BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 August, 2006, 14:38 GMT 19:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ، امریکہ میں تفتیش جاری
 تفتیش کار
تفتیش کار ان گھروں کا معائنہ کر رہے ہیں جہاں سے گرفتاریاں عمل میں آئیں۔
برطانیہ کی انسداد دہشتگردی کی پولیس طیاروں کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کے منصوبے کے سلسلے میں گرفتار کیئے گئے بائیس افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

لندن کی پولیس کو مشتبہ افراد کو بدھ تک زیر تفتیش رکھنے کے وارنٹ مل گئے ہیں۔

ادھر امریکہ میں تفتیش کار برطانیہ سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا مشتبہ گرفتار افراد کا امریکہ میں کسی کے ساتھ رابطہ تھا یا نہیں۔

جمعہ کی رات تک گرفتار کیئے جانے والے چوبیس میں سے ایک شخص کو بغیر کسی مزید کارروائی کے رہا کر دیا گیا ہے جبکہ ایک دوسرے شخص کو زیر حراست رکھنے کے بارے میں سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

متشبہ افراد کو جمعرات کی صبح لندن، ہائی وکہم اور برمنگھم میں چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔جس شخص کے وارنٹ کی سماعت ملتوی ہو گئی ہے اسے بھی پیر تک حراست میں رکھا جائے گا۔

گرفتار کیئے جانے والے افراد پر الزام ہے کہ وہ دستی سامان میں دھماکہ خیز مائع طیاروں میں لے جا کر برطانیہ اور امریکہ کے درمیان فضا میں جہازوں کو تباہ کرنے کے ایک منصوبے میں ملوث تھے۔

برطانیہ اور امریکہ دونوں ممالک میں ہوائی اڈوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔ مسافروں کے دستی سامان کی سخت جانچ پڑتال کے علاوہ جہاز پر مائع اشیاء لےجانے پر بھی پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔

ادھرامریکہ میں ملکی سالمیت کے محکمہ کے اہلکاروں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ممکن ہے بم منصوبے کی معلومات رکھنے والے افراد ابھی تک گرفتار نہ ہوئے ہوں۔

صدر بش کے ملکی سالمیت کے مشیر نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں امریکہ کو درپیش خطرے کا صحیح اندازہ ہونا ضروری ہے۔ فرانسس ٹاؤنسینڈ نے کہا کہ کسی منصوبہ کے ہونے کے کوئی آثار نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ڈھیلے پڑ جائیں اور امریکہ میں موجود لوگوں اور برطانیہ میں گرفتار کیئے جانے والوں کے درمیان رابطوں کی تفتیش نہ کریں۔

امریکی میں ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کی کڑی تلاشی ہو رہی ہے۔

اس سے قبل پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ طیاروں کو تباہ کرنے کی سازش کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے میں برطانیہ کے دو پاکستانی نژاد شہریوں کو لاہور اور کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستان کی وزارت داخلہ نے ان دو میں سے ایک کا نام راشد رؤف بتایا ہے۔ترجمان کے مطابق اس بات کا اشارہ ملا ہے کہ سازش کی کڑیاں افغانستان میں القاعدہ سے ملتی ہیں۔

ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ جب سے برطانیہ نے پاکستان کو خبر دی تھی کہ راشد رؤف پاکستان پہنچ چکے ہیں، ان کی نگرانی شروع کر دی گئی تھی۔

اہلکار کے مطابق ’وہ یہاں خاصے عرصے سے تھے اور تب سے ان کی کڑی نگرانی کی جاتی رہی ہے۔‘

راشد رؤف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ برمنگھم سے جمعرات کو گرفتار کیئے جانے والے طیب رؤف کے رشتہ دار ہیں جن کے اثاثے بینک آف انگلینڈ نے منجمد کر دیئے ہیں۔

دریں اثناء تفتیش کار ان گھروں کا معائنہ کر رہے ہیں جہاں سے گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اس کے علاوہ پولیس نے برکشائر کے تین، ریڈنگ کے ایک اور سلاؤ کے تین انٹرنیٹ کیفیز سے کمپیوٹر آلات کو بھی قبضے میں لیا ہے۔

ہفتے کو لندن پولیس کے چیف کانسٹیبل سے باتیں کرتے ہوئے وزیر داخلہ جان ریڈ نے کہا کہ کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے کہ حالیہ گرفتاریوں سے خطرہ ٹل گیا ہے۔ ’خطرہ بھی موجود ہے اور اس کے خلاف ہماری کوششیں بھی جاری ہیں۔‘

جان ریڈ نے مزید کہا کہ: ’مرکزی مشتبہ کردار پکڑے جا چکے ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ تفتیش ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ابھی بہت کام باقی ہے اور اس سلسلے میں ہمیں بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔‘

دریں اثناء برطانوی مسلمانوں کی تنظیموں نے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں ’فوری ‘ تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ عراق اور مشرق وسطیٰ پر برطانیہ کے موقف کی وجہ سے عام شہریوں کی جان کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔

ایم پی صادق خان نے، جنہوں نے اس خط پر دستخط کیئے ہیں، کہا ہے کہ موجودہ پالیسی کی وجہ سے ’نا انصافی کا احساس‘ پیدا ہو رہا ہے جس سے شدت پسندوں کو تقویت مل رہی ہے۔

صادق خان کے علاوہ تین دیگر اراکین دارالعلوم کے علاوہ اڑتیس مسلمان گروپوں نے اس خط پر دستخط کیئے ہیں۔

خط کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ جس دہشتگردی سے آج مغرب متاثر ہو رہا ہے وہ مسلمان ممالک کو کئی دہائیوں سے تباہ کرتی رہی ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا : ’یہ دہشتگردی یقیناً ہمارے افغانستان اور عراق میں جمہوریت کی حمایت کرنے کے فیصلے سے پہلے سے موجود رہی ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ گیارہ ستمبر کے واقعات سے پہلے موجود تھی۔ ہماری خارجہ پالیسی اس بات پر مرکوز ہے کہ ان ممالک کے لوگوں کی جمہوریت میں زندگی گزارنے کی خواہش کی حمایت کی جائے، ایسے ہی جیسے ہم برطانیہ میں جمہوریت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

مسلم کمیونٹی کا خط
بلیئر سے خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کامطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد