BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 August, 2006, 03:55 GMT 08:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان: تازہ اسرائیلی حملے، شہری ہلاک
 لبنان
اتوار اور پیر کی درمیانی شب میں بھی اسرائیلی حملے جاری ہے
اسرائیلی جنگی طیاروں نے حملے کے ستائیسویں روز بھی لبنان پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا اور تازہ فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

اطلاعات کے مطابق تازہ حملوں میں اسرائیلی طیاروں نے وادیِ بقا میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فضائی حملوں میں نشانہ بننے والی آبادیوں میں بعلبک بھی شامل ہے جسے حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی حصے کو نشانہ بنایا۔

مقامی حکام کے مطابق تازہ اسرائیلی حملوں میں گیارہ لبنانی مارے گئے ہیں جن میں سے چھ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی دستوں اور حزب اللہ جنگجوؤں کے مابین زمینی لڑائی بھی جاری ہے اور لبنان کے جنوبی علاقوں سے مزید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

لبنان کے جنوبی قصبے ہُولہ سے بھی اسرائیلی دستوں اور حزب اللہ جنگجوؤں کے مابین لڑائی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

اس سے پہلے اتوار کو حزب اللہ کے راکٹ حملوں بارہ فوجیوں سمیت پندرہ اسرائیلی ہلاک ہوگئے۔ یہ جھڑپوں کے آغاز کے بعد سے ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اسرائیلی جانی نقصان ہے۔

عام شہری ہلاک
 تازہ اسرائیلی حملوں میں گیارہ لبنانی مارے گئے ہیں جن میں سے چھ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی دستوں اور حزب اللہ جنگجوؤں کے مابین زمینی لڑائی بھی جاری ہے اور لبنان کے جنوبی علاقوں سے مزید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

دوسری طرف نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس برطانوی وقت کے مطابق شام تین بجے شروع ہونے والا ہے جس میں مجوزہ قراردادِ امن میں لبنان کی پیش کردہ ترامیم پر بات ہوگی۔

اقوام متحدہ میں لبنان کے سفیر نے سلامتی کونسل سے کہا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے متعلق قرارداد کے مسودے میں ترمیم کرے۔ نوہاد محمود نے کہا ہے کہ انہوں نے قرارداد کے مسودے میں ترمیم سلامتی کونسل میں داخل کر دی ہے جس میں اسرائیلی فوج کے لبنان سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ قرارداد کے موجودہ مسودے میں لبنان سے اسرائیلی فوجوں کے انخلاء کا کوئی ذکر نہیں ہے لہٰذا تصادم کی فضا ختم ہونا مشکل ہے

لبنان کے وزیرِاعظم فواد سینیورا نے بھی سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد کو ناکافی قرار دیا ہے جبکہ لبنانی حکومت میں شامل حزب اللہ کے وزیر محمد فنیش کا کہنا ہے کہ حزب اللہ صرف اس وقت اپنی کارروائیاں روکے گی جب اسرائیل اپنے حملے بند کرے گا اور لبنان سے اپنی فوجیں نکال لے گا۔

دوسری طرف اسرائیل نےسلامتی کونسل میں پیش کردہ امریکہ۔فرانس مسودے کا غیر سرکاری طور پر خیر مقدم کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ انصاف حائم رامون نے کہا ہے کہ انہیں امید نہیں کہ حزب اللہ اس مسودے کو تسلیم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اسرائیل حزب اللہ پر حملے جاری رکھے گا اور ہماری فوج اس علاقے میں تب تک رہے گی جب تک وہاں بین الاقوامی امن فوج کے دستے نہیں آ جاتے‘۔

واضح رہے کہ اس وقت لبنان میں دس ہزار کے قریب اسرائیلی فوجی برسرِ پیکار ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ دریائے لیطانی تک تیس کلومیٹر چوڑے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔

امداد میں تعطل
محفوظ رستے فراہم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی
کب کیا ہوا؟
لبنان اسرائیل جنگ میں کب کیا ہوا؟
لبنانمکمل تباہی سر پر
’حالات ہمارے ہاتھ سے نکل چکے ہیں‘
مشرق وسطیٰ کا بحران
تباہی کے باوجود حزب اللہ کے جنگجو مضبوط
سلامتی کونسللبنان میں امن
اقوام متحدہ قرار داد کے گرداب میں
جنگ اور بچے
لبنان جنگ: متاثرین میں بچے آگے آگے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد