شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایٹمی دھماکے کی سزا دینے کے لیے شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ کی ہیں لیکن ان پر نفاذ کیلیے طاقت استعمال نہیں کی جائیگی۔ پابندیوں کے نفاذ کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی اور شمالی کوریا سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کر دے۔ ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کو کسی ایسے مواد تک رسائی حاصل نہیں ہو گی جو اسے اس کے جوہری یا میزائل پروگرام میں مدد دے سکے۔ یہاں تک کہ شمالی کوریا کو روایتی ہتھیاروں کے حصول کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا سے آنے اور شمالی کوریا کو جکانے والے تمام سامان کی تلاشی لی جائے گی۔ تاہم روس اور چین کی مخالفت کی وجہ سے اس قرار دادا میں یہ بات شامل نہیں ہے کہ ان پابندیوں کو نافذ کرنے کے لیے ظاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود پیانگ یانگ کو جوہری پروگرام کے بارے میں ایک سخت پیغام ملے گا۔ شمالی کوریا نے نے ان اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ انہیں امریکہ کی جانب اعلانِ جنگ کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش سمجھے گا۔ اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے بارے میں مفاہمت ہو گئی ہے اور پابندیوں کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی جائے گی۔ دو روز قبل امریکی سفارتکاروں نے اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں پر قرار داد کا مسودہ تقسیم کیا تھا۔ یہ پابندیاں سوموار کو شمالی کوریا کے پہلے ایٹمی تجربہ کے جواب میں لگائی گئی ہیں۔ اس وقت اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے کہا تھا کہ مسودہ جمعرات کو پیش کیا جا رہا ہے، اس پر ووٹنگ جمعہ کو ہوگی اور یہ سنیچر تک منظوری ہو جائے گی۔
دوسری طرف شمالی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ اگر جاپان اور امریکہ سخت ترین پابندیوں کی بات کرتے رہے تو وہ بھی اس کا جواب دے گا۔ شمالی کوریا کہ ایک اہلکار نے جاپان سے کہا ہے کہ وہ جواب میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ سلامتی کونسل کے رکن ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں عائد ہونی چاہئیں تاہم ان پابندیوں کی شدت پر ابھی اتفاق نہیں ہے۔ چین اور روس کے علاوہ جنوبی کوریا بھی ان پابندیوں کے حق میں نہیں تھے۔ اطلاعات کے مطابق چین کو شمالی کوریا آنے جانے والے کارگو جہازوں کے معائنہ کو لازمی بنانے پر بھی اعتراض ہے۔ چین اور جنوبی کوریا کو خدشہ ہے کہ ایسے معائنوں کے رد عمل میں شمالی کوریا فوجی کارروائی کر سکتا ہے جو کہ ان دونوں ممالک کے لیے خطرناک ہے۔ |
اسی بارے میں جوہری دھماکوں کی تصدیق14 October, 2006 | آس پاس شمالی کوریا پر پابندیوں کا مسودہ12 October, 2006 | آس پاس ’شمالی کوریا کو کیسے سزا دیں‘09 October, 2006 | آس پاس ’فوجی کارروائی کا راستہ کھلا ہے‘10 March, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ: بولٹن سفیر مقرر01 August, 2005 | آس پاس جان بولٹن پر ووٹنگ ملتوی27 May, 2005 | آس پاس صدر بش کو دھچکا: بولٹن ’نامنظور‘13 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||