ڈاکٹر قدیر آپریشن ’کھٹائی میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے معتوب جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مثانے کا آپریشن کٹھائی میں پڑ گیا ہے اور معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ جمعرات کے روز اپنی اشاعت میں ایک اردو روزنامہ نوائے وقت نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کراچی کے آغا خان ہسپتال نے باہر کے ڈاکٹرز کو اپنے ہسپتال میں ڈاکٹر خان کے آپریشن میں شریک نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ڈاکٹر خان کی کراچی منتقلی میں تاخیر ہوئی ہے اور اب حکومت اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال الشفا میں ڈاکٹر خان کا آپریشن کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق حکومت نے آغا خان ہسپتال کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اپنے ڈاکٹرز اسلام آباد کے ہسپتال میں آپریشن کے لیے فراہم کرے لیکن انہوں نے اس سے بھی انکار کیا ہے۔ اس بارے میں جب فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی وضاحت، تصدیق یا تردید کیے بنا کہا کہ وہ ہر خبر پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو بیان جاری کیا ہے کہ انہیں کراچی منتقل کیا جارہا ہے اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا ڈاکٹر خان کو کراچی منتقل کیا جا چکا ہے توانہوں نے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ پاکستان حکومت نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا تھا کہ نظر بند جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو آپریشن کے لیئے کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے مثانے کے کینسر کا آپریشن کیا جا سکے۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ بائیس اگست کو ڈاکٹر خان کے مثانے میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور اس کے بعد ان کے علاج کے لیئے فوجی اور سویلین ہسپتالوں کے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ بیان کے مطابق ڈاکٹر خان کے ذاتی معالج سمیت تمام ڈاکٹرز نے متفقہ طور پر تجویز کیا کہ ان کا آپریشن کیا جائے اور اس غرض سے بہت جلد انہیں کراچی لے جایا جارہا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کیونکہ ’ڈاکٹر خان کی صحت عوامی دلچسپی کا معاملہ ہے اس لیئے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کرے‘۔ بیان کے مطابق آپریشن کرنے کے لیئے ڈاکٹر خان اور ان کے اہل خانہ کی رضامندی حاصل کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جوہری پھیلاؤ کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے کے اقرار کے بعد فروری سن دو ہزار چار میں وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے برطرف کر کے کئی ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ڈاکٹر خان نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا ریاستی ٹی وی چینل پر اعتراف کیا تھا۔ اس معافی کے بعد ان کے ساتھیوں کو رہا کردیا گیا تھا لیکن ڈاکٹر خان اس وقت سے فوج کے سخت پہرے میں اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی جوہری ادارے کے اہلکاروں یا امریکی تفتیش کاروں کو ڈاکٹر قدیر سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ | اسی بارے میں ڈاکٹر قدیر خان: کینسر کی تشخیص22 August, 2006 | پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کے راز صیغۂ راز میں26 May, 2006 | پاکستان ڈاکٹر خان سے ملاقات23 August, 2006 | پاکستان ’کے آر ایل‘ کے ڈاکٹر فاروق نظر بند29 April, 2006 | پاکستان ’جوہری پھیلاؤ کی تحقیقات بند‘02 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||