BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 August, 2006, 03:17 GMT 08:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشت گرد منصوبہ اور امریکی میڈیا

پاکستانی پولیس
نیو یارک ٹائمز کے مطابق ’پاکستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے‘
آجکل ٹی وی ریڈیو آن کریں یا اخبار و جریدے کی ورق گردانی، ’جس طرف آنکھ اٹھاؤں تری تصویراں ہے کے مصداق‘ دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کا نام سنا اور پڑھا جارہا ہے۔

امریکی پرنٹ میڈیا میں پیر کے ’نیویارک ٹائمز‘ میں لکھا تھا ’پاکستان دہشت گردی کا اتنا ہی مرکز ہے جتنا امریکی حملے سے پہلے طالبان اور القاعدہ کے دنوں میں افغانستان تھا۔‘ اخبار نے لکھا ہے کہ لندن میں کمرشل طیاروں کو بحرِ اوقیانوس کے بیچ بموں کے ذریعے اڑا دینے کی سازش کے منکشف ہو جانے کے بعد امریکی سراغرساں ادارے اس سازش میں القاعدہ کا تعلق ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے دو چوٹی کے لیڈر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کچھ روز قبل تک الجزیرہ، العربیہ اور دہشت گرد تنظیموں کی ویب سائٹوں سے امریکہ پر مزید لیکن بڑے حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے تھے۔

اخبار کے مطابق صرف سال رواں کے دوران امریکہ کو اسامہ بن لادن چھ اور ایمن الظواہری گیارہ دھمکیاں دے چکے ہیں۔

’نیویارک ٹائمز‘ نے کہا ہے کہ ایک کروڑ پتی تعمیراتی بزنس مین کا باون سالہ بیٹا اسامہ بن لادن، اور مصر میں ڈاکٹر اور وہاں جیل اور تشدد کاٹنے والا اس کا پچپن سالہ نائب ایمن الظواہری الگ الگ طور پر پاکستان کے افغانستان کی ساتھ سرحدی قبائلی علاقے میں روپوش ہیں جہاں مشرف حکومت کی ان کی گرفتاریوں میں ناکامی کی اپنی مصلحتیں ہیں کہ وہ ملک میں مذہبی دائيں بازو کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ تاحال انکے سروں پر پچیس ملین ڈالر کی خطیر رقم کے رکھے ہوئے انعامات بھی ان کی گرفتاری یا کھوج لگانے میں مدد گار ثابت نہیں ہوئے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ گزشتہ سال امریکی طیاروں نے اس خفیہ اطلاع پر کہ ایمن الظواہری ایک قبائلی علاقے میں کھانے پر مدعو تھے پر کارروائی کی لیکن الظواہری بچ نکلے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اگرچہ امریکی سراغ رساں ادارے القاعدہ کے ان روپوش چوٹی کے رہنمائوں کی نقل و حرکت محدود کر دینے کے دعوے کرتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ ان کو (اسامہ اور الظواہری) ان کے تنظیمی ساتھی حالات حاضرہ کے بارے میں مکمل باخبر رکھتے ہیں اور ان کی ٹیپ کیئے ہوئے آڈیو اور وڈیو بیانات ’الجزیرہ‘ تک بھی پہنـچ پا تے ہیں۔

عراق میں امریکی کارروائی کے دوران مارے جانے والے القاعدہ کے رہنما مصعب الزرقاوی کی کمین گاہ سے ملنے والی ڈائری میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’امریکہ کے خلاف ہمیں آدھی جنگ میڈیا میں لڑ کر جیتنی ہے-‘

سی این این پر ایک مبصر نے کہا کہ ’پاکستان دنیا کے دہشت گردوں کا مرکز ہے اور اب جبکہ امریکہ پر حملہ ہوا تو پاکستان سے ہوگا‘۔

 سی این این پر ایک مبصر نے کہا کہ ’پاکستان دنیا کے دہشت گردوں کا مرکز ہے اور اب جبکہ امریکہ پر حملہ ہوا تو پاکستان سے ہوگا-‘

پیر کے ہی اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘نے پاکستان سے اپنے نمائندوں کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ آج کی بین الاقوامی مذہبی دہشت گردی کے بچھے ہوئے جال کا کوئی نہ کوئی تانہ بانہ جا کر پاکستان سے ملتا ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرف حکومت مذہبی دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر آنکھیں موندے ہوئے ہے کیونکہ جنرل مشرف کے ساتھی جنرل کشمیر میں ہندوستان کے خلاف گوریلا کارروائیاں کرنے پر عسکریت پسند تنظیم جیش محمد سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ صدر مشرف کے عمل سے زیادہ الفاظ مضبوط ہیں اور انکی ایسی بے عملی عالمی جہادی نیٹ ورک کے بھرتی کاروں کے لیئے حوصلہ افزائي کی موجب بنی ہے-

تاہم امریکی سرکاری ریڈیو پر ایک انٹرویو میں پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے دنیا بھر کے دہشت گردوں کے لیئے پاکستان کے مرکز ہونے کی رپورٹوں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں روسی مداخلت کے دوران تمام جہادی امریکہ اور دوسرے م ممالک کی طرف سے لائے گئے تھے اور افغانستان میں روسی انخلاء کے بعد وہ وہیں رہ گئے-

دوسری طرف اخبار ’یو ایس اے ٹو ڈے‘ نے اپنے صفحہ اول پر ایک کوور سٹوری میں کہا ہے کہ پاکستانی اور برطانوی انٹیلیجنس ایجینیسوں کے جانب سے دہشتگردی منصوبے کی اطلاعات ملنے پر امریکی تحقیقاتی اور سیکیورٹی اداروں نے ان کو مکمل طور پر خفیہ رکھا اور ایف بی آئی کے دو سو ایجنٹون نے ملک کی طول و عرض میں مشتبہ ’سبجیکٹس‘ پر نظر رکھی اور وفاقی عدالت سے امریکہ میں ملک کے باہر سے آنے والے ٹیلیفون اور باہر جانے والے ٹیلفوں سننے کے لیئے وارنٹ حاصل کیے۔

اخبار ’یو ایس اے ثوڈے‘ نے لکھا ہے البتہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وفاقی تحقییقاتی اداروں نے بغیر وارنٹ حاصل کیے یہ ٹییلفون سنے تھے یا نہیں۔ بحرحال اخبار لکھتا ہے کہ مہینوں کی تحقیقات کے بعد امریکی سکیورٹی ایجینسیوں نے لندن سازش سے بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق رکھنے والے عناصر کی امریکہ میں موجودگي کو خارج از امکان قرار دیا-

اگرچہ بہت سے امریکی لندن سازش کی ناکامی منکشف ہونے کے بعد امریکہ میں سکیورٹی کے انظامات کو مکمل طور پر کافی نہیں سمجھتے لیکن سیکورٹی اور تحقیقاتی ادادوں کی طرف سے صورتحال کافی حساس بنی ہوئي ہے-

لندن سازش کے پکڑے جانے کے چوبیس گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں پولیس نے ریاست اوہائیو اور مشی گان سے تعلق رکھنے والے تین عرب نژاد باشندوں کو مقامی وال مارٹ سٹور سے سیل فونوں کے ایک سو سیٹ خریدنے پر دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار کیا۔ ان گرفتار شدگان، جن کا تعلق لبنان اور فلسطین کے مغربی کنارے سے ہے، کے وکلاء اور عزیز او اقارب کا کہنا تھا کہ انہیں انکے ناموں، رنگ اور چمڑی کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور یہ لوگ سستے داموں ٹیلیفون خرید کر منافع پر بیچنا چاہتے تھے۔ ’یہ لوگ منافع پرستی اور اپنے عرب ہونے کا شکار ہوئے ہیں ‘ا نکے ایک عزیز نے مقامی اخبار کے نمائئندے سے کہا۔ بعد میں اپنی تحقیقات میں ایف بی آئی نے بھی ان گرفتار شدگان کا دہشت گردی سے تعلق ہونے کے امکان کو رد کردیا-

امریکی وفاقی تحقیقی ادارے ان تبادلے میں آئے ہوئے گیارہ میں سے نو مصری طلبہ کو بھی تلاش کررہے ہیں جن کو مونٹانا کے ایک کالج میںحاضر ہونا تھا اور حاضر نہیں ہوئے-

ادھر برطانوی اخبارات نے لکھا ہے کہ پاکستان میں لندن سازش سے تعلق کے شبہ میں مزید پندرہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے- پاکستان میں ہیومن رائٹس واچ کے نمائندے نے ان اخبارات کو پاکستان میں دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار شدگان کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان میں ماجسٹریٹ نوکر شاہی سے ہوتے ہیں اورممکن ہے کہ گرفتار شدگان پر تششد ہوا ہو-

اور منگل کے ’نیویارک ٹائمز‘ نے امریکی محکمہ انصاف کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ دہشتگردی کے متعلق برطانوی قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جن میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیئے لچک موجود ہے-

’ناکام منصوبہ‘
برطانوی اخبارات کیا کہتے ہیں
پولیس اہلکاربرطانیہ میں گرفتاریاں
مقامی لوگ، ہمسائے کیا کہتے ہیں۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد