BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 August, 2006, 20:53 GMT 01:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان بحران اور صدر بش کا ’اوور ٹائم‘

ٹیکساس کے دیہاتی قصبے کرافرڈ میں وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس بش کے ساتھ موجود رہیں
صدر جارج بش آجکل چھٹیوں پر ٹیکساس میں اپنی زمینوں پرگئے ہوئے ہیں۔ اگست کا مہینہ ہوتا ہی ایسا ہے۔ امریکہ ہو یا برطانیہ، بڑے بڑے لوگ چھٹیوں پر چلے جاتے ہیں۔ امریکی صدور کی یہ سالانہ چھٹیاں کافی پہلے سے طے ہوتی ہیں اس لئے عالمی واقعات اکثر ان تعطیلات کے آڑے نہیں آتے۔ لیکن جب معاملہ اسرائیل کا ہو اورعام شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو، تو ضروری ہو جاتا ہے کہ دنیا کو یہ تاثر نہ دیا جائے کہ آپ حالات کی نزاکت سے غافل ہو رہے ہیں ۔

اسی لئے امریکی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر بش نے یہ اختتامِ ہفتہ مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں سوچتے بِتایا۔ ٹیکساس کے دیہاتی قصبے کرافرڈ میں وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس اُن کے ساتھ موجود رہیں۔ دونوں لبنان کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے اب تک کی امریکی حکمتِ عملی پر صلاح مشورے کرتے رہے۔ حزب اللہ کی کمر کیسے توڑی جائے؟ سلامتی کونسل کو کس طرح ایسی قراداد پر آمادہ کیا جائے جس سے خطے میں امریکی واسرائیلی مفادات کا بھرپور تحفظ بھی ہو اورلڑائی پر کچھ کنٹرول بھی ممکن بنایا جائے۔ صدر بش نے موجودہ تنازع میں اپنے بڑے حمایتی، برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلئیرسے بھی وڈیو کانفرنس کے ذریعے مشاورت کی۔

چھٹیوں پر صدر بش ٹیکساس میں اپنی زمینوں پر جاتے ہیں
چھٹیوں میں اتنی مصروفیت؟ اس کا نچوڑ جارج بش نے پیر کی صبح کرافرڈ میں ایک اخباری کانفرنس میں دنیا کے سامنے کچھ یوں رکھا۔ لبنان، شام اور ایران کچھ بھی کہتے رہیں امریکہ سمجھتا ہے کہ فرانس کے ساتھ مل کر لائی جانے والی اقوامِ متحدہ کی قرارداد مسئلے کے دیرپا اور پائیدار امن کے لیے پہلا بڑا قدم ہوگی۔ یہ قرارداد اھم ممالک کے درمیان سمجھوتے کا نتیجہ ہے۔ اسلامی فاشزم اور جہادی عناصر کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ کو ثابت قدم رہنا ہوگا۔ اور لبنان ہو یا عراق، امریکہ جمہوریت کے فروغ کے ایجنڈے پر کاربند رہے گا۔

بعض صحافیوں نے جارج بش سے تند و تیز سوال کئے۔ مثلا ً لڑائی کنڑول میں لانے کے لئے آپ اب کیوں متحرک ہیں تین ہفتے پہلے اس کا خیال کیوں نہیں آیا؟ جواب کچھ اس طرح کا تھا: تین ہفتے پہلے عالمی برادری میں اس مسئلے کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے پر اتفاق نہیں تھا۔ سب ایک عارضی سی فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تین ہفتے بعد، ہر کوئی یہ محسوس کررہا ہے کہ مسئلے کا دور رس حل نکالنا ناگزیر ہے۔

ایک اور صحافی نے پوچھا کہ سفارتکاری اپنی جگہ پر، یہ روزانہ کی ہلاکتیں کب تک جاری رہیں گی؟ جارج بش نے کہا میں تو چاہوں گا کہ ہلاکتیں جلد رک جائیں لیکن گمبھیر مسائل کے حل میں، سفارتکاری میں، وقت تو لگتا ہے۔ اُن لوگوں کے لئے جن کو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی بظاہر بے حسی سمجھ نہیں آتی، صدر بش نے کہا کی اُن کی حکومت مشرقِ وسطیٰ کے لئے واضع حکمتِ عملی رکھتی ہے جس سے امریکیوں کی حفاظت یقینی بنائی جارہی ہے۔

اب جب کہ مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ خونی بحران اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو رہا ہے جارج بش کی باتیں سے لگتا ہے کہ انکی نظر میں امریکی حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ باقی دنیا امریکہ کو فوری جنگ بندی پر قائل نہیں کر سکی لیکن امریکہ سکیورٹی کونسل کی اکثریت کو اپنے تجویز کردہ راستے پہ چلانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ کونڈالیزا رائس کہتی ہیں کہ جس طرح امریکہ اپنے اصولی موقف پر تین ہفتوں سے ثابت قدم رہا ہے اسے سفارتی محاذ پر کامیابی ہو رہی ہے۔

سوال صرف یہ ہے کہ امریکی حکمت عملی کی جو قیمت لبنان اور کسی حد تک اسرائیل کے عام شہری ادا کر چکے جارج بش کے لئے وہ ابھی کافی ہے یا نہیں۔

اسرائیلی آپشنز
حزب اللہ کے میزائیل، اسرائیل کی شرمندگی
لبنان کے لیئے مشکل
وزیر اعظم سے عوام تک قرار داد پر ناخوش
لبنانلبنانی مایوس
’قرارداد کا مسودہ وقت حاصل کرنے کا بہانہ‘
احمد کمال احمد کمال کا تجزیہ
متفقہ قرارداد میں ہفتوں لگ سکتے ہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد