BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 August, 2006, 00:09 GMT 05:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متفقہ قرارداد میں ہفتوں لگ سکتے ہیں

احمد کمال
لبنان جن ترامیم کا مطالبہ کر رہا ہے وہ کوئی چھوٹی تبدیلیاں نہیں
لبنان کے بحران کے حل کے لیئے تیار کی جانے والی قرارداد یکطرفہ ہے اور لبنان نے جن ترامیم کا مطالبہ کیا ہے وہ دور رس نتائج کی حامل ہیں۔

اب سب کو سمجھ آ چکا ہے کہ قرارداد میں بہت خامیاں ہیں اور اس کا زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہے۔

آپ دیکھیئے ایک طرف حزب اللہ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ کارروائی ایک دم بالکل بند کردیں جبکہ دوسری طرف اسرائیل سے کہا جا رہا ہے کہ آپ کی آٹھ دس ہزار فوج نہ صرف لبنان میں رہ سکتی ہے بلکہ اگر اسرائیل کو کوئی خطرہ ہو تو وہ اپنی فوجی کارروائی بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔

اس کا جو ردِ عمل سامنے آیا ہے اس میں اسرائیل کے ترجمان نے کہا ہے کہ جب تک قرارداد پاس نہ ہو جائے ہم اپنی کارروائی جاری رکھیں گے، حملے کرتے رہیں گے اور شاید بڑھا بھی دیں۔

دوسری طرف لبنان نے اسے مسترد کر دیا ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج لبنان میں موجود رہے گی تو حزب اللہ کو جنگ بندی پر کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لبنان نے کہا ہے کہ قرارداد کو منصفانہ بنانے کے لیئے اس میں تمام اسرائیلی فوج کے انخلاء کا مطالبہ شامل کیا جائے۔

اس صورت حال کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ لبنان جن ترامیم کا مطالبہ کر رہا ہے وہ کوئی چھوٹی تبدیلیاں نہیں ہیں جن کو آسانی سے مان لیا جائے گا۔ یہ تو بہت بڑی تبدیلیاں ہیں جن پر لگتا ہے بحث ذرا لمبی ہوگی۔

جہاں تک سفارتکاری کے عمل کا سوال ہے اس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے بات وہیں پر ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ یعنی اسرائیل لبنان اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر بیٹھا رہے گا۔ جو لبنانی اور فلسطینی اسرائیل کی قید میں ہیں ان کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ اسرائیل نے شمالی لبنان میں جو بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں ان پر کوئی بات نہیں ہوئی اور کسی کو یہ حق نہیں مل رہا کہ سوال پوچھے یا اعتراض کرے۔

جہاں تک قرارداد کی منظوری کا تعلق ہے اس میں دو امکانات موجود ہیں۔ پہلا امکان یہ ہے کہ دھکا مار کر اس قرارداد کو منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان اس قرارداد پر متفق ہو گئے تو لگتا ہے اس قرارداد کو چودہ ووٹ مل جائیں ہیں۔ صرف قطر اس کی مخالفت کرے گا۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ کارروائی روکی جائے اور ایسی قرارداد پاس کی جائے جو یکطرفہ نہ ہو لیکن ایسی قرارداد کے لکھنے میں شاید ہفتے لگ جائیں۔

سلامتی کونسللبنان میں امن
اقوام متحدہ قرار داد کے گرداب میں
لبنانلبنانی مایوس
’قرارداد کا مسودہ وقت حاصل کرنے کا بہانہ‘
لبنان کے لیئے مشکل
وزیر اعظم سے عوام تک قرار داد پر ناخوش
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد