’شمالی کوریا سے مذاکرات کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ’نیوکلیئر ٹیسٹ‘ کرنے والے ملک شمالی کوریا کے ساتھ متنازعہ معاملات کو پابندیوں کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیئے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران شمالی کوریا کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاملے کے پرامن حل کے لیئے ’چھ ملکی مذاکرات‘ کے عمل کی جلد از جلد بحالی کا خواہاں ہے ’کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پابندیاں مسئلے کا حل نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ تاہم اقوامِ متحدہ کا ایک ذمہ دار رکن ہونے کے ناطے پاکستان سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا پر لگائی جانے والی پابندیوں کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی جانب سے شمالی کوریا پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔ تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ
افغان وزیرِ خارجہ کے طالبان اور پاکستان سے متعلق حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے تسنیم اسلم کا مؤقف تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ افغان وزیرِ خارجہ نے صدر مشرف کے ایک ایسے بیان پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو ایک ماہ قبل دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کو بیان بازی کی بجائے اپنے داخلی معاملات پر توجہ دینی چاہیئے کیونکہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ طالبان کو افغانستان میں اپنی کارروائیوں کے دوران مقامی افغانوں کی مدد حاصل ہے ۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان نے پاک انڈیا تعلقات پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا کہ انڈیا کی دس لاکھ فوج ہماری سرحدوں پر موجود تھی جبکہ آج دونوں ممالک تصفیہء طلب معاملات پر فیصلہ کن بات چیت کر رہے ہیں اور دونوں طرف کی قیادت ان کے حل کی خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خارجہ سیکرٹری سطح پر بات چیت نومبر میں ہو گی تاہم اس سلسلے میں تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔ تسنیم اسلم نے جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ بین کیمون کی بطور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس عہدے کے انتخاب کے دوران بھی ان کی حمایت کی تھی اور پاکستان یہ امید رکھتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت دنیا کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے مثبت کوششیں کریں گے۔ |
اسی بارے میں ’مزید دباؤ اعلان جنگ کے برابرہوگا‘15 October, 2006 | آس پاس جاپان، جنوبی کوریا: پابندیوں کا خیرمقدم15 October, 2006 | آس پاس شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ کردی گئیں14 October, 2006 | آس پاس ’قدیر ایٹمی دھماکہ کےذمہ دار نہیں‘09 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||