’پاکستان کی نہ تصدیق نہ تردید‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے لندن سازش کے سرکردہ ملزم راشد رؤف سے پوچھ گچھ کے لیے برطانوی تفتیش کاروں کی ایک ٹیم کی اسلام آباد میں موجودگی کے متعلق کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتیں۔ جمعرات کی شام جب ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’میں اس وقت نہ یہ تصدیق کرتی ہوں کہ برطانوی ماہرین کی کوئی ٹیم اسلام آباد آئی ہے اور نہ ہی اسکا انکار کرتی ہوں،۔ ایک انگریزی روزنامے ڈان نے سرکاری ذرائع سے خبر شایع کی ہے کہ برطانیا کے انسداد دہشت گردی سیل کی چھ رکنی ٹیم اسلام آباد آئی ہے اور وہ راشد رؤف کو اپنی تحویل میں لے گی اور انہیں اپنے ملک لانے کے لیے پاکستانی حکام سے بات چیت کرے گی۔ اخبار نے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے حوالے سے کہا ہے کہ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ برطانوی قانونی ماہرین کی ایک ٹیم اسلام آباد پہنچ چکی ہے کیونکہ راشد رؤف برطانوی شہری ہیں جو تمام پہلوؤں پر بات چیت کرے گی۔ وزیر داخلہ سے جب تصدیق کے لیے دن بھر کئی بار رابطے کی کوشش کی تو وہ تاحال دستیاب نہیں ہوسکے۔ اس بارے میں جب اسلام آباد میں قائم برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان ایڈن لڈل سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ برطانوی قانونی ماہرین یا تفتیش کاروں کی اسلام آباد میں موجودگی سے وہ لاعلم ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جمعرات کے روز شام گئے تک برطانوی حکومت نے راشد رؤف کو ان کے حوالے کرنے کا نہیں کہا۔ پاکستانی اور برطانوی حکام لندن سے امریکہ کے لیے جانے والی پروازوں کو فضا میں تباہ کرنے کے خود کش منصوبے کا راز اس وقت کھلا جب پاکستان نے راشد رؤف نامی برطانوی شہری کو بہاولپور سےگرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد برطانیہ کے مختلف علاقوں سے دو درجن کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا اور پاکستان میں بھی مزید گرفتاریاں ہوئیں۔ پاکستانی حکام تاحال گرفتار ہونے والوں کے نام تو کیا تعداد تک بتانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ البتہ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم اپنے جاری کردہ تحریری بیان میں بتا چکی ہیں کہ یہ منصوبہ افغانستان میں موجود القائدہ کے سرکردہ رہنماوں نے بنایا تھا اور اس پر عمل کرنے والوں میں راشد رؤف سرفہرست ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب تک پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان اور اسلام آباد میں قائم برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کی جانب سے برطانوی ماہرین کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں بتانے سے گریز کرنے سے وہ سمجھتے ہیں کہ اس بارے میں شائع شدہ خبروں کے درست ہونے کے تاثر کو تقویت ملتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کی جانب سے ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کہ وہ برطانوی نظام قانون کی وجہ سے آئندہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچ سکیں۔ | اسی بارے میں لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟12 August, 2006 | پاکستان پاکستانی پریس: مبینہ دہشتگردی منصوبہ 11 August, 2006 | پاکستان ہیتھرو:ایک تہائی پروازیں منسوخ13 August, 2006 | آس پاس ’طیارے سازش‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس بلیئر سے برطانوی مسلمانوں کا مطالبہ12 August, 2006 | آس پاس برطانیہ، امریکہ میں تفتیش جاری 12 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||