BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 August, 2006, 04:55 GMT 09:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدقسمتی سے رشتے داری ہے: ہم زلف

راشد رؤف
بہاولپور میں راشد رؤف کا گھر جو اب بند پڑا ہے
’اسے آپ ہماری بد قسمتی ہی سمجھیے کہ ان سے ہماری رشتہ داری نکل آئی ہے‘ یہ الفاظ تھے کالعدم عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر کے بھائی عالمگیر کے جب ان سے برطانوی شہری راشد رؤف کے بارے پوچھا گیا، جنہیں لندن میں مسافر طیاروں کو مبینہ طور پر خود کش بمباروں کی مدد سے تباہ کرنے کی ناکام سازش تیار کرنے کے الزام میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا ہے۔


راشد رؤف اور مولانا مسعود اظہر کے بڑے بھائی مولانا طاہر انور ہم زلف ہیں۔ دونوں کے سسر مولانا غلام مصطفیٰ مرحوم بہاولپور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کے بلاک بی میں واقع انیس سو پینسٹھ سے قائم دینی مدرسے ’جامعہ دارالعلوم مدنیہ‘ کے بانی تھے۔

عالمگیر کا کہنا تھا کہ سولہ برس قبل جب ان کے بھائی مولانا طاہر کی شادی مولانا مصطفیٰ کی صاحبزادی سے ہوئی تو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مولانا صاحب کی دوسری بیٹی کی شادی چودہ برس بعد ایک ایسے شخص سے ہوگی جو بعد میں ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کے الزام میں گرفتار ہوگا۔

مدرسہ ہاشمیہ
لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لیئے قائم مدرسے الجامعۃ الہاشمیۃ البناتِ الاسلام کے مہتمم مولانا منظور شاہ کے مرحوم مولانا غلام مصطفیٰ کے گھرانے سے قریبی تعلقات ہیں

عالمگیر سے ملاقات بہاولپور کے ہیوی انڈسٹریل ایریا کے قریب واقع ان کے والد مولانا اللہ بخش کے دینی مدرسے ’عثمان و علی‘ کے باہر ایک چارپائی اور ایک بنچ پر مشتمل استقبالیہ (ریسیپشن) میں ہوئی۔ بہاولپور شہر میں اگر کسی سے بھی جیش محمد کے دفتر بارے معلوم کیا جائے تو وسیع رقبے پر پھیلے اسی مدرسے کا پتہ دیا جائے گا۔ چہرے پر نظر کی عینک سجائے فربہ جسم کے حامل بائیس تیئس سالہ عالمگیر اسی مدرسے میں پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر تصویر بنوانے سے انکار کردیا کہ ’یہ خلافِ شرح ہے‘۔

ان کے مطابق راشد رؤف کا جیش محمد سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہوں نے انہیں کبھی دیکھا ہے۔عالمگیر اپنے والد کے ایک مبینہ انٹرویو کے حوالے سے سخت خائف تھے۔ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی طرف سے جاری کردہ اس انٹرویو میں مولانا اللہ بخش سے یہ بیان منسوب کیا گیا تھا کہ راشد رؤف جیش محمد کے کارکن تھے جنہوں نے بعد میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کرلی۔’ والد صاحب پندرہ روز سے شدید بیمار ہیں اور انہوں نے اس دوران کسی صحافی سے ملاقات نہیں کی‘۔

دارالعلوم مدنیہ کے ترجمان مولانا غلام مصطفیٰ مرحوم کے صاحبزادے مولانا صہیب ہیں جن کے بارے مدرسے سے معلوم ہوا کہ وہ وفاق المدارس عربیہ کے سالانہ امتحانات کےسلسلے میں کہیں گئے ہوئے ہیں۔سفر پر روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے ایک تحریری بیان کے ذریعے اس بات کی تردید کی کہ راشد رؤف (یعنی ان کے بہنوئی) کی گرفتاری دارالعلوم مدنیہ سے ہوئی۔

مدرسے سے حاصل کیئے گئے ان کے موبائل فون نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بغیر کہے سنے اسی تردیدی بیان کو دہرایا اور ساتھ ہی راشد رؤف اور حتیٰ کہ مولانا غلام مصطفیٰ سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا۔

دارالعلوم مدنیہ
راشد رؤف کے سسر مولانا غلام مصطفیٰ مرحوم بہاولپور میں انیس سو پینسٹھ سے قائم دینی مدرسے ’جامعہ دارالعلوم مدنیہ‘ کے بانی تھے

مدرسے کے طلباء سے راشد رؤف بارے پوچھا تو انہوں نے بھی مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا راشد رؤف اور دارالعلوم مدنیہ کے تعلق کے حوالے سے اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں ان کی نظر سے نہیں گذریں تو ان کا جواب تھا ’ہمیں اخبارات پڑھنے کی اجازت نہیں کیونکہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ان کے مطالعے سے پڑھائی متاثر ہوتی ہے‘۔

لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لیئے قائم مدرسے الجامعۃ الھاشمیۃ البناتِ الاسلام کے مہتمم مولانا منظور شاہ کے مرحوم مولانا غلام مصطفیٰ کے گھرانے سے قریبی تعلقات بارے معلوم ہوا تو ان سے رابطہ کیا گیا۔ منظور شاہ بہاولپور میں پنسار کی ایک قدیمی دکان کے مالک بھی ہیں۔

راشد رؤف نے ماڈل ٹاؤن بلاک سی میں رہائش کے لیئے جو گھر خریدا تھا وہ مولانا منظور کے گھر سے چند قدموں کے فاصلے پر ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملتان کی بستی ملوک سے تعلق رکھنے والے دو ’کشمیری مجاہدین‘ راشد رؤف کا رشتہ لے کر آئے تھے اور تب انہوں نے ان کا تعارف محمد خالد کے طور پر کرایا تھا۔

بستی ملوک کو ایک زمانے میں کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق راشد رؤف کی گرفتاری چار اگست کو روز بستی ملوک سے بہاولپور واپس جاتے ہوئے لودھراں کے قریب ہوئی۔

بہاولپور لودھراں روڈ
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے راشد رؤف کو بہاولپور لودھراں روڈ پر کہیں سےگرفتار کیا

راشد رؤف کی گرفتاری کی خبروں کے ساتھ ہی لشکر جھنگوی کے سرکردہ کارکن مطیع الرحمنٰ کی گرفتاری کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ حکومت پاکستان نے مطیع الرحمنٰ کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ راشد رؤف اور مطیع الرحمنٰ کی گرفتاری ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے یا یہ دو الگ واقعات ہیں۔

مبصرین کے مطابق راشد رؤف کا عسکریت پسندوں سےتعلق، مولانا مسعود اظہر سے قرابت داری اور بہاولپور کے گردونواح سے گرفتاری محض اتفاق نہیں بلکے پاکستانی ’جہادی‘ تنظٌیموں کے بین الاقوامی رابطوں کی نشاندہی کرنے والے عوامل ہیں۔

پولیس اہلکاربرطانیہ میں گرفتاریاں
مقامی لوگ، ہمسائے کیا کہتے ہیں۔
اخباردہشتگرد منصوبہ
امریکی میڈیا میں پاکستان کی باتیں
مسلم کمیونٹی کا خط
بلیئر سے خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کامطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد