شمالی کوریا کے ساتھ تناؤ کی تاریخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے اعلان کے بعد دنیا بھر سے شدید رد عمل ہونے کا امکان ہے۔ لیکن پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ کم از کم گزشتہ چودہ برس سے یہ مسئلہ بین الاقوامی تعلقات میں رستے زخم کی طرح موجود رہا ہے۔ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر تناؤ سنہ انیس سو ترانوے میں اس وقت شروع ہوا جب پیانگ یانگ نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو ان دو مقامات کا معائنہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جس کے بارے میں کوریا نے ادارے کو بتایا نہیں تھا اور ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں جوہری فضلہ (نیوکلیئر ویسٹ) رکھا ہوا ہے۔ اس کے تھوڑا ہی عرصہ بعد شمالی کوریا نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدہ (این پی ٹی) سے بھی الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر تو کورین جزیرہ نما میں صورتحال خاصی خطرناک محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن سفارتی کوششوں سے صورتحال قدرے بہتر ہو گئی اور اگلے ہی سال امریکہ اور شمالی کوریا نے ایک معاہدے پر بھی دستخط کر دیے جس کے تحت شمالی کوریا نے وعدہ کیا کہ وہ اپنا پلوٹونیم والا جوہری پروگرام روک دے گا اور بعد میں اسے مکمل طور پر ترک کر دے گا۔ اس کے جواب میں شمالی کوریا کو جوہری توانائی پیدا کرنے کے لیے مالی امداد ملنا طے پائی تھی لیکن اسے یہ امداد کبھی بھی نہیں ملی۔ سنہ دو ہزار دو میں امریکی صدر جارج بُش نے شمالی کوریا کو بھی’بدی کے محور‘ (ایکسز آف ایول) میں شامل کر دیا جبکہ چند ماہ بعد امریکی اہلکاروں نے کہا کہ انہیں شمالی کوریا کے ایک دوسرے خفیہ جوہری پروگرام کے بارے میں ثبوت مل چکا تھا۔ بقول ان کے اس پروگرام میں یورینیم استعمال کی جا رہی تھی۔ نومبر دو ہزار دو میں امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے انیس سو چورانوے کے معاہدے کے تحت شمالی کوریا کو دیے جانے والے تیل کی ترسیل بھی روک دی۔ اگلے ہی ماہ شمالی کوریا نے یونگ بیون میں واقع جوہری تنصیبات میں کام شروع کر دیا۔
سنہ دو ہزار تین میں پیاگ یانگ بار بار مطالبہ کرتا رہا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔ باالآخر دونوں کے درمیان ایک فارمولے پر اتفاق رائے ہو گیا اور وہ یہ کہ مذاکرات کے لیئے ایک نیا چھ رکنی فورم ترتیب دیا جائے گا جس میں شمالی کوریا کے علاوہ جنوبی کوریا، امریکہ، روس، چین اور جاپان شامل ہوں گے۔ ستمبر دو ہزار پانچ میں آخر کار یہ ممالک معاہدے کا ایک مسودہ تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن اس مسودے میں مشکل موضوعات، مثلاً یہ کہ کیا پیانگ یانگ کے پاس کوئی ایسا یورینیم پروگرام ہے جس کا اس نے ذکر نہیں کیا، سے متعلق سوالات شامل نہیں تھے۔ اس معاہدے نے بھی بعد میں پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔ اِس وقت تک زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہو گئے کہ شمالی کوریا کے پاس ایک یا دو جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اس موقع پر جو سوال باقی رہا وہ یہ تھا کہ کیا شمالی کوریا دھماکہ بھی کرے گا؟ لگتا ہے پیر نو اکتوبر کو اس سوال کا جواب بھی آ گیا ہے۔ | اسی بارے میں شمالی کوریا کی دھمکی07 July, 2006 | آس پاس شمالی کوریا:’اعلان اشتعال انگیز ہے‘03 October, 2006 | آس پاس روس، شمالی کوریا رابطے میں ہیں06 October, 2006 | آس پاس ایران،شمالی کوریا کو تنبیہ 02.06.2003 | صفحۂ اول امریکہ:ایک ساتھ دوجنگیں24.12.2002 | صفحۂ اول شمالی کوریا:نئےتجربوں کی دھمکی05.11.2002 | صفحۂ اول شمالی کوریا: ایٹمی ہتھیاروں کا ’اعتراف‘17.10.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||