برطانیہ نہیں بھجوایا جا رہا: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت نے تاحال راشد رؤف کو اُن کے حوالے کرنے کا نہیں کہا تاہم برطانوی سیکورٹی ایجنسیز کو تمام تر تحقیقات سے مطلع کیا جارہا ہے۔ پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے لندن منصوبے کے متعلق کئی سوالات کے باوجود بھی کوئی اضافی معلومات نہیں دیں بلکہ انہوں نے اس بارے میں میڈیا پر خبریں گھڑنے کا الزام لگایا۔ ایک سوال پر تسنیم اسلم نے کہا کہ برطانیہ نے باہمی قانونی مدد کے لیے کہا ہے اور پاکستان ان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔ لیکن انہوں نے براہ راست اس بات کی تصدیق نہیں کی آیا برطانوی تفتیش کار پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر گرفتار ہونے والوں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق راشد رؤف کو میجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے ریمانڈ لے لیا گیا ہے اور عدالتی عمل شروع ہوگیا ہے۔ تاہم ترجمان نے کہا کہ وہ فی الوقت یہ نہیں بتا سکتیں کہ کتنے افراد پاکستان میں گرفتار ہوئے ہیں اور ان کی شہریت کیا ہے۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ فضا میں طیاروں کو تباہ کرنے کا منصوبہ افغانستان میں موجود القائدہ کا بنایا ہوا ہے۔ راشد رؤف کے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ صوبہ پنجاب کے ایک شہر سے گرفتار ہوئے تھے۔ جب ایک صحافی نے کہا کہ بہاولپور سے تو ترجمان نے کہا کہ جب آپ کو پتہ ہے تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اس پر ایک دوسرے صحافی نے کہا ’ پھر آپ خبریں گھڑنے کا الزام لگاتی ہیں۔‘ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ گرفتار شدگان یا اس سازش میں ملوث افراد کے پاکستان میں موجود کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس بارے میں سرکاری ذرائع سے منسوب جو بھی خبریں شائع ہوئی ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ ان کے بقول کسی سرکاری اہلکار نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ بیس یا تیس تحقیقات ہونے کی خبریں بھی درست نہیں اور نہ ہی دیگر یورپی ممالک تفتیش میں پاکستان کے ساتھ شریک ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ طیاروں کو فضا میں تباہ کرنے کے منصوبے کے عالمی پہلو ہیں اور کئی جگہوں پر اس بارے میں تفتیش ہورہی ہے۔ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گھر میں نظر بند کیے جانے کے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کا نہ تو لندن سازش سے تعلق ہے اور نہ کسی دہشت گردی کے واقعے سے۔ ان کے مطابق انہوں نے کچھ بیانات ایسے دیے تھے کہ انہیں نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلہ میں حافظ سعید کی گرفتاری کا مطالبہ ہوتا رہا ہے۔ بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان ایسے کسی ملک سے تعاون نہیں کرسکتا جو ان سے تعاون نہ کرے اور محض الزامات لگانے کا عادی ہو۔ انہوں نے لندن سازش کی مثال دی اور کہا کہ برطانیہ نے اعتماد کرتے ہوئے تعاون کیا اور پاکستان کی مدد سے منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ ممبئی بم دھماکوں کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ تاحال بھارتی حکومت نے پاکستان کو کوئی شواہد پیش نہیں کیئے کہ ان کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑنے اور امن مذاکرات کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے من گھڑت خبریں شائع کرکے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے لیکن ’ پاکستان دہشت گردی کا محور یا مرکز نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والا صف اول کا ملک ہے۔‘ سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمیشنر پر حملے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی وہ یہ نہیں کہہ سکتیں کہ آیا اس حملے کا نشانہ ہائی کمشنر تھے کیونکہ ابھی تحقیقات ہورہی ہے۔ خطے کے دیگر ممالک میں تعینات پاکستانی سفارتکاروں کے تحفظ کے بارے میں متعلقہ حکومتوں سے رابطے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتیں۔ | اسی بارے میں لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟12 August, 2006 | پاکستان پاکستانی پریس: مبینہ دہشتگردی منصوبہ 11 August, 2006 | پاکستان ہیتھرو:ایک تہائی پروازیں منسوخ13 August, 2006 | آس پاس ’طیارے سازش‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس بلیئر سے برطانوی مسلمانوں کا مطالبہ12 August, 2006 | آس پاس برطانیہ، امریکہ میں تفتیش جاری 12 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||