بات کی شدید ضرورت تھی کہ عرب لیگ کا اجلاس ہو اور بیروت میں ہی ہو۔ اور اس میں لبنان کی کھل کی حمایت کی جائے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عرب لیگ کی حمایت قرارداد میں ترمیم کرانے میں کس حد تک موثر ثابت ہوگی، تو یہ بات سب کو یاد رکھنی چاہیے کہ اس بات کی کنجی عرب لیگ کے پاس نہیں چین اور روس کے پاس ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہیں۔

البتہ بیروت کے اجلاس کے بعد عرب لیگ کو ایک بہت بڑی سیاسی فتح حاصل ہوئی ہے وہ یہ کہ منگل کو سلامتی کونسل کا جو اجلاس ہوگا وہ ایک کھلا اجلاس ہوگا۔

اب تک قرارداد پر جتنی بھی بحث ہوتی رہی ہے وہ بند کمرے کے اجلاس میں ہوتی رہی ہے۔ اب پہلی دفعہ بات بالکل سامنے ہوگی اور ساری دنیا دیکھے گی کہ کتنے مسلم ممالک کھلے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں، کیا کہتے ہیں اور ان کی باتیں سننے کے بعد روس اور چین کیا رویہ اختیار کرتا ہے۔

جہاں تک جنگ بندی اور اس کے بعد امن فوج کی تعیناتی کا سوال ہے تو اس کا فوری طور پر امکان نظر نہیں آتا۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حزب اللہ اور لبنان ایسی تعیناتی پر رضا مند نہیں ہوتے۔ اگر ان کی رضامندی کے بغیر ایسا کیا گیا تو امن فوج پر گولیاں چلیں گی اور جواب میں اسرائیل حملے کرتا رہے گا۔

جنگ بندی میں تاخیر کا نقصان لبنان اور مسلم ممالک کو ہوگا۔ لیکن اسرائیل کا اس میں کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ فائدہ ہی ہوگا۔

چنانچہ جتنی لمبی جنگ چلتی ہے اتنا ہی اسرائیل اور اس کے حامیوں کو موقع ملے گا کہ وہ ’نئے مشرق وسطیٰ‘ کے بارے میں اپنے خواب کو تعبیر کے اور قریب لے جائیں۔ اسرائیل اور اس کے حامیوں کا مقصد لمبی جنگ سے حاصل ہوتا ہے جنگ بندی سے نہیں۔

احمد کمال احمد کمال کا تجزیہ
متفقہ قرارداد میں ہفتوں لگ سکتے ہیں
سلامتی کونسللبنان میں امن
اقوام متحدہ قرار داد کے گرداب میں
لبنانلبنانی مایوس
’قرارداد کا مسودہ وقت حاصل کرنے کا بہانہ‘
لبنان کے لیئے مشکل
وزیر اعظم سے عوام تک قرار داد پر ناخوش
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد