 | | | شمالی کوریا نے زیر زمین ایٹمی دھماکہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ |
شمالی کوریا کی طرف سے زیر زمین ایٹمی دھماکہ کرنےکے اعلان پر عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔ امریکہ امریکہ نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی دھماکے پر شدید ردعمل کا اظہار کرے گا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ چین اور جنوبی کوریا سے رابطے میں ہے اور شمالی کوریا کو کوئی ایسا اقدام کرنے سے گریز کرے جس سے علاقے میں کشیدگی پھیلانے کا اندیشہ ہو۔ جاپان جاپان کے وزیر اعظم شنزو ابے نے کہا ہے کہ جاپان شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کرنے کے اعلان سے واقف ہے اور وہ امریکہ اور چین سے مل کر خفیہ معلومات کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بعد وہ اپنا لائحہ عمل تیار کرے گا۔ چین چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایٹمی دھماکوں کے سخت خلاف ہے اور چاہتا ہے کہ شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر دوبارہ واپس آ جائے۔ روس روس نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوراً جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام میں واپس آ جائے۔ برطانیہ برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کرنے کے اعلان کو ایک اشتعال انگیز عمل سمجھتا ہے اور اس پر اپنا بھر پور رد عمل ظاہر کرے گا۔ برطانیہ نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کرنے سے علاقے میں کشیدگی پھیلے گی اور اس کے عالمی دنیا پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فرانس فرانس کے وزیر خارجہ دوستے بلیزی نے شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کو پریشان کن عمل قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مشترکہ ردعمل کا مطالبہ کیا۔ آسٹریلیا آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو سکیورٹی کونسل سے شمالی کوریا کے خلاف مالی، تجارتی، اور ہوائی سفر کی پابندیاں لگانے کی سفارش کرے گا۔ انڈیا بھارت نے شمالی کوریا کی طرف سےایٹمی دھماکہ کرنے پر اسے شدید پریشانی ہے اور اس سے علاقے میں ترقی کی راہوں میں روکاوٹیں پڑیں گی۔ انڈیا نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ شمالی کوریا کی قیادت نے دنیا کی نصیحت پر عمل کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ پاکستان پاکستان دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی دھماکہ علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان چھ فریقی مزاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے اور انہیں یقین تھا کہ بات چیت سے شمالی کوریا کی تشویس دور کی جاسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ خطے کے تمام ممالک اس بارے میں احتیاط برتیں گے۔
|