ڈاکٹر خان: مستقبل مشرف کے ہاتھ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو ایٹمی معلومات فراہم کرنے کے مبینہ اعتراف کے بعد اس بات کا فیصلہ کہ ان پر کن قوانین اور کس طریقے سے مقدمہ چلایا جائے، صدر مشرف کے زیر صدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کرے گی ۔ ڈاکٹر خان کی طرف سے اس مبینہ اعتراف کا اعلان اتوار کی شب اسلام آباد میں ایک فوجی جنرل نے سینئر صحافیوں کو دی جانے والی ایک خصوصی بریفنگ میں کیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر، انکے آٹھ ماتحت ملازمین، ایک مبینہ کاروباری شراکتی دوست اور تین ریٹائرڈ فوجی افسران کوایٹمی معلومات برامد کرنے کا قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔ ڈاکٹر خان اور ڈاکٹر فاروق پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں اہم کردار گردانا جا رہا ہے جبکہ بعض دوسروں پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہیں یہ سب معلوم تھا لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کی اور متعلقہ حکام کو آگاہ نہیں کیا۔ ڈاکٹر خان کے تحریری بیان کی روشنی میں تیار کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ صدر جنرل مشرف کے حوالے کردی گئی ہے جو چند روز میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس بلائیں گے۔ اس اجلاس میں یہ فیصلہ ہو گا کہ ڈاکٹر خان کے خلاف کارروائی کیلئے خصوصی ٹریبونل بنایا جائے یا عام عدالت یا فوجی عدالت میں کارروائی کی جائے۔ ان معاملات کا فیصلہ بھی یہی اتھارٹی کرے گی کہ کیا سماعت بند کمرے میں ہو یا کھلی عدالت میں، اور یہ کہ ان سائنسدانوں پر کن قوانین کے تحت مقدمات چلائے جائیں۔ ان قوانین میں نیوکلیئر ایکسپورٹ قوانین ، ملٹری ایکٹ اور آفیشل سیکریسی ایکٹ شامل ہیں۔ جن افراد کو ڈی بریفنگ کے بعد قصوروار ٹھہرایا گیا ہے ان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے علاوہ ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر مجید، ڈاکٹر زبیر، ڈاکٹر نسیم، ڈاکٹر منصور، ڈاکٹر اشرف عطا، یاسین چوہان، ٹیکنیشن سعید، ڈاکٹر قدیر کا مبینہ بزنس پارٹنراعزاز جعفری، بریگیڈیر (ر) سجاول، بریگیڈیر (ر) تاجور اور میجر(ر) اسلام الحق شامل ہیں۔ متعلقہ حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ پہلے ڈاکٹر خان نے کچھ بھی ماننے سے انکار کردیا تھا لیکن بعد میں جب ان کو تحریری ثبوت اور ٹیپ پیش کئے گئے تو ’انہوں نے تسلیم کر لیا کہ انہوں نے لیبیا، ایران اور شمالی کوریا کو یورینیم کو بم میں استعمال ہونے کی سطح تک افزودہ کرنے والی مشینیں، گیس، فلو میٹر، فیول، ڈرائنگز، ڈیزائین اور آلات فراہم کئے ہیں۔ فوجی حکام کا یہ بھی دعوی ہے کہ ڈاکٹر خان چاہتے تھے کہ پاکستان کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک بھی جوہری طاقت بن جائیں تاکہ اکیلے پاکستان پر دباؤ نہ رہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے شمالی کوریا کو کیوں معلومات اور آلات دیئے ہیں وہ تو اسلامی ملک نہیں تھا تو فوجی حکام کے مطابق ڈاکٹر قدیر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے کیونکہ میزائیل ٹیکنالوجی دی اس لئے ان سے تعاون کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے شمالی کوریا سے میزائیل ٹیکنالوجی نقد رقم کے عوض خریدی تھی۔ ڈاکٹر خان سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا کہ ان پر بینظیر بھٹو کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) امتیازاور جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کا دباؤ تھا کہ وہ ایران کو ٹیکنالوجی فراہم کریں اور ذوالفقار علی بھٹوکے ذاتی معالج ڈاکٹر نیازی نے ایرانی سائسنداوں کے ساتھ کراچی میں انکی ملاقات بھی کروائی۔ تاہم فوجی ترجمان نے کہا کہ بینظیر بھٹو یا نواز شریف کی حکومتوں پر کوئی الزام نہیں۔ پاکستان بطور ریاست اور سابق حکومتیں، فوج یا انٹیلیجنس ادارے ایٹمی ٹیکنالوجی برآمد کرنے میں ملوث نہیں پائے گئے۔ صرف چند افراد نے ذاتی لالچ میں آ کر ایسا کیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے مرزا اسلم بیگ، جنرل جہانگیر کرامت اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوالفقار علی (جو واپڈا کے سربراہ تھے) سے بھی تفصیلی پوچھ گچھ کی ہے۔ لیبارٹریز کی اندرونی سکیورٹی کا انچارج بریگیڈیر رینک کا افسر ہوتا تھا اور جوہری کمانڈ اتھارٹی نے سات فروری دو ہزار کو جب حفاظتی نظام سنبھالا اس سے قبل بریگیڈیر تاجور سکیورٹی نظام کے سربراہ تھے۔ تین گھنٹے کی بیک گراؤند بریفنگ کے دوران صحافیوں کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے گئے کہ جب منتخب وزراء اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو لیبارٹریز جانے کی اجازت نہ ملی اور تب کے آرمی چیف اسلم بیگ بھی کہتے ہیں کہ ان کو رپورٹ نہیں ملتی تھی تو آخر ذمہ دار کون ہے؟ ان سوالات کا جواب یہ دیا گیا کہ سکیورٹی نظام میں کوتاہی تھی اور قومی ہیروز پر شک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کو انٹیلیجنس اور سکیورٹی کی ناکامی اور نااہلی بھی کہا جاسکتا ہے۔ بتایا گیا کہ سن دوہزار میں ڈاکٹر خان ایک چارٹرڈ طیارے کے ذریعے بعض آلات شمالی کوریا بھیج رہے تھے تو آئی ایس آئی کو پتہ چل گیا اور انہوں نے سامان قبضے میں لے لیا۔ پوچھا گیا کہ اس وقت ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ ہوئی اور انکو صدارتی مشیر کیوں بنایا گیا تو جواب تھا کہ ان کو ’ کے آر ایل سے تو بہر طور ہٹا دیا گیاتھا۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر خان نے ایرانی حکام کو خط لکھا تھا کہ وہ انکا نام نہ لیں اور جو لوگ مر چکے ہیں، مثلاً ڈاکٹر نیازی اور لیفٹینٹ جنرل (ر) امتیاز وغیرہ، ان کا نام لیں۔ تاہم انکا دو صفحات کا خط پکڑا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹر خان نے اپنے دفاع کیلئے ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کرا کے لندن سے بیٹی کو بلوا کر کہا کہ وہ یہ پرائیویٹ ٹی وی چینل کو اس وقت دے دیں جب وہ گرفتار ہو جائیں۔ فوجی افسر کے مطابق وہ ویڈیو ٹیپ بھی پکڑی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||