BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 August, 2006, 18:46 GMT 23:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ بھی تو دہشتگردی ہے‘

بیروت میں کئی افراد اسرائیلی بمباری کو اجتماعی سزا تصور کرتے ہیں
مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں’آپ کو پتہ ہے کہ بمباری کب رکے گی؟‘ اور میں انہیں کہتا ہوں کہ جتنا اندازہ آپ کو ہے اتنا ہی مجھے بھی ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں ’لیکن کیا وہ بیروت پر پھر سے بم برسائیں گے؟‘ اور میرا جواب: ’ایسا کرنے کا بظاہر تو کوئی مقصد نہیں لگتا‘۔

مگر ایسا ہوا۔ اسرائیل نے پھر سے بیروت پر بم گرائے۔ مرکزی بیروت میں ایک سکول کے احاطے میں موجود بے گھر ہونے والے درجنوں بچوں نے آدھی رات کو خوفناک دھماکے سنے۔ ایک رات چار بڑے دھماکے، اور اس سے اگلی رات چھ بم ہر جگہ گرے۔ بچوں کی پناہ گاہوں پر بھی۔

بیشتر لوگ جون کے وسط میں اسرائیلی بمباری سے پہلے شہر کے نواح میں موجود اپنے رہائشی فلیٹ چھوڑ کر یہاں آگئے تھے۔یہ لوگ اب بھی یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے فلیٹ سلامت ہوں گے اور یہ ان میں واپس جاسکیں گے۔لوگ مجھ سے کہتے ہیں ’ہم حزب اللہ نہیں ہیں پھر ہمارے گھروں پر کیوں بمباری کی جارہی ہے؟‘

اسرائیل کا کہنا ہے کہ بیروت پر دوبارہ حملے بلا جواز نہیں کیونکہ وہ حزب اللہ کو ٹارگٹ کررہے ہیں۔ تاہم شہر میں موجود وہ ہزاروں افراد جو حزب اللہ کے حمایتی نہیں ہیں، ان حملوں کو اجتماعی سزا تصور کررہے ہیں۔

اسرائیل کے طاقتور اسلحہ کے جواب میں حزب اللہ کے کتیوشہ میزائل بھی اسرائیلی شہری آبادی میں گر رہے ہیں لیکن لبنان کے مقابلے میں اسرائیل کا جانی نقصان معمولی ہی ہے۔

بیروت
یہ لوگ اب بھی یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے فلیٹ سلامت ہوں گے

کئی لبنانی اتفاق کرتے ہیں کہ حزب اللہ کو اسرائیلی فوجی پکڑتے وقت اسرائیل کے رد عمل کا اندازہ نہیں تھا۔ تاہم اب بیشتر لوگوں کا یہی کہنا ہے ’ہم کبھی بھی حزب اللہ کے ساتھ نہیں تھے لیکن اب ہم سب حزب اللہ ہیں۔ اسرائیل کا رد عمل بالکل بلا جواز ہے۔ وہ جتنی زیادہ تباہی پھیلائیں گے، حزب اللہ کی حمایت اتنی ہی بڑھے گی‘۔

چند لوگ حزب اللہ کو برا بھلا بھی کہتے ہیں اور یہ بھی کہ اسرائیل کا رد عمل وہ سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔

بجلی کی فراہمی رکنے سے بیروت کی گلیاں رات کو اندھیرے میں ڈوب جاتی ہیں۔ شہر کا کاروبار بمشکل چل رہا ہے۔ ٹیکسی والے سواری بٹھانے سے پہلے ہی معذرت کرلیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی پٹرول ختم ہوجائے۔

چہروں پر تناؤ اور مسلسل بمباری کے خوف سے تھکاوٹ اور پریشانی کے تاثرات عیاں ہیں۔ ایک کیفے میں کافی لوگوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ یکدم ہی بمبار طیاروں کی گونج سنائی دی۔ میرے ساتھ والی میز پر بیٹھے نوجوان نے کھڑکی سے باہر اشارہ کرتے ہوئے کہا ’یہ بھی تو دہشتگردی ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد