اقوام متحدہ: بولٹن سفیر مقرر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش نے امریکی سینیٹ کی منظوری کا انتظار کیے بغیر ہی وزارت خارجہ کے سابق عہدیدار جان بولٹن کو اقوام متحدہ میں امریکہ کا سفیر مقرر کر دیا ہے۔ مسٹر بش نے کہا کہ مسٹر بولٹن ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں جو امن، سلامتی اور انسانی حقوق کو فروغ دینے کے اقوام متحدہ کے مقاصد میں یقین رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر مسٹر بولٹن کے تقرر کی مخالفت کر رہے تھے کیونکہ ان کے خیال میں وہ اقوام متحدہ میں امیرکہ کے سفیر کے عہدے کے لائق نہیں ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ جب وہ وزارت خارجہ میں مامور تھے، تو انہوں نے خفیہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا اور اپنے عملے کو ڈراتے دھمکاتے تھے۔ صدر بش نے اپنا ایک ایسا اختیار استعمال کیا ہے جس کے تحت سینیٹ کی موسم سرما کی چھٹیوں کے دوران عارضی تقرریاں کر سکتے ہیں۔ مسٹر بولٹن اب اس عہدے پر جنوری دو ہزار سات تک فائز رہ سکتے ہیں۔ مسٹر بولٹن اقوام متحدہ کے کام کرنے کے طریقے کے سخت ناقد ہیں لیکن ان کا کہناہے کہ وہ اقوام متحدہ کو ایک زیادہ موثرادارہ بنانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔ ڈیمورکریٹک پارٹی کے سینئر سینیٹر کرسٹوفر ڈاڈ کہتے ہیں کہ انیس سو اڑتالیس سے اب تک یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ اقوام متحدہ میں ہمارا سفیر اس عارضی تقرر کے اختیار کے تحت بھیجا جارہا ہے۔ "اقوام متحدہ میں ایسا سفری نہیں بھیجا جانا چاہیے، جسے کانگریس کی حمایت حاصل نہ ہو۔" سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی نے دو مرتبہ مسٹر بولٹن کی تقرری پر غور کیا لیکن ہری جھنڈی نہیں دکھائی۔ امریکی ایوان نمائندگان ’سینیٹ‘ میں کل ایک سو اراکین ہیں، جس میں سے حکمران ریپبلک پارٹی کے ارکان کی تعدادا پچپن ہے۔ سینیٹ سے جان بولٹن کی نامزدگی کی منظوری کے لیے سادا اکثریت ہی کافی ہوتی لیکن قانون سازی میں پیدا ہونے والی تاخیر کا اثر زائل کرنے کے لیے اب ساٹھ ووٹوں کی ضرورت تھی۔ ایسی صورتحال میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی اراکین ڈٹے رہتے تو جان بولٹن کی نامزدگی کی توثیق نہیں ہوسکتی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||