’شمالی کوریا کو کیسے سزا دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے جوہری دھماکے کے بعد اسے سزا دینے کے مختلف طریقوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ سلامتی کونسل شمالی کوریا پر مالی، تجارتی اور کارگو کی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ابتدائی طور ہر تیار کیے گئے خاکے میں شمالی کوریا کے ہوائی اور بحری جہازوں کو دنیا کے کسی ایئرپورٹ یا بندرگاہ پر آنے کی اجازت نہ د ینے پر غور ہو رہا ہے۔ ادھر شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اس کو اپنے سائنسدانوں پر فخر ہے جنہوں نے ملک کو جوہری صلاحیت عطا کی ہے۔ ایران دنیا کا واحد ملک ہے جس نے شمالی کوریا کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا شمالی کوریا کا حق ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ شمالی کوریا پر پابندیوں کا مقصد اسے بین براعظمی میزائیل اور وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو تیاری کو روکنے پر مرکوز ہونا چاہیے۔ جان بولٹن نے کہا ہے کہ کونسل نے شمالی کوریا کی مذمت کرنے میں جس اتفاق اور سرعت کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ شمالی کوریا نےکہا ہے کہ اس نے کامیابی کے ساتھ اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کر لیا ہے جس میں کسی قسم کی تابکاری کا اخراج نہیں ہوا۔ اس ایٹمی تجربے کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میلوں دور آسٹریلیا میں بیٹھے ماہرین نے بھی خصوصی آلات کی مدد سے اس زیرِ زمین ٹیسٹ کا پتہ لگا لیا۔ روس کے وزیرِ دفاع سرگئی ایواناو کا کہنا ہے کہ اس تجربے میں پانچ سے پندرہ کلوٹن تک تباہی پھیلانے کی طاقت تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس تجربے میں استعمال ہونے والا مواد کم و بیش اسی وزن اور پیمائش کا تھا جو انیس سو پینتالیس میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرایا گیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ شمالی کوریا نے جس تجرے کا دعویٰ کیا ہے اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی بھرپور جوہری بم ہے یا اس سے ہتھیاروں کو ہدف پر داغا جا سکتا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر دباؤ ہوگا کہ وہ ایک قرارداد کے ذریعے شمالی کوریا کی نہ صرف مذمت کرے بلکہ اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں بھی عائد کرے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ انٹیلیجینس کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ شمالی کوریا میں ایک مشتبہ مقام پر ایک زیرِ زمین سرگرمی ہوئی ہے جبکہ امریکہ نے یہ کہا ہے کہ یہ تجربہ اشتعال انگیز ہے جبکہ چین نے بھی اسے ڈھٹائی قرار دیا ہے۔ چین نے، جسے عموماً شمالی کوریا کا حلیف سمجھا جاتا ہے، شمالی کوریا کے تجربے کی مکمل طور پر مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تجرے کے لیئے بین الاقوامی برادری کی آفاقی مخالفت کو تسلیم کرنے سے انکار کے مترادف ہے۔ شمالی کوریا نے اپنے تجربے کو ایک تاریخی تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شمالی کوریا کے لوگوں کے لیئے خوشی اور مسرت کا باعث ہے۔ شمالی کوریا نے گزشتہ ہفتے جوہری دھماکہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
جنوبی کوریا کے صدر روہ مویون نے اعلی سکیورٹی حکام کا اجلاس طلب کر لیا ہے اور اپنی افواج کو چوکس رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے کہا کہ اس ایٹمی تجربے سے خطے کی سکیورٹی صورتحال بدل چکی ہے۔ جنوبی کوریا میں حکام نے نشاندہی کی ہے کہ تجربہ شمالی کوریا کے شمالی صوبے ہیم ینگ میں دھماکہ کیا گیا ہے۔ جاپان نے شمالی کوریا کے دھماکے کے بعد ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔ جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کے مطابق وزراء اور اعلی سرکاری حکام کو ایک ایمرجنسی اجلاس کے لیئے طلب کر لیا گیا ہے۔ چین اور جاپان نے اتوار کو بیجنگ میں ایک سربراہ ملاقات کے بعد اعلان کیا تھا کہ شمالی کوریا کی طرف سے جوہری تجربے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شمالی کوریا نے یہ ایٹمی ترجبہ تمام تر بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے۔ شمالی کوریا کے دھماکے کی خبر سے جنوبی کوریا اور ایشیاء کے دیگر ممالک کی سٹاک مارکٹوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ خطے کے ملکوں کی کرنسی کی قیمتیں بھی گری ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ سیسمک اعدادو شمار سے ایٹمی تجربے کی تصدیق ہوتی ہے۔ جان ہاورڈ نے آسٹریلیا کی پارلیمان کے سامنے ایک بیان میں شمالی کوریا کے ایٹمی تجربے کی تصدیق کی۔ | اسی بارے میں شمالی کوریا کی دھمکی07 July, 2006 | آس پاس شمالی کوریا’ہتھیار بنانےکا عہد‘23 September, 2006 | آس پاس شمالی کوریا:’اعلان اشتعال انگیز ہے‘03 October, 2006 | آس پاس روس، شمالی کوریا رابطے میں ہیں06 October, 2006 | آس پاس شمالی کوریا پر پابندیوں کا ووٹ16 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||