ڈاکٹر قدیر آپریشن کے لیئے ہسپتال میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا آپریشن سنیچر کی شام متوقع ہے۔ ستر سالہ ڈاکٹر خان کو مثانے کا کینسر لاحق ہے۔ انہیں جمعرات کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سرکاری حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران ان کے مختلف ٹیسٹ ہوئے اور اب ان کے معالج ان کے آپریشن کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان حکومت نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا تھا کہ نظر بند جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو آپریشن کے لیئے کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان کے مثانے کے کینسر کا آپریشن کیا جائے گا۔ آغا خان ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی بھی انفارمیشن دینے سے قاصر ہیں کیونکہ یہ حساس نوعیت کا مسئلہ ہے، اس سلسلے میں آئی ایس پی آر سے رابطہ کیا جائےآ جبکہ آئی ایس پی آر کراچی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے اس بارے میں سنیچر کی شام پریس ریلیز جاری کیا جائے گا۔ ڈاکٹر خان کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کی اجازت نہیں ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان فروری 2004 سے نظر بند ہیں۔ ان پر جوہری راز چند دوسرے ممالک تک پہنچانے کا الزام تھا جس کا اعتراف انہوں نے ٹیلیویژن پر ایک تقریر کے دوران کیا تھا۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹر قدیر خان: کینسر کی تشخیص22 August, 2006 | پاکستان قدیر خان: علاج کے لیئے کراچی منتقل06 September, 2006 | پاکستان ڈاکٹر قدیر آپریشن ’کھٹائی میں‘07 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||