میزائل ٹیسٹ: شمالی کوریا پر دباؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اعلیٰ امریکی حکام نے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ دو تک مار کرنے والے میزائل کے ’اشتعال انگیز‘ تجربے کا ارادہ ملتوی کردے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا کہ شمالی کوریا کا میزائل کی آزمائش کا ممکنہ تجربہ امریکی نگاہ میں بہت سنگین مسئلہ ہوگا۔ جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی شمالی کوریا کو ایسا ہی انتباہ کیا ہے جبکہ جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ ’ایک دوست کو خطرے میں نہ ڈالے۔‘ شمالی کوریا نے انیس سو ننانوے سے اب تک ایک خود ساختہ پابندی کے تحت میزائل کا کوئی ٹیسٹ نہیں کیا ہے لیکن اب اس نے ایک میزائل کا ایک نیا ماڈل تیار کیا ہے جو الاسکا تک پہنچ سکتا ہے۔ ٹائی پونگ ڈونگ 2 نامی اس میزائل کی مار چھ ہزار کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔
واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کونڈولیزا رائس شمالی کوریا کے میزائل کی ممکنہ آزمائش کے منصوبے کی شدید مخالفت کی۔ انہوں نے کہا: ’میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ اگر شمالی کوریا نے ایسا کوئی تجربہ کیا تو ہمارے نزدیک یہ بڑا سنگین معاملہ ہوگا۔ یہ واقعی ایک اشتعال انگیز عمل ہوگا۔‘ انہوں نے کہا ’ہم اپنے حلیف ممالک سے مشاورت کریں گے لیکن میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ شمالی کوریا کا کوئی بھی تجربہ سنگین ہوگا۔‘ انہوں نے کہ کہ شمالی کوریا نے اتفاق کیا تھا کہ وہ کسی نئے میزائل کا تجربہ نہیں کرے گا۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر جون بولٹن نے کہا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین سے بات کی ہے کہ اگر شمالی کوریا میزائل کا تجربہ کرتا ہے تو اس پر کس طرح کا ردِ عمل ظاہر کیا جائے۔ امریکی ردِ عمل سے کچھ پہلے جاپان کے وزیرِ اعظم جونیچیرو کوئےزومی نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے میزائل ٹیسٹ کیا تو جاپان سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ کو شمالی کوریا کا انتباہ09 April, 2006 | آس پاس پھر شمالی کوریا کی مذمت12 May, 2005 | آس پاس ’دفاع کے لیے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں‘10 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||