صدر بش کو دھچکا: بولٹن ’نامنظور‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر کے تقرر پر صدر جارج بش کو ایک بڑی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے کیونکہ سینٹ کی ایک کمیٹی نے جان بولٹن کے نام کی توثیق کرنے کی بجائے ان کی نامزدگی کا معاملہ سینیٹ کے سامنے بھیج دیا ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ سینیٹ میں جان بولٹن کے مخالفین ضابطے کی کارروائی کا سہارا لے کر ان کے تقرر کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ سینیٹ کمیٹی میں خود صدر بش کی پارٹی کے ایک رکن نے جان بولٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ماتحتوں کو ہراساں کرتے ہیں اور انٹیلی جنس کی معلومات کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ ریپبلیکن پارٹی کے ایک اہم رکن کے بقول جان بولٹن سفارت کے عہدے کے لیے غلط انتخاب ہیں۔ جان بولٹن کو خارجہ امور کی کمیٹی میں تمام ری پیبلکین ووٹوں کی ضرورت تھی تاکہ ان کی نامزدگی ہو سکے۔ خیال تھا کہ اگر کمیٹی سفارش کر دیتی تو ایوانِ بالا سے اس کی منظوری ہو جاتی۔ ری پیبلیکن سینیٹر جارج وینووچ کا کہنا تھا کہ وہ صدر بش کے انتخاب کی توثیق نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جان بولٹن کے نام کی منظوری کا فیصلہ اب پورے کا پورا ایوانِ بالا کرے۔ ایوانِ بالا میں ڈیموکریٹس کی تعداد چوالیس جبکہ ری پیبلیکن سینیٹرز کی تعداد پچپن ہے۔ جارج وینووچ کہتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ جان بولٹن کے نام کی منظوری نہیں ہو سکے گی۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ امریکی سینٹ جان بولٹن کی سفیر کے عہدے پر تقرری کی منظوری دے دے گی۔ کنڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ جان بولٹن اس عہدے کے لیے بالکل درست آدمی ہیں۔ تاہم خارجہ امور کی کمیٹی کا فیصلہ صدر بش کے لیے کافی ہزیمت کا باعث بنا ہے کیونکہ انہیں دوسری مرتبہ امریکی صدر منتخب ہوئے ابھی چھ ماہ بھی نہیں گزرے۔ اگر امریکی سینٹ جان بولٹن کے نام کی منظوری دے بھی دے تب بھی بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وہ اقوامِ متحدہ میں ‘زخمی‘ حیثیت میں پہنچیں گے۔ پچھلے ماہ بھی جان بولٹن پر خارجہ امور کی کمیٹی نے اس لیے ووٹ موخر کر دیا تھا کہ ان کے ماضی کے بارے میں الزامات سامنے آگئے تھے۔ جان بولٹن اقوامِ متحدہ کے ناقد ہیں او ان پر الزام ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||