بولٹن کے مسئلے پر بش پھر ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش کی جانب سے اقوام متحدہ کے لیے نامزد کردہ سفیر جان بولٹن کی سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے میں وائٹ ہاؤس دوسری بار بھی ناکام ہوگیا ہے۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ اس ناکامی کے بعد امکان ہے کہ اب جب سینیٹ اجلاس نہیں ہوگا تو صدر جارج بش سینیٹ کی منظوری کے بغیر ہی تقرری کا حکم جاری کردیں۔ امریکی ایوان نمائندگان ’سینیٹ‘ میں کل ایک سو اراکین ہیں، جس میں سے حکمران ریپبلک پارٹی کے ارکان کی تعدادا پچپن ہے۔ سینیٹ سے جان بولٹن کی نامزدگی کی منظوری کے لیے سادا اکثریت ہی کافی ہوتی لیکن قانون سازی میں پیدا ہونے والی تاخیر کا اثر زائل کرنے کے لیے اب ساٹھ ووٹوں کی ضرورت ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر حزب مخالف کی جماعت ’ڈیموکریٹک‘ کے حامی اراکین ڈٹے رہے تو اقوام متحدہ میں سفارت کے لیے جان بولٹن کی نامزدگی ایوان میں اس نامزدگی کے معاملے پر تقریروں کے دوران ’ڈیموکریٹس‘ نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کلی طور پر جان بولٹن کی نامزدگی کے مخالف نہیں ہیں۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ ووٹ کی اجازت اس وقت دیں گے جب انہیں جان بولٹن کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہونگیں اور وہ بھی بالخصوص سٹیٹ ڈیپارٹمینٹ میں انکی تعیناتی کے دوران ان کے رویے اور برتاؤ کے متعلق۔ حزب اختلاف کے اس مطالبے کو بش انتظامیہ غیر مناسب قرار دے رہی ہے اور اس سے تعطل پیدا ہوگیا ہے۔ اگر جان بولٹن کی نامزدگی واپس نہیں ہوتی تو امریکی صدر کے لیے سیاسی مشکل پیدا ہو جائے گی۔ صدر کو سینیٹ سے بالا بالا اس تقرری کا اختیار حاصل ہے اور چار جولائی کو سینیٹ کارروائی میں وقفہ کے دوران وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ سن دوہزار سات تک کی مدت والے اس عہدے پر جان بولٹن کی تقرری کا فیصلہ سیاسی مصلحتوں سے ہٹ کر ایک جرات مندانہ قدم ہوگا یا ایک کمزور صدر کی پریشانی کے عالم میں اختیار کی گئی حکمتِ عملی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||