بیروت کا ’سکرپٹڈ‘ معمول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب تو سب کچھ سکرپٹڈ سا لگنے لگا ہے۔ صبح سات بجے آنکھ کھلے گی، پہلا ہاتھ ریموٹ پر پڑے گا، بی بی سی پر کیا آ رہا ہے سی این این کیا دے رہا ہے، حزب اللہ کا المنار اور قطر کا الجزیرہ چینل کون سی اور کہاں کی تصویریں دکھا رہے ہیں۔ کوئی آدھ گھنٹے کی ریمورٹ بازی کے بعد لیپ ٹاپ کھل جائے گا۔ گارڈین کی ویب سائٹ پر کیا تصویر ہے، انڈیپنڈینٹ میں رابرٹ فِسک کا نیا آرٹیکل آیا کہ نہیں، یروشلم پوسٹ کی سرخی کیا ہے، بیروت کے ڈیلی سٹار میں اسرائیل کو اور کتنی گالیاں پڑی ہیں؟ حد یہ ہے کہ باتھ روم میں بھی کموڈ پر بیٹھوں یا شاور کے نیچے کھڑا ہو جاؤں، چھت پر لگا سپیکر خبریں گراتا رہتا ہے۔ اس کا ایک تار کسی نے ٹی وی سے جوڑ دیا ہے۔ اب میں نیچے جاؤں گا وہی لبنانی ہومس، ویسی ہی کٹی ہوئی ناشپاتیاں، کل کی طرح کے تربوز کے قاشے، تین طرح کے کروساں، آملیٹ بنانے والا مودب شیف، میز پر کانٹے چمچے بدلتی ہوئی فائیو سٹار والی مسکراہٹ سجائے یونیفارم پہنے ہوئے وہی لڑکی جو کل صبح بھی یہی سب کچھ کر رہی تھی اور آنے والی صبح بھی یہی کچھ کر رہی ہوگی۔ ورلڈ فوڈ پروگرام، مرسی کور، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر، یو این ایچ سی آر، آکس فیم، سی بی ایس، این بی سی کی مخلوق ایک ہاتھ میں سیٹلائیٹ فون، ایک کان سے موبائل ٹکائے ہوئے، ہر ٹیم کے ساتھ ایک دبلی پتلی لڑکی شیڈول بنا رہی ہے۔ کیا یو این ایچ سی آر کا کوئی قافلہ آج طائر جا رہا ہے۔ یونائٹیڈ نیشنز کی بریفنگ کیوں کینسل ہوگئی ہے۔ لبنانی وزیر اعظم آج پھر کیوں پریس کانفرنس کر رہے ہیں؟ ایک دھماکہ، دوسرا پندرہ منٹ بعد تیسرا۔ یقینا اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے مغربی بیروت کی کسی عمارت پر میزائل یا لیزر گائیڈڈ بم داغ دیا۔ ٹیکسی والے کو انگریزی نہیں آتی، مسافر کو عربی نہیں آتی۔ کہاں جانا ہے یہاں جانا ہے۔ پرچی پر منزل لکھی ہوئی ہے۔ ٹیکسی والا دونوں ہاتھوں کی پانچوں انگلیاں کھولے دس ڈالر مانگے گا اور پھر پانچ ڈالر پر مان جائے گا۔ لگتا ہے بیروت کے ٹیکسی والے کو پانچ یا دس ڈالر کی گنتی ہی معلوم ہے یا پھر اگر چار ہاتھ ہوتے تو پھر شاید بیس ڈالر بھی مانگ لیتا۔ فلاں سکول میں نئے اُجڑرنے والے آئے ہیں چلو وہیں چلتے ہیں اور کچھ نہیں تو ایک وائلڈ ٹریک اور چند واکس پاپس ہی مل جائیں گے۔ اگر کوئی بچہ یا بچی نظم یا گیت سنا دے تو مزا آجائے گا۔ رپورٹ اچھی بن جائے گی۔ دکانیں بھی ذہن کی طرح آدھی بند آدھی کھلی ہوئی ہیں۔ ہر جگہ فارنر ٹیکس دینا پڑ رہا ہے۔ دس ڈالر کا فون کارڈ بیس ڈالر میں بیچا جا رہا ہے ’بیکاز آف اسرائیل اٹیک برادر‘۔ ناشپاتی تو کل دو ڈالر کی کلو دے رہے تھے آج پانچ ڈالر کی کیوں دے رہے ہو ’بیکاز آف اسرائیلی اگریشن برادر۔‘ دن بھر گِدھوں کی طرح اچھی بری خبریں جمع کر کے پھر کمرے میں بند ایڈیٹنگ، سکرپٹنگ، فائل سینڈینگ۔ لو پھر رات کے دس بج گئے۔ ریمورٹ کنٹرول سے چینل بدلتے بدلتے آنکھیں بند ہو رہی ہیں۔ کوئی رات تو ایسی گزرے جب دو دفعہ دور کسی میزائل یا بم گرنے کی دھمک سے درو دیوار نہ جھولیں اور نیند کو نہ توڑیں۔ پانچ گھنٹے بعد پھر موبائل پر سیٹ کیا ہوا الارم چیخ پڑے گا اور پھر سکرپٹ کے مطابق وہی تھیٹر شروع ہوجائے گا۔ ریمورٹ کنٹرول، ٹی وی پر بدلتے ہوئے چینل، المنار، الجزیرہ، سی بی ایس، این بی سی، سی این این، بی بی سی ۔۔۔۔۔ | اسی بارے میں دو ہفتے بعد کھلی فضا میں سانس31 July, 2006 | آس پاس لبنان: تازہ اسرائیلی حملے، شہری ہلاک07 August, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ قرار داد کے گرداب میں04 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||