BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 August, 2006, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان:اسرائیلی فوج کی حکمت عملی

اسرائیلی ٹینک
حزب اللہ کے میزائیل فائر کرنے کی طاقت اسرائیلی فوج کےلیے شرمندگی کا باعث بن گئی ہے۔
لبنان میں اسرائیل کی فوجی حکمت عملی روز بہ روز بدلتے ہوئے حالات و واقعات کی بنیاد پر طے کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایما پرایک مؤثر اور فوری جنگ کی غیر موجودگی میں جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہونے کو ہے۔

بارہ جولائی کو حزب اللہ کے چھاپہ ماروں کی طرف سے دو اسرائیلی فوجیوں کو قیدی بنائے جانے کے واقعے کے ردعمل کے طور پراسرائیل کی فوج نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر زبردست بمباری کا نشانہ بنایا۔

اسرئیل میں تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل دان ہلز کا اسرائیل کا چیف آف سٹاف بننا کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچے سمجھے فیصلے کے تحت انہیں اس اہم فوجی عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔

اسرائیلی ایئر فورس نےخفیہ اطلاعات کی بنیاد پر لبنان کے اندر حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اس امید پر زبردست بمباری کی کہ وہ حزب اللہ کی میزائیل فائر کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا جو کئی سالوں سے اسرائیلیوں کے لیے ایک درد سر بنی ہوئی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں نےحزب اللہ کے دور اور درمیانی مار کرنے والے میزائیلوں کے خلاف کامیاب کارروائی کی ہے۔

لیکن حزب اللہ کی قیادت میں رابطہ، اس کو اسلحہ سپلائی کے راستے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش میں اسرائیل نے لبنان کے بنیادی ڈھحانچے کو بری طرح تباہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کو عالمی مذمت کا سامنا کر پڑ رہا ہے۔

اس کے باوجود اسرائیل حزب اللہ کی میزائیل فائر کرنے کی صلاحیت کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے اور اب حزب اللہ روزانہ سو کے بجائے دو سو میزائیل فائر کر رہا ہے۔

اسرائیل نے فضائی کارروائی کے ذریعے حزب اللہ کی میزائیل فائر کرنے کی صلاحیت کو ختم نہ کر سکنے کے بعد فوجی کارروائی کا دوسرا مرحلہ شروع کیا ہے جس میں اس کی زمینی فوجیں لبنان کے اندر گھس کر مخصوص مقام پر کارروائیاں کرتی ہیں اور اس طرح وہ حزب اللہ کی میزائیل لانچ کرنے والی سہولتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زمینی کارروائیوں کے دوران حزب اللہ نے اسرئیلی فوج کو حیران کر دیا ہے۔

چھ سال پہلے اسرائیلی فوج کے لبنان چھوڑنے کے بعد حزب اللہ اسی طرح کے اسرائیلی حملے کی تیاری میں مصروف تھی اور اس نے سرنگوں ، مورچوں اور راکٹ فائر کی سہولتوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا۔

اب تک ہونے والی کاررائیوں میں دونوں فریقوں کا جانی نقصان ہوا لیکن اسرائیل اپنی اعلی ایئرفورس کی بدولت حزب اللہ کے مضبوط گڑھ پر قبضے میں کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ البتہ اسرائیل کی پش قدمی کی رفتار انتہائی سست ہے۔

حزب اللہ کی راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت کا برقرار رہنا اسرائیل کی حکومت اور فوج دونوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

حزب اللہ کا سب سے کارگر ہتھیار، کٹوشا میزائیل زیادہ جدید تو نہیں ہے لیکن وہ جانی نقصان کے پہنچانے کے قابل ہے اور اس کوگھر کی بالکونی، باغ یا ٹرک کے پچھلے حصے میں آسانی کے ساتھ چھیایا جا سکتا ہے۔

اسرائیل کی کابینہ فوجی کارروائی کے تیسرے مرحلے کی اجازت دینے کے در پر ہے جس کے تحت اسرائیل کی فوج لبنان کے تیس کلو میٹر اندر دریائے لیطانی تک جانے کی تیاری کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کا دریائے لیطانی تک جانے کا فیصلہ انتہائی متنازعہ تصور کیا جائے گا کیونکہ اسرائیل پہلے بھی اسی علاقے میں بفر زون بنانے کا تجربہ کر چکا ہے اور اس کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔

کئی اسرائیلی اپنی حکومت کو احتیاط برتنے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اسرائیل ایک مرتبہ پھر لمبی کشمکش میں پھنس جائے گا۔

لیکن ایک مہینے کی کارروائی جس میں اسرائیل نہ تو اپنے مقید فوجیوں کو رہا کرا سکا ہے اور نہ ہی حزب اللہ کے میزائیل فائر کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے میں کامیابی ہوئی ہے، اسرائیل کی حکومت کے پاس بڑی فوجی کارروائی کے علاوہ کو ئی چارہ ہی نہیں رہ گیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوج اس وقت اس علاقے میں رہے گی جب تک ایک مؤثر عالمی فوج لبنانی فوج کی مدد کے لیے علاقے میں پہنچ نہیں جاتی۔

ادھر حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں آخری اسرائیلی فوجی کی موجودگی تک لڑے گی۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سکیورٹی کونسل کی قرار داد پر اتفاق رائے ہونے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں دو دشمنوں کے درمیان اب بھی خلیج حائل ہے۔

اسی بارے میں
حزب اللہ کا اسلحہ خانہ
04 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد