BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 October, 2006, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قدیر ایٹمی دھماکہ کےذمہ دار نہیں‘

ڈاکٹرعبد القدیر
ڈاکٹرعبد القدیر نے2004 میں جوہری پھیلاؤ کا اقرار کیا تھا۔
پاکستان نے شمالی کوریا کی جانب سے جوہری بم کا تجربہ کرنے کے اعلان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے جوہری پروگرام اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نیٹ ورک کے کسی تعلق کی سختی سے تردید کی ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے موقع پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان کے نیٹ ورک کا شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام یورینیم جبکہ شمالی کوریا کا پلوٹونیم پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے پہل کرتے ہوئے نہیں بلکہ دفاعی مقصد کی خاطر اپنا جوہری پروگرام شروع کیا تھا۔

انہوں نےاپنا تحریری بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری تجربہ سے خطے کی ترقی عدم استحکام کا شکار ہوگی۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے شمالی کوریا پر زور دیا تھا کہ وہ دھماکہ نہ کرے لیکن انہیں افسوس ہے کہ شمالی کوریا نے عالمی برادری کی اپیل مسترد کردی۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان چھ فریقی مذاکرات کی حمایت کرتا رہا اور انہیں یقین تھا کہ بات چیت سے شمالی کوریا کی تشویش دور کی جاسکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ خطے کے تمام ممالک اس بارے میں احتیاط برتیں گے۔

افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر ڈیوڈ رچرڈز کی اسلام آباد آمد اور صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے طالبان کی مدد کے متعلق بیانات پر تبصرے سے گریز کیا۔

تسنیم اسلم نے اس بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں واضح طور پر کہا ہوا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی شدت پسند کارروائیاں افغانستان کے اندر سے ہورہی ہیں۔

انہوں نے رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں لکھا ہوا ہے کہ قندہار، ارزگان، ہلمند اور فرح طالبان کے اہم مراکز ہیں۔

بغلیہار ڈیم کے تنازعہ کے متعلق انہوں نے کہا کہ غیر جانبدار عالمی ماہر کا فیصلہ رواں سال کے آخر تک متوقع ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کے نمائندوں کو چھبیس اکتوبر تک اپنا موقف پیش کرنے کو کہا گیا ہے اور نومبر کے پہلے عشرے میں واشنگٹن میں ایک اجلاس بھی ہونا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ تاحال بھارت نے ممبئی بم دھماکوں کے بارے میں پاکستان کو کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔

اسی بارے میں
ایٹمی منڈی: جواب طلب سوالات
25 December, 2004 | پاکستان
ڈاکٹر قدیرخان پر نئی کتاب
28 October, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد