’طیارہ سازش: سرغنہ افغانستان میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے اڑنے والے طیاروں کو تباہ کرنے کی مبینہ سازش کا اہم کردار شمالی مشرقی افغانستان کے پہاڑی علاقے میں روپوش ہے۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معلومات برطانوی باشندے راشد رؤف سے پوچھ گچھ کے دوران سامنے آئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سازش تیار کرنے والا مبینہ شخص القاعدہ کا سینئر رہنما ہے۔ راشد کو گزشتہ دنوں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم افغانستان نے پاکستانی الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اب اس گروہ کے لیئے پناہ گاہ نہیں رہی ہے۔ برطانیہ میں اس سازش کے سلسلے میں بیس سے زائد افراد گرفتار ہیں جن سے آج کل تفتیش جاری ہے۔ اس سے قبل ایک پاکستانی اہلکار کا کہنا تھا کہ راشد رؤف شاید اس سازش کے سرغنہ تو نہیں تھے لیکن وہ برطانیہ میں القاعدہ کے ساتھ کام کرنے والے افراد کے ساتھ اہم رابطہ کار تھے۔ ملزم کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ سنہ 2002 میں برطانیہ سے پاکستان آئے تھے اور ان کے القاعدہ تنظیم کے ساتھ قریبی روابط بن گئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کی تفتیش کے سلسلے میں مزید چھ افراد کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم انہوں نے ابھی ان کی شناخت کرنے سے انکار کر دیا۔ سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرگرم انتہا پسندوں کی مالی امداد کرنے والوں کا سراغ لگانے کی کوششیں ہو رہی ہیں تاہم یہ رپورٹیں بے بنیاد ہیں کہ زلزلے کے لیئے دی گئی امداد میں سے کچھ حصہ ان لوگوں کے پاس گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کی نہ تصدیق نہ تردید‘17 August, 2006 | پاکستان برطانیہ نہیں بھجوایا جا رہا: پاکستان15 August, 2006 | پاکستان ’ملزم کے القاعدہ سے قریبی روابط‘ 15 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||