 | | | اسرائیل حزب اللہ کی مکمل تباہی چاہتا ہے |
اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکار احمد کمال نے لبنان کی لڑائی کے بارے میں قرارداد کے مسودے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں پیش قدمی تو ضرور ہے لیکن یہ بہت ڈھیلی قرارداد ہے اور اس کی عنقریب دیگر ممالک کے تاثرات میں سند مِل جائے گی۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسودے میں بنیادی طور پر کہا گیا ہے کہ جنگ بندی ہونی چاہیے لیکن حزب اللہ کی طرف سے مکمل جنگ بندی ہو جائے اور لبنان میں موجود دس ہزار اسرائیل فوج وہیں رہے گی اور خطرے کی صورت میں انہیں جوابی حملوں کا حق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسودہ کہتا ہے کہ پہلے جنگ بند کی جائے، اسرائیلی وہیں بیٹھے رہیں اور حزب اللہ اپنے حملے بالکل روک دے۔ اس کے بعد ایک دوسرا مسودہ پیش ہو گا جس میں دیکھا جائے گا کہ مستقل حل کیا ہونا چاہیے اور اس میں قیدیوں، علاقے اور دیگر مطالبات کی بات ہوگی۔ مسودے پر رد عمل کے بارے بات کرتے ہوئے احمد کمال نے کہا کہ اسرائیل نے اس کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ وہ حملے بڑھا دیں گے تاکہ قرارداد کی منظوری سے پہلے جتنے مقاصد پا لیں اتنا ان کا فائدہ ہوگا۔ لبنان نے اس ناکافی قرار دیا ہے اور حزب اللہ نے اس کو مستر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ جاری رکھیں گے۔ ’انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی لبنان سے چلے جائیں اور اسرائیلی جیلوں میں لبنانی قیدی رہا کیے جائیں‘۔ احمد کمال نے کہا کہ اب دیکھنا ہے کہ اس قرارداد کو سلامتی کونسل میں کتنی حمایت حاصل ہوتی ہے اور روس اور چین کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ ابھی سلامتی کونسل کے ارکان اپنی حکومتوں سے ہدایت حاصل کریں گے اور اس میں اہم چیز لبنان کا رد عمل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی اور امن کی طرف سفر کا آغاز ضرور ہے لیکن ابھی ابتداء تک بات نہیں پہنچی، اسرائیل اور امریکہ کے مقاصد ابھی لبنان میں پورے نہیں ہوئے، وہ حزب اللہ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ |