فوجیوں سمیت 15 اسرائیلی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد اب 15 ہو چکی ہے۔ اس دوران جنگ بندی کی ایک مجوزہ قرار داد سلامتی کونسل میں پیش ہو چکی ہے جس کے بعد لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مزید شدت ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس سے پہلے بارہ اسرائیلی فوجی کفار گیلادی میں حزب اللہ کے راکٹ حملے میں ہلاک ہو گئے جو اب تک کی جنگ کے دوران کسی ایک دن میں حزب اللہ کے راکٹوں سے ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق کفار گیلادی پر حزب اللہ کی راکٹ باری 15 منٹ تک جاری رہی۔ اسرائیل کے تیسرے بڑے شہر حیفہ پر پر حزب اللہ کا راکٹ حملہ غروب آفتاب سے تھوڑی دیر بعد ہوا۔ اس حملے میں تین اسرائیلی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر اتوار کو 160 سے زائد راکٹ حملے کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان میں امن فوج کے تین چینی رکن حزب اللہ کے راکٹ حملوں سے زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں لبنان کے سفیر نے سکیورٹی کونسل سے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے متعلق قرارداد کے مسودے میں ترمیم کرے۔ اقوام متحدہ میں لبنان کے سفیر نوہاد محمود نے کہا ہے کہ انہوں نے قرارداد کے مسودے میں ترمیم سکیورٹی کونسل میں داخل کر دی ہے جس میں اسرائیلی فوج کے لبنان سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی بیروت پر دو فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی طیاروں نے طائر جانے والے اقوام متحدہ کے ایک امدادی قافلے کے قریب حملہ کیا ہے جس میں دو شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ طائر میں حملے کے دوران ایک لبنانی فوجی اور ایک شہری مارا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی مجوزہ امن قرار داد سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازعے سے بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ اتوار کی صبح حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر متعدد راکٹ داغے۔ کفار جیلعادی نامی گاؤں پرگرنے والے راکٹوں سے کم سے کم دس افراد مارے گئے جبکہ پندرہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اسرائیلی شہر کرات شمعونہ پر بھی چھ راکٹ گرے جس سے نو لوگ زخمی ہوگئے۔
لبنان میں چھبیسویں روز بھی اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں قراردادِ امن پیش ہونے کے بعد اسرائیلی طیاروں نے ملک کے طول و عرض میں کم از کم درجن بھر فضائی حملے کیئے ہیں۔ نقورہ کے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں تین لبنانی مارے گئے ہیں جبکہ جنوبی لبنان کے سرحدی دیہات راس البیدہ، طیبہ، مسقفاف اور اودیشہ میں بھی شدید لڑائی جاری ہے اور وہاں سے ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اتوار کو جنوبی لبنان میں نبادیہ کے قریب انصار نامی گاؤں پر اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ عام شہری ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں اور وادی بقا میں شام نواز فلسطینی تنظیم پاپولر فرنٹ جنرل کمانڈ کے دو ٹھکانوں پر حملے کیئے گئے جن کے نتیجے میں کم از کم دو فلسطینی مارے گئے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں وادی بقا کا باقی ملک سے رابطہ منقطع ہے۔ اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی سرحد کے نزدیک لڑائی میں مزید دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر اسرائیل نےسلامتی کونسل میں پیش کردہ امریکہ۔فرانس مسودے کا غیر سرکاری طور پر خیر مقدم کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ انصاف حائم رامون نے کہا ہے کہ انہیں امید نہیں کہ حزب اللہ اس مسودے کو تسلیم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اسرائیل حزب اللہ پر حملے جاری رکھے گا اور ہماری فوج اس علاقے میں تب تک رہے گی جب تک وہاں بین الاقوامی امن فوج کے دستے نہیں آ جاتے‘۔ ایک اور اسرائیلی وزیر آئزک ہرزوو نے کہا ہے کہ’ فوجی اہداف حاصل کرنے کے لیئے وقت درکار ہے لیکن وقت بہت کم ہے‘۔ لبنان کے وزیرِاعظم فواد سینیورا نے سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد کو ناکافی قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں لبنان کے مندوب نوہاد محمود نے کہا ہے کہ قراردداد کے مسودے میں لبنان سے اسرائیلی فوجوں کے انخلاء کا کوئی ذکر نہیں ہے لہٰذا تصادم کی فضا ختم ہونا مشکل ہے جبکہ لبنانی حکومت میں شامل حزب اللہ کے محمد فنیش وزیر کا کہنا ہے کہ حزب اللہ صرف اس وقت اپنی کارروائیاں واضح رہے کہ اس وقت لبنان میں دس ہزار کے قریب اسرائیلی فوجی برسرِ پیکار ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ دریائے لیطانی تک تیس کلومیٹر چوڑے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔ |
اسی بارے میں قرارداد کے متن پر امریکہ فرانس متفق05 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ پسپا کیا ہے: حزب اللہ05 August, 2006 | آس پاس تباہی کے باوجود حزب اللہ مضبوط05 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملے میں 26 ہلاک 04 August, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ قرار داد کے گرداب میں04 August, 2006 | آس پاس بیروت اور طائر پراسرائیلی حملے جاری04 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||