BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 October, 2006, 21:33 GMT 02:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ
جان بولٹن
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ پبندیوں سے پیانگ یانگ کو جوہری پروگرام کے بارے میں ایک سخت پیغام ملے گا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایٹمی دھماکے کی سزا دینے کے لیے شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ کی ہیں لیکن ان پر نفاذ کیلیے طاقت استعمال نہیں کی جائیگی۔


پابندیوں کے نفاذ کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی اور شمالی کوریا سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کر دے۔

ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کو کسی ایسے مواد تک رسائی حاصل نہیں ہو گی جو اسے اس کے جوہری یا میزائل پروگرام میں مدد دے سکے۔ یہاں تک کہ شمالی کوریا کو روایتی ہتھیاروں کے حصول کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ شمالی کوریا سے آنے اور شمالی کوریا کو جکانے والے تمام سامان کی تلاشی لی جائے گی۔

تاہم روس اور چین کی مخالفت کی وجہ سے اس قرار دادا میں یہ بات شامل نہیں ہے کہ ان پابندیوں کو نافذ کرنے کے لیے ظاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود پیانگ یانگ کو جوہری پروگرام کے بارے میں ایک سخت پیغام ملے گا۔

شمالی کوریا نے نے ان اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ انہیں امریکہ کی جانب اعلانِ جنگ کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش سمجھے گا۔

اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے بارے میں مفاہمت ہو گئی ہے اور پابندیوں کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی جائے گی۔

دو روز قبل امریکی سفارتکاروں نے اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں پر قرار داد کا مسودہ تقسیم کیا تھا۔

یہ پابندیاں سوموار کو شمالی کوریا کے پہلے ایٹمی تجربہ کے جواب میں لگائی گئی ہیں۔

اس وقت اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے کہا تھا کہ مسودہ جمعرات کو پیش کیا جا رہا ہے، اس پر ووٹنگ جمعہ کو ہوگی اور یہ سنیچر تک منظوری ہو جائے گی۔

شمالی کوریا
شمالی کوریا نے کہا ہے کہ امریکی دباؤ کی جنگ شروع کر سکتا ہے

دوسری طرف شمالی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ اگر جاپان اور امریکہ سخت ترین پابندیوں کی بات کرتے رہے تو وہ بھی اس کا جواب دے گا۔

شمالی کوریا کہ ایک اہلکار نے جاپان سے کہا ہے کہ وہ جواب میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کے رکن ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں عائد ہونی چاہئیں تاہم ان پابندیوں کی شدت پر ابھی اتفاق نہیں ہے۔

چین اور روس کے علاوہ جنوبی کوریا بھی ان پابندیوں کے حق میں نہیں تھے۔ اطلاعات کے مطابق چین کو شمالی کوریا آنے جانے والے کارگو جہازوں کے معائنہ کو لازمی بنانے پر بھی اعتراض ہے۔

چین اور جنوبی کوریا کو خدشہ ہے کہ ایسے معائنوں کے رد عمل میں شمالی کوریا فوجی کارروائی کر سکتا ہے جو کہ ان دونوں ممالک کے لیے خطرناک ہے۔

جیفری رچلسن ناکامی کیوں ہوئی؟
شمالی کوریا پر امریکی جوہری جاسوسی ناکام
تناؤ کی تاریخ
شمالی کوریا کے جوہری دھماکے سے پہلے کیا ہوا
اسی بارے میں
جوہری دھماکوں کی تصدیق
14 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد